اَب یہ کوئی ضروری تو نہیں کہ حکمرانواور سیاستدانوں کی طرح ہرپیٹ بھر ے کو ہی ڈکار آئے،اکثرپاکستا نی عوام کو تو خالی پیٹ بھی ڈکاریں آتی ہے مگراِس پرہمارے حکمران اور سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اِن کی طرح پیٹ بھرے عوام کی ڈکاریں ہیں دراصل عوام کو اکثر مہنگا ئی کی وجہ سے خالی پیٹ رہنے کے باعث ڈکاریں آتی ہیں یہ حقیقت ہے کہ سرزمین پاکستان میں غربت اور بھوک و افلاس کے خاتمے اور عوام الناس کے بنیادی حقوق کی فراہمی کے جو کام اور اقداما ت حکومتوں کو کرنے کے تھے وہ تو حکومتوں نے کئے نہیں جو آیااس نے مزے سے حکومت کی قومی خزا نے سے مزے لوٹے اللے تللے کئے اور کمر پر ہاتھ صاف کرکے چلتابنا یہی وجہ ہے کہ ستر سالوں سے حکمران تو امیر سے امیر تر ہوگئے اور بیچارے محب وطن عوام غریب سے غریب تر ہوتے چلے گئے اِس بنا پر غریبی اور امیری کا جتناواضح فرق پاکستان میں نظر آتاہے اُتنا تو شائد؟؟
اِس فرق کو کوئی تو ختم کرتا مگر کسی نے کبھی اس جانب توجہ ہی نہیں دی اور کو ئی سول حکمران دیتا بھی کیوں ؟ یہی تو اِ ن کی اقتدار کی بنیاد اور سیاستدانوں کی سیاست کی بڑی وجہ ہے مگر آج جب مُلک کے غریبوں اور مفلوک الحال عوام کے آنسو صاف کرنے اور اِنہیں غاصب و قا بض حکمرانوں سے حق دلانے کے لئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار سپہ سالارِ غریبان وطن بن کر سا منے آرہے ہیں تو ماضی و حال اور مستقبل کے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے چیلے چپاٹے نمابیوروکریٹس پر پاگل پن کے دورے پڑ رہے ہیں اور یہ چیختے چلاتے پھر رہے ہیں کہ یہ(چیف جسٹس میاں ثاقب نثار) جو کام کررہے ہیںیہ کام تو حکومت کے کرنے کے ہیں شخصیات اورادارے اپنے حدود میں رہ کر کام کریںاور اِس طرح یہ لوگ چیف جسٹس کو عوام کا رائٹ حق دلانے کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے اَب چیل کی طرح چیختے چلاتے پھر رہے ہیں ۔سوچیں کہ آج اگروفاق و صوبائی حکومتوں کے مرکزی اور ضلعی اداروں میں تعینات حکمرانوں اور سیاستدانوں کے چیلے چپاٹے بیوروکریٹس ایمانداری اور نیک نیتی سے عوامی مسائل حل کررہے ہوتے اور عوام کو اِن کے تمام بنیادی حقوق ترجیحی بنیادوں پر پہنچارہے ہوتے اور سالانہ ترقیاتی بجٹ بنیادی عوامی ضروریات زندگی جیسے پینے کے صاف پانی اور عوام کے علا ج و معالجہ کے قائم سرکاری مراکز پر ادویات کی فوری فراہمی کے لئے خرچ کئے جارہے ہوتے تو آج نہ غریب صاف پانی سے محروم رہتے اور نہ سرکاری اسپتالوں میں دن بھر اپنے علاج کے لئے ٹھوکریںکھاتے اِدھر اُدھر بھٹک رہے ہوتے اور میرے پیارے مُلک پاکستان کے بیچارے معصوم و محب وطن غریب عوام سرکاری اسپتالوں میںاِس طرح سسک سسک کر ایڑیاں رگڑرگڑ کر حکومتی بے حسی کے باعث نہ مر رہے ہوتے۔
آج حکومت نے غریبوں کے مسائل حل کرنے اور اِنہیں اِن کے بنیادی حقوق نہیں دیئے ہیں تب ہی توچیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کو عوام کی فلاح و بہبود اور اِن کی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لئے اپنا کردار اداکرناپڑرہاہے تواَب اِن کے اِس عوام دوست کردار سے سبھوں کے دماغ خراب ہورہے ہیں۔اِس لئے کہ اگلے متوقعہ الیکشن سر پر ہیں حکمران یہ سمجھ رہے ہیں کہ آج اگر عوا می مسائل حل ہوگئے اور انہیں تمام بنیادی حقوق میسر آگئے تو پھر اِنہیں ووٹ کون دے گا یہی سوچ کر نہ تو پہلے حکمرانوں اور سیاستدانوں نے عوامی مسائل کے حل کی جانب پہلے کبھی سنجیدگی سے توجہ دی ہے اور نہ ہی اِن کا اگلی صدی تک ایسا کرنے کا کوئی نیک ارادہ ہے اِن مُلک پر اقتدار کے پچاریوں کا خیال یہ ہے کہ عوامی مسائل بڑھا ئے جا ئیں اور عوام کو ان میںاتنا گرفتار کردیاجائے کہ ہم اِن کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے جائیںاور عوام کو ہم جیسا کہیںیہ ہمارے مطابق ویسا کریںاور بس اِسی چکر میںاُلجھا کر عوام رکھا جائے ۔
بہر کیف ،آج اِس بات پر پورا یقینا کرنا پڑے گا کہ حکومت ہی عوام کی دُشمن ہے کو ئی دوسراذیلی حکومتی ادارہ عوام کا اِتنابڑا دُشمن نہیں ہے جتنا کہ حکومت ہے،پچھلے دِنوں اوگرا نے ماہ اپریل کے لئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لئے جو سمری حکومت کو ارسال کی تھی اِس میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوںمیں 5روپے76پیسے کمی کی واضح سفارش کی گئی تھی مگر آج یہ بڑے افسوس کے ساتھ کہناپڑرہا ہے کہ نواز شریف کے شاگرد ِ خاص وزیراعظم شاہد خاقان عباس نے خالصتاََ اپنی خصلت اور فطرت کے مطابق تجارتی پوائنٹ آف ویو کو مدِ نظررکھتے ہوئے آج پیٹرول کی قیمت میں اونٹ کے منہ میں زیرہ جتنی کمی کرکے حاتم طا ئی کی قبر پر لات ماردی اِس طرح انہوں نے پچھلے کئی ماہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بے لگام کئے جا نے والے اضافے کے باعث مسلسل مہنگائی کے بوجھ تلے دبتے چلے جا نے والے عوام کوبڑی آسا نی سے یہ خوش خبر سُنا دی کہ ن لیگ کی عوام دوست حکومت نے عوا می مشکلات اور پریشا نیوںکا احساس کرتے ہوئے پیٹرول اور ہا ئی اسپیڈڈیزل کی قیمتوں میں2روپے7پیسے کمی کا اعلان کردیاہے جس سے عوام میں خوشحالی کے کئی نئے باب کھلیںگے اور غریب عوام کے کاندھے پر پڑنے والا مہنگا ئی کا بوجھ بڑی حد تک کم ہوسکے گا اِس حکومتی اقدام سے مُلک کے غریب عوام کا ن لیگ کی حکومت پر اعتماد بحال ہوگا اور اگلے متوقعہ انتخابات میں ن لیگ کو بھاری اکثریت سے کامیا بی کے امکانات روشن ہو ں گے ۔ دہت تیرے کی اُونٹ کے منہ میں زیرہ جتنی کمی اور اپنی اگلے الیکشن میں کامیا بی کے اِتنے بڑے بڑے دعوے تو بہ توبہ ہمارے وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جتنی کمی کی ہے آج اتنے پیسے تو ایک فقیر بھی بھیک میں نہیںلیتا ہے وہ بھی منہ کھول کر 20/10روپے کا سوا ل کرتا ہے اور جب اِسے مطلوبہ رقم مل جاتی ہے تو یہ دوچار دعا ئیں دیتاہے اور آگے بڑھ جات ہے مگرہمارے وزیراعظم نے تو عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںصرف 2روپے 7پیسے کمی کرکے جیسی بھیک دی ہے یہ اِن کی سخاوت تو نہیں البتہ اِنہیں بخیل ہوناثابت کررہاہے اور ساتھ ہی عوام سے دُعاوں کے ساتھ ساتھ اپنی جماعت ن لیگ کے لئے ووٹ دینے کی بھی اُمید باندھ رکھی ہے نہ صرف یہ بلکہ حکومت نے یہ بھی جتنا دیاہے کہ جیسے اِس نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ جو کمی کی ہے اِس نے عوام پر بہت بڑا احسان کردیاہے اَب دیکھتے ہیں کہ ن لیگ کی آئی سی یو میں آکسیجن لگی وقت نزع میں سانس لیتی حکومت کا مہنگا ئی سے پریشان حال عوام پر کیا جانے والایہ احسان بھی کتنے عرصے تک قائم رہتاہے

SHARE

LEAVE A REPLY