کیا لاہور ریڈیو کی بربادی کا منصوبہ ریڈیو پاکستان کی تباہی کی طرف پہلا قدم ہے ؟ تیسری قسط
کیا یہ سب وزیر اطلاعات اور سیکرٹری اطلاعات کی منظوری سے ہو رہی ہے؟
تحقیقاتی رپورٹ۔ وقائع نگار اور مقامی چشم دید لوگوں کے بیانات پر مبنی
مرتب، حافظ نثار محمد۔لاہور
گزشتہ یعنی دوسری قسط میں بات یہاں ختم ہوئی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان دونوں معجز نما شخصیات کے بارے میں اگلی یعنی تیسری قسط میں لکھیں گے اسوقت یہ دو تصاویر دیکھئے اور سینہ زنی کیجئے کہ اس قومی ورثے کے نشریاتی مرکز کی ایس ڈی کی کرسی پر ملک عباس اور غلام مجدد تشریف رکھتے ہیں ،میٹنگز لیتے ہیں فیصلے کرتے ہیں، ہم بتائیں گے کہ ملک عباس کی تعلیمی قابلیت کیا ہے اور غلام مجدد کا ریکارڈ کیا ہے ، ریڈیو پاکستان کے ان نور کے میناروں کا بھی ذکر کریں جو اس کُرسی پر بیٹھ چکے ہیں اور کیسے لاہور ریڈیو اور ریڈیو پاکستان کو زوال کی اُس پاتال میں دھکیلا جا رہا ہے کہ پھر دوبارہ اسکی پہلے والی حیثیت بحال نہ ہو سکے

غلام مجدد اور عباس ملک
ایسے کتنے ہی بلا مقصد اخراجات ہیں جن پر لاکھوں لاکھوں خرچ ہو کر رقم کروڑوں تک پہنچ رہی ہے اور دوسری طرف ڈی جی ریڈیو کا ببانگ دہل یہ کہنا ہے کہ ریڈیو کے ساڑھے چار ہزار پنشنرز جن میں بیوائیں اور یتیم بچے بھی شامل ہیں انکی ذمیداری نہیں اور انکی ذمیداری صرف موجودہ ملازمین ہیں۔ ایک لمحے کے لیئے انکا اگر یہ موقف مان بھی لیا جئے کہ موجودہ ملازمین ہی صرف انکی ذمیداری ہیں تو پھر ان ملازمین کو تو ماہانہ پوری تنخواہ ادا کی جائے۔ پنشنرز کو تین ماہ سے نہ ملنے والی پنشن ایک طرف ، نہ انکو میڈیکل کی سہولت ہے اور نہ ہی کیموٹیشن کی ادئیگی کی گئی ہے
ریڈیو کے سربراہ آپ ہیں اور خطیر رقم تنخواہ کی مد میں اور دیگر بڑی مراعات آپکو اسی مقصد کے لیئے دی جاتی ہیں کہ آپ اپنے ان ملازمین کا خیال رکھیں جو کام کر رہے ہیں اور کام کرتے رہے ہیں تا کہ حکومت کی تعریفیں اور پروپیگنڈہ جاری رہے جو برسوں سے ریڈیو پاکستان کچھ سچا اور زیادہ جھوٹا کرتا چلا آ رہا ہے۔ آج بھی یہ سچ اپنی جگہ ہے کہ جتنا وقت یہ قومی ادارہ حکومت کا پروپیگنڈہ کرتا ہے اگر حکومت کو اُتنے وقت کے پیسے ادا کرنا پڑیں تو ریڈیو کے مالی مسائل بہت حد تک ختم ہو جائیں
یاد رکھیں کہ یہ مالی بدانتظامی نہیں بلکہ مالی بدعنوانی ہے کہ کہیں کا پیسہ کہیں استعمال ہو رہا ہے۔ کاش اس ملک میں کوئی قانون کوئی احتساب ہوتا تو ایسے لوگوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا جو بزرگ پنشنروں اور بیواوں کے مسائل میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ جب تک پنشنرز کو پنشن کی ادائیگی کا مسلہ مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہوتا ہم اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے
آئیے لاہور ریڈیو کے دو انجینئرز ملک عباس اور غلام مجدد کی طرف کہ جنکو سارے لاہور مرکز پر مسلط کر دیا گیا اور جو براہ راست ڈی جی سے احکامات زبانی لیتے اور عمل کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ملک عباس کو چیک پر دستخط کرنے اور مالی امور دیکھنے کے جو احکامات ریڈیو پر موجود دو پروگرام کنٹرولرز کی موجودگی میں باقاعدہ سرکاری حکمنانے کے تحت دیئے گئے ہیں تو اسکا مقصد بھی کسی تیسرے فرد کو شامل کیئے بغیر بڑے بڑے مالیاتی کام کروانا ہے اور ایسے کام ہو بھی رہے ہیں جیسے لاہور مرکز کے آٹھ دس کمروں کی ہیئت بدلنے پر اٹھنے والے اخراجات ملک عباس اور غلام مجدد نے براہ راست کیئے ہیں ۔
ان اخراجات کا تخمینہ لاکھوں میں ہے اور ہزاروں کی پنشن والے بزرگ روز ڈی جی سے،صدر دفتر سے، ڈائریکٹر فنانس سے، وزارت اطلاعات سے، وفاقی محتسب سے اورقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مندوخیل سے بھیک مانگتے ہیں کہ اُن میں سے کتنے لوگوں کو مکان کا کرایہ دینا ہے انکے گھروں میں بھی بیماری سُستی ہے۔ انکو بھی پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیئے بازار سے سودا سلف خریدنا ہے۔
لاہور ریڈیو پر تبدیلی اور جدت کے نام پر جو تباہی ہو رہی ہے اور جو بے دریغ پیسہ استعمال ہو رہا ہے اسکی مصدقہ تفصیل بھی بیان کریں گے کہ مکمل معلومات ہمیں مل چکی ہیں اور ان معلومات کو وزیر اطلاعات، وزیراعظم کے دفتر اور فوج کے محکمہ اطلاعات کے دفتر میں بھی پہنچایا جائے گا کہ تاکہ حکومت کو علم ہو کہ انکو بدنام کرنے والے لوگ خود انکے درمیان موجود ہیں



ہیڈ کوارٹرز سے سابق ڈی جی ریڈیو مرتضی سولنگی کا منظور نظر ایک ڈی سی انجنئیرنگ مجدد آکر اسٹیشن ڈائریکٹر کی کرسی پر براجمان ہو گیا تھا اور مصدقہ معلومات کے مطابق ایک کنٹریکٹ پروڈیوسر ریحانہ سلہری نے مجدد کو للکارا ہے کہ وہ کیسے ایس ڈی کی کرسی پر بیٹھ سکتا ہے؟ اس واقعہ کے بعد شنید ہے کہ مجدد کو خاموشی کے ساتھ واپس اسلام آباد بلوا لیا گیا ہے تا کہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔۔۔ تکلیف دہ بات تو یہ ہے مرکز کے سینئر افسران سمیت باقی سب سٹاف بھی بے حسی سے آنکھیں بند کئے ہوئے سب دیکھ رہا ہے اور کسی میں احتجاج کرنے کی ہمت نہیں۔
غلام مجدد ڈی سی انجینئرنگ ھے اور ڈپٹی کنٹرولر کے طور پر ترقی کے خلاف کورٹ میں اسکا کیس چل رھا ھے اور بتایا جاتا ہے کہ یہی ممکن ھے کہ فیصلہ اسکے خلاف آئے گا ۔ اس وقت لاھور میں جو کچھ بھی تعمیراتی کام کے نام پہ ھو رھا ھے اسکی تمام خریداری مجدد کی ذمیداری رہی ہے اور اب ممکن ہے کہ وہ یہ سب کام اسلام آباد میں بیٹھ کرہی کرے ۔ لاہور ریڈیو کے ملازمین کا کہنا ہے کہ ھر چیز ڈی جی کا زبانی آرڈر بتایا جاتا ھے

لاہور ریڈیو میں پہلی منزل کے 7/8کمروں کو کس مقصد کے لیئے سنوارا جا رہا ہے کہ بیڈ لگوانے پڑ رہے ہیں
عباس ملک کے بارے میں جتنی معلومات ہم نے جمع کی ہیں اگر انکو شائع کیا جائے تو ایک مکمل کتاب بھی بن سکتی ہے، لاہور ریڈیو کے چند انجینئرز نے انکی شخصیت، علمی قابلیت اور استعداد کار کے بارے میں جو کچھ منکشف کیا ہے اگر وہ سب لکھ دیا جائے تو عام آدمی بھی سوچے کہ ایسے واجبی شخص کو لاہور جیسے تاریخی نشریاتی مرکز کا انجینئرنگ مینیجر کیسے لگایا گیا ہے جو ببنیادی طور پر ایک ٹیکنیشن کے طور پر بھرتی ہوا تھا جسکی تعلیمی قابلیت مبینہ طور پر میٹرک ہے اور تین سال کا ڈپلومہ ہولڈر ہے اور موجودہ ڈی جی ریڈیو نے اسکو ڈی ڈی او پاور دی ہیں جسکے بعد یہاں بہت سے کنسٹرکشن کے کام شروع کئے گئے ہیں جن کے لئے شعبئہ انجنئیرنگ کا ہی بندہ چاہیے کہ خرد بُرد اور بے جا مالی استعمال اسی طرح ہو سکتا ہے
ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ایسے حالات میں لاہور ریڈیو کا مالیاتی یعنی اکاونٹ کا شعبہ لگ بھگ بے بس ہو چکا ہے اور مالی تنگی کے ساتھ مہنگائی کے اس دور میں کس کو اپنی نوکری عزیز نہیں ہو گی
ایسے میں مبینہ طور پر ایک خبر یہ بھی ہے کہ موجودہ ڈی جی کے اپنے بزنس کے مفادات بھی ہیں اور یہ بزنس لاہور میں ہے تو لاہور میں ممکنہ طور پر اسٹیشن ڈائریکٹر کے کمرے کو ڈی جی کے لاہور کیمپ آفس میں تبدیل کر دیا جائے گا
ہمیں معلوم ہے کہ ہم اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنے نکلے ہیں
ہمارا تجربہ یہ ہے کہ طویل تحریریں چونکہ توجہ سے نہیں پڑھی جاتی ہیں اس لیئے آج کی تحریر کو یہیں ختم کرتے ہیں اور اگلی چوتھی قسط میں مزید ہوشربا انکشافات کے ساتھ حاضر ہو نگے















Safdar Hamadani Sb. AOA. I retired as Dy Controllar Engg in 2004 and appreciate your efforts by higlighting the destruction of Radio Pakistan from the start of PBC Lahore.
Allah SWT Aap ke laye Aasania kare aur Allah SWT Aap ko zindgi de sehat ke sath. Allah SWT Aap ko Kisi ka Mohtaj na kare. Aameen