افغان فورسز کی فضائی کارروائی میں 45 افراد ہلاک، امریکہ کی مذمت

0
773

امریکہ نے افغانستان کے صوبے ہرات میں افغان ایئر فورس کی فضائی کارروائی میں 45 افراد کی ہلاکت کی مذمت کی ہے جب کہ اس واقعے کی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

امریکہ کے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ 24 گھنٹے انتہائی پرتشدد رہے اور اس دوران کئی افراد ہلاک ہوئے۔

جمعرات کی صبح ٹوئٹر پر اپنی متعدد ٹوئٹس میں خلیل زاد نے کہا ہے کہ ہرات میں افغانستان کی فورسز کی فضائی کارروائی میں کئی عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں بچے بھی شامل تھے۔

ان کے بقول ہلاکتوں کی تصدیق جائے واقعہ کی منظرِ عام پر آنے والی تصاویر اور عینی شاہدین کے بیانات سے بھی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ بدھ کی شب افغانستان کی ایئر فورس نے ہرات میں ایک فضائی کارروائی کی تھی جس میں اطلاعات کے مطابق کم از کم 45 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں طالبان کے اہم کمانڈر شامل ہیں۔

مشرقی صوبے ہرات کے ضلع ادرسکان کے گورنر علی احمد فقیر یار نے خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے گفتگو میں فضائی کارروائی کی تصدیق کی ہے جس میں ان کے بقول 45 افراد ہلاک ہوئے۔ ضلعی گورنر کے مطابق مرنے والوں میں طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔

ضلعی گورنر کے بقول حملے میں اب تک آٹھ عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ ہلاک ہونے والے دیگر 37 افراد میں طالبان کے جنگجو کتنے ہیں۔

افغان وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ وہ عام شہریوں کی ہلاکت کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تحقیقات کے نتائج عوام اور شہریوں کے سامنے لائے جائیں گے۔

مقامی حکام نے فضائی حملے میں ہلاکتوں کے ساتھ بڑی تعداد میں شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔

امریکہ کی افغانستان میں تعینات فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی فوج اس فضائی کارروائی میں شریک نہیں تھی۔

جمعرات کو اپنے بیان میں امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ طالبان کے حالیہ حملوں میں افغان شہریوں کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے کہا کہ افغانستان کے عوام فوری طور پر امن مذاکرات کے آغاز کے خواہاں ہیں جب کہ افغان تصفیے کا پر امن حل ہی عوام کے بہترین مفاد میں ہے۔

ان کے بقول مزید قبریں مذاکرات کو آگے لے کر نہیں جائیں گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY