عالمِ اسلام بالخصوص عرب ممالک میں رجب کے مہینے میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز اب گزشتہ کئی عشروں سے ایک معمول بن چکا ہے اور اس نیاز کو برصغیر پاک و ہند میں ”کونڈوں کی نیاز” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

رجب المرجب کے مہینے کی دو اہم چیزیں دنیائے اسلام میں اب ایک مستقل تقریب کی اہمیت اختیار کر چکی ہیں ۔ان میں سے ایک تیرہ رجب کو مولائے متقیان امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ولادت با سعادت ہے اور دوسری بائیس رجب کو امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز ہے جسے پاکستان اور ہندوستان میں ”کونڈوں کی نیاز” سے موسوم کیا جاتا ہے۔

اس نیاز کا تعلق ایک معجزے سے ہے جسکا مکمل ذکر آگے چل کر آئے گا لیکن اب سے کوئی تیس برس پہلے تک جن گھروں میں اس نیاز کا رواج تھا ان گھروں کے مکین اس امر سے بھی بخوبی آگاہ ہوں گے کہ ساری رات نیاز تیار کی جاتی تھی پھر فجر کی نماز کے بعد نیاز کا سلسلہ شروع ہوتا تھا جو رات گئے تک جاری رہتا تھا۔

اب جب بہت سی روایات بدلی ہیں تو دنیائے بھر میں عمومی طور پر اور بیرونی مغربی ممالک میں خاص طور پر یہ نیاز بھی” ٹیک اوے” کی طرح باہر سے تیار ہو کر آتی ہے۔

اس کے باوجود متعدد گھرانے ایسے ہیں جو آج بھی اُس قدیم روایت کو اپنائے ہوئے ہیں اور عشروں پہلے کی طرح آج بھی یہ نیاز اسی طرح ساری رات تیار کی جاتی ہے۔

پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ ایران،افغانستان،قطر،بحرین،کویت ،شام اور متعدد دیگر عرب ممالک کے علاوہ مغربی ممالک میں مقیم مومنین پوری عقیدت سے اس نیاز کا اہتمام کرتے ہیں۔

یوری ممالک کے ساتھ امریکہ،آسٹریلیا،افریقہ کے ممالک میں اور خاص طور پر برطانیہ میں مقیم گھرانے پوری عقیدت سے اس نیاز کا اہتمام کرتے ہیں۔

اس نیاز سے منسلک معجزہ کچھ اس طرح ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم22 رجب معجزہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلامکسی شہر میں ایک لکڑہارا نہایت مفلس و نادار رہتا تھا۔وہ ہر روز جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور فروخت کر کے بمشکل اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ افلاس سے تنگ آکر ایک روز اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ برائے روزگار باہر جاتا ہوں ۔ عجب نہیں کہ پروردگار رحم فرمائے۔اور ہماری مصیبت دور ہو یہ کہہ کر لکڑہارا معاش کی تلاش میں دوسرے شہر گیا ۔لیکن بدقسمتی سے وہاں بھی تقدیر نے ساتھ نہ دیا۔ ہر وقت دل میں سوچتا کہ کچھ پیسے ہو جائیں تو اپنے شہر جاؤں اور بال بچوں کی خبر لوں لیکن کچھ نہ ہو سکا۔ اسی فکر و پریشانی میں بارہ سال بیت گئے۔ اور اس عرصے میں نہ تو اس نے بال بچوں کو کچھ بھیجا نہ اُن کی خبر لی۔

لکڑہارے کی بیوی اپنے خاوند کے چلے جانے کے بعد کچھ دنوں تک اسی فکر میں رہی کہ میرا خاوند خرچ بھیجے گا۔لیکن جب اس نے عرصے تک خبر نہ لی اور اس بیچاری پر فاقے گزرنے لگے تو لا چار ہو کر اس نے وزیر کے محل میں جاروب کشی کی نوکری کرلی۔ اور اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے لگی۔ ایک روز لکڑہاری نے خواب میں دیکھا کہ میں وزیر کے محل میں جھاڑو دے رہی ہوں کہ یکایک مولا و آقا ئے دوجہاں جناب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام مع اپنے اصحاب کے صحن خانہ ء وزیر میں تشریف لائے ہیں ۔آپ نے اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ۔آج کیا تاریخ ہے؟۔ اور کون سا مہینہ ہے؟ صحابہ نے عرض کیا ۔یا مولا آج شبِ 22 رجب المرجب ہے ۔تب حضرت نے اپنی زبان معجز بیان سے ارشاد فرمایا ۔ کہ کوئی شخص کیسی ہی مشکل میں مبتلا ہو یا کسی ایسی حاجت نے پریشان کر رکھا ہو حسب دستور سوا سیر میدے کی پوریاں پکا کر دو کونڈوں میں رکھ کر ہمارے نام کی نذر22 رجب بوقت صبح نماز سے فارغ ہو کر دلوا ئے اور حق سبحانہ ْ تعالیٰ کی درگاہ میں ہمارے واسطے سے حاجت طلب کرے ۔

جس وقت خواب میں لکڑہاری نے حضرت کا یہ کلام سنا اُسی وقت بصدق دل نذر کرنے کی نیت کی اور 22 رجب کی صبح نماز سے فارغ ہو کر اس نذر کو موافق حکمِ جناب امام علیہ السلام پورا کیا۔

اب ذرا لکڑہاری کے شوہر کا حال سنئیے ۔ یہاں تو 22 رجب المرجب بوقت صبح یہ لکڑہاری نزرِ امام علیہ السلام دلا رہی تھی اور وہاں لکڑھارا درخت پر چڑھا ہوا لکڑیاں کاٹ رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے کلہاڑی چھوٹ کر زمین پر گری۔ ۔اُس نے جو کلہاڑی کو نکالا تو دفینے کاشبہ ہوا ۔اور اس جگہ کو اس نے کھودا تو معلوم ہوا کہ شاہی خزانہ دفن ہے۔ اُس نے اس وقت تو اس کو اسی طرح پوشیدہ کر دیا پھر تھوڑا تھوڑا لاتا رہا اور سامان سفر تیار کرنے لگا۔ اور سارے دفینے کو نکال کر بڑے کر ّو فر سے عازمِ وطن ہوا۔

اپنے رہنے کے لئے ایک عالیشان مکان بنوایا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آرام سے زندگی گزارنے لگا۔ ایک روز لکڑہاری نے اپنے شوہرسے سرگزشت بیان کی ۔ جب اس نے مہینے کی تاریخ اور وقت بتایا تو وہی وقت او ر وہی دن تھا۔جب لکڑہارے کو دفینہ ملا تھا۔ لکڑہارا بھی صدق دل سے ایمان لے آیا۔

ایک روز وزیر اعظم کی بیوی محل کی چھت پر کھڑی ہواخوری کر رہی تھی کہ اس کو ایک عالیشان مکان نظر آیا ۔اس نے اپنی کنیزوں سے دریافت کیا کہ یہ کس کا مکان ہے؟ کنیزوں نے بتایا اس لکڑہارے کا جس کی بیوی یہاں جاروب کشی پر ملازم تھی۔ یہ سن کر وزیراعظم کی بیوی نے لکڑہارے کی بیوی کو بلایا اور مفصل حالات دریافت کئے۔

اس نے تمام حالات بیان کئے مگر وزیر اعظم کی بیگم کو یقین نہ آیا۔ بلکہ دل میں یہ خیال آیا کہ اس کے شوہر نے رہزنی کی ہے جس کی بدولت مالدار ہوا ہے۔

وزیر کی بیگم کا یہ خیال فاسد دل میں لاناتھا کہ اُسی وقت وزیراعظم پر مصیبت آئی۔کہ وزراء میں ایک وزیر اس کا دشمن تھا اس نے موقع پا کر بادشاہ سے چغلی کی کہ اس نے غبن کیا ہے ۔حضور عالی جناب اسے طلب فرمائیں ۔بادشاہ نے اسی وقت وزیر اعظم کو بلا کر حساب طلب کیا۔وزیر اعظم صحیح حساب نہ دے سکا ۔چنانچہ بادشاہ غضبناک ہو گیا۔وزیر اعظم کا سارا مال و اسباب ضبط کر لیا گیا اور اس کو اور اس کی بیوی کو نکال باہر کیا ۔وہ دونوں بھوکے پیاے چلے جارہے تھے کہ تربوز کا کھیت نظر آیا۔ وزیر اعظم نے اپنی بیگم سے دو درہم لے کرجو اتفاق سے اس کے پاس رہ گئے تھے اس کا تربوز خرید کر رومال میں باندھ لیا۔کہ کسی جگہ اطمینان سے بیٹھ کر کھائیں گے۔

اتفاق سے جس دن وزیراعظم پر عتاب آیا تھااسی دن شہزادہ بھی شکار کو گیا تھا ۔اور رات تک واپس نہ آیا۔ تو بادشاہ نے پریشان ہو کر وزیروں سے مشورہ کیا ۔کہ ساری رات گزر گئی اور ابھی تک شہزادہ واپس نہیں آیا۔اسی وزیر نے جس نے وزیر اعظم کی چغلی کھائی تھی بادشاہ سے عرض کیا مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نے بوجہ دشمنی موقع پاکر شہزادے کو قتل کر دیا۔یہ سنکر بادشاہ نے وزیر اعظم کی گرفتاری کا حکم دے دیا۔سپاہی گئے اور وزیر اعظم اور اس کی بیوی کو پکڑ لائے۔ا

س وقت تک وزیر اعظم نے تربوز کو نہیں کھایا تھا ۔بلکہ اسی طرح رومال بندھا ہوا تھا۔اسی حالت میں گرفتار ہو گیا۔بادشاہ نے دیکھا کہ رومال سے سرخ خون چھلک رہا ہے۔رومال کھول کر دکھایا گیا تو بادشاہ کی نظروں میں شہزادے کا سر نظر آیا۔بادشاہ اپنے بیٹے کا سر دیکھ کر رونے لگا اور حکم دیا کہ رات بھر وزیر اعظم کو قید میں رکھو صبح اس کو قتل کر دینا۔ وزیر اعظم اور اس کی بیوی جیل خانے بھیج دئیے گئے۔ وزیر اعظم نے اپنی بیوی سے دریافت کیا کہ یہ بات ابھی تک معلوم نہ ہو سکی کہ ہم پریہ ناگہانی مصیبت کیسے آگئی۔ ۔کون سا گناہ ہم سے ایسا سرزد ہوا ہے جس کی سزا بھگت رہے ہیں ۔

اس پر وزیر اعظم کی بیگم نے لکڑہارے کا قصہ من و عن بیان کیا اور کہا کہ مجھے اس نذر کا اور حکم امام جعفر صادق کا یقین نہ آیا۔وزیر اعظم نے اپنی بیوی سے کہا اس سے بڑھ کر اور خطا کیا ہو گی کہ تو نے امام جعفر صادق کے حکم کو جھٹلایا۔توبہ کر ۔ امام کا فرمانا درست ہے ۔الغرض دونوں رات بھر گریہ و زاری کے ساتھ اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہے ۔صدق دل سے اس نیاز کی نیت بھی کی۔ خداوند عالم نے ان کی دعا قبول کر لی۔ اور علیٰ الصبح شہزادے نے شکار سے واپس آکر بادشاہ کی قدم بوسی حاصل کی۔

بادشاہ نے شہزادے سے دریافت کیا

اے نورِ چشم ۔ تم اتنے عرصے تک کہاں رہے ؟ ۔ عرض کیا حضور شکار نہ ملنے کی وجہ سے میں نے باغ میں قیام کیا تھا۔بادشاہ نے شہزادے کو محل کے اندر جانے کی اجازت دی اور وزیر اعظم اور اس کی بیوی کو طلب کیا اور رومالِ سر کو بھی طلب کیا جس میں برائے تربوز کے شہزادے کا سر نظر آیا تھا۔اس رومال کو خود کھولا اور دیکھا کہ اس میں تربوز ہے۔ بادشاہ سخت متعجب ہوا اور وزیر اعظم سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے

وزیر اعظم نے جو قصہ اپنی بیوی سے سنا تھا من و عن بیان کر دیا۔ بادشاہ نے یہ سن کر لکڑہارا اور اس کی بیوی کو طلب کیا اور اُن سے حالات دریافت کئے ۔انہوں نے تمام حالات بیان کر دئیے جس کو سن کر بادشاہ بھی صدق دل سے ایمان لے آیا اور وزیر اعظم کو پھر اپنے عہدے پر فائز کر دیا اور چغل خور وزیر کو سزا دے کر نکال دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ تعالی ہماری مرادیں امام صادق علیہ السلام کے وسیلے سے پوری فرمائے ۔ نماز صبح کے بعد اس کہانی کو پڑھیں اور اس کے بعد بسم اللہ ۔تین بارمحمد و آلِ محمد پر درود پڑھیں ۔تین بار سورۃ الحمد ۔ تین بار سورۃ قل ہو اللہ احد ۔ پھر تین بار درود شریف پڑھ کر نیاز دیں اور امام جعفر صادق علیہ السلام کو ھدیہ کریں اور اللہ سے اپنی حاجت طلب کریں امام کا واسطہ دے کر انشا اللہ مراد پوری ہو گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY