موسم بدل رہا ہے۔طارق بٹ

0
248

موسم بدل رہا ہے سردی کو الوداع اور گرمی کو خوش آمدید کہنے کے دن آ گئے صرف موسمی گرمی ہی نہیں بلکہ سیاسی گرمی کی حدت اور شدت میں بھی آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اسی لئے تو موسمی پرندوں نے اپنے منہ اور پر کھول رکھے ہیں اور پرانے برگد کے درخت سے اڑانے بھر کر نئے پھل دار درختوں پر آن بسیرے ہو رہے ہیں کل تک جو مائی باپ تھے جن کے قدموں میں بیٹھنا سعادت عظیم تھی آج ان کے قدم تو کجا چہرے بھی دیکھنے کے روادار نہیں ۔ نہیں معلوم گذشتہ پانچ سال کا عرصہ اس قابل نفرت قیادت کے سائے تلے کس کرب اور تکلیف سے گذارا مگر وقت نے تو کٹ ہی جانا ہوتا ہے بڑی مشکل سے کٹھن وقت گزارنے والے اب اچھے وقت اور اچھے حالات کی تلاش میں محو پرواز ہیں جس چھتری سے اڑانے بھری جا رہی ہیں اس کے نیچے کی زمین انہیں سرکتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جب زمین ہی سرک جائے گی تو چوگ کہاں سے میسر ہو گا اور زندہ رہنے کے لئے چوگ کی ضرورت تو ہوتی ہی ہے نا ۔ نئی نویلی چھتریوں پر پاوں جمانے کا موقع بھی مل رہا ہے اور وافر مقدار میں چوگ بھی تو کون بے وقوف اور عقل سے عاری پرانی اور بدبودار چھتری پر قدم جمائے بیٹھا رہے ویسے بھی جن کاریگروں نے یہ چھتری تیار کی تھی وہ بھی اب اس کے رنگ ڈھنگ، بناوٹ اور ڈیزائن سے اکتا چکے ہیں اسی لئے تو اسے ناکارہ جان کر ناکارہ اشیاء کے گودام میں پھینکنے کا پروگرام بنایا گیا ہے یہ ساری کہانی ان کہانی کاروں نے لکھی ہے جو عرصہ دراز سے ایسی کہانیاں تخلیق کرتے چلے آ رہے ہیں مگر ایسی کہانیاں صرف وقتی طور پر عوام میں قبولیت کی سند پاتی ہیں پھر عوام الناس ان کہانیوں کو اٹھا کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں ۔

سب سے پہلے پاکستان کے تخلیق کار نے کہانی کی بنت کچھ یوں کی تھی کہ نواز شریف نے زمین پر رہتے ہوئے اسے فضا میں اغوا کرنے کی کوشش کی یوں وہ اس سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے کہ اس سرزمین سے ہی باہر نکال پھینکا جائے جس کے باسیوں کے ووٹ سے وہ حق حکمرانی حاصل کر لیتا ہے پھر ایسا ہی ہوا نہ صرف نواز شریف بلکہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ دونوں کے وطن عزیز میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی مگر آخر کب تک ایک وقت ایسا بھی آیا کہ کہانی کار کو بہ امر مجبوری خود اپنی کہانی میں ترمیمات کرنی پڑیں اور بے نظیر بھٹو کے ساتھ ساتھ نواز شریف کے لئے بھی وطن عزیز کے بند دروازے کھولنے پڑے جونہی یہ دروازے کھلے عوام نے اپنے دل کے دروازے پرویز مشرف کے لئے بند کر لئے اور اپنی تمام تر دلچسپی کا محور و مرکز ایک بار پھر بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو بنا لیا مگر کہانی کار کو اپنی کہانی میں اس بری طرح کی کانٹ چھانٹ منظور نہ تھی ۔ ایسے میں سانحہ کارساز ہو گیا مگر محترمہ کا خون راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گرنا تھا اس لئے وہ سانحہ کارساز میں بچ گئیں مگر کچھ ہی عرصے بعد روالپنڈی میں ایک سفاکانہ اور المناک واقعے میں خالق حقیقی سے جا ملیں ۔اپنے اقتدار کے دوران اس تخلیق کار نے جو گل کھلائے وہ پاکستانی قوم سے پوشیدہ نہیں کہ کس طرح پاک سر زمین اغیار کو ان کے ناپاک مقاصد کے حصول کے لئے استعمال میں لانے کی کھلے عام آزادی تھی اور جمہوریت کے عمبرداروں نے کیسے اس کہانی کار کی کہانی میں رنگ بھرنے کے لیے کبھی مسلم لیگ ق کا روپ دھارا اور کبھی پیٹریاٹ بنے بالآخر ہوا کیا جب کہانی نے طول پکڑا تو عوام بور ہونے لگے اور آخر کار انتخابات کا ڈول ڈالنا ہی پڑا جس کے نتیجے میں مسلم لیگ ق اور پیٹریاٹ تتر بتر ہو گئیں اور ایک بار پھر عوامی کہانی پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے گرد گھومنے لگی ۔ نہ صرف یہ بلکہ سب سے پہلے پاکستان کے تخلیق کار کو اپنی خود نوشت کو لپیٹ لپاٹ کر کوچ کرنا پڑا ۔

عوام نے حسب معمول عوامی کہانی کو ترجیح دی اور میثاق جمہوریت کے ذریعے اپنے آپ کو ایک ضابطہ میں پابند کرنے والوں میں سے ایک کی وراثت کے دعوے دار کو اپنی حکمرانی کے لئے منتخب کر لیا یوں ایک زرداری سب پہ بھاری نے مفاہمت کے بادشاہ کے طور پر اقتدار سنبھال لیا مگر جلد ہی ان کا سابقہ کچا چٹھا ان کے سامنے آ گیا اور سب پر بھاری اپنے ہی بنائے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پہ بھاری ثابت ہو گئے کہ انہوں نے بار ہا بتایا کہ مجھے لکھنا آتا ہے مگر موصوف نے انہیں عدالت عظمی کے احکامات کے مطابق ایک خط تک نہ لکھنے دیا یہی سلسلہ تقریبا پانچ سال تک جاری رہا ملک اندھیروں میں ڈوبتاچلا گیا مگر زرداری صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے بس یہی ظاہر کرتے رہے کہ میرے کسی بھی ساتھی کو خط تو دور کی بات کچھ بھی لکھنا نہیں آتا ان کے اس شاندار طرز حکمرانی نے عوام کو ایک بڑی عوامی پارٹی سے شدید مایوس کیا اور پھر یہ مایوسی جب اپنی انتہا کو پہنچی تو ایک ایک انتخابی حلقے سے لاکھ لاکھ ووٹ لینے والی جماعت دو سے تین ہزار ووٹوں تک سمٹ آئی موقع غنیمت جانتے ہوئے کہانی کاروں نے ایک نیا کردار عمران خان کے روپ میں تخلیق کر دیا اور سب پر بھاری زرداری کے بوجھ تلے دبے عوام اپنے کندھوں پر قدم جمائے بیٹھے زرداری کے بوجھ سے آزاد ہو کر عمران خان کے جلسوں میں خوشی سے ناچنے لگے ۔عمران خان بھی خوشی سے سرشار تھرکنے میں مگن رہے مگر اقتدار کا ہما تھرکتے ہوئے جسموں کو چھوڑ کر نواز شریف کے ساکت سر پر جا بیٹھا ۔ ہما کو اس سر پر بیٹھتے دیکھ کر موسمی اور چوگ کے لالچی پرندے قطار اندر قطار نواز شریف کی قدم بوسی کرنے لگے۔ پرندوں کے ڈار میں اضافے نے غرور میں بھی اضافہ کر دیا اور من مانیاں بڑھنے لگیں ۔

ضد میری مجبوری کی مثال نواز شریف کا کردار جلد ہی نئے کہانی کاروں کو کھٹکنےلگا عمران خان اور علامہ طاہر القادری کو سڑکوں پر لا بٹھایا گیا پوری کوشش کی گی کہ نواز شریف اپنے دور اقتدار میں کسی پل بھی سکھ کا سانس نہ لینے پائے ادھر نواز شریف بھی غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے گئے اپنی اصل طاقت پارلیمان کو قطعا کوئی اہمیت نہ دی اپنی چھتری پر آ بیٹھنے والے پرندوں کو چوگ تو چگنے دیا مگر کبھی انہیں اپنے اتنے قریب نہ آنے دیا کہ ان کے پروں پر ہی ہاتھ پھیر دیتے سونے پہ سہاگہ پاناما کا ہنگامہ شروع ہو گیا غیر ضروری خود اعتمادی کے شکار نواز شریف نے اپنے آپ کو عدالت عظمی کے حوالے کر دیا چودھری نثار علی خان کے بار بار ہوشیار کرنے کے باوجود JIT کی غیر فطری تشکیل پر بھی کوئی اعتراض نہ کیا اپنا کیس انتہائی بے ڈھنگے انداز سے لڑا اور بالآخر اقتدار سے باہر ہو گئے نہ صرف اقتدار سے بلکہ اب تو تا حیات پارلیمانی سیاست سے بھی باہر اور اب روزانہ کی بنیاد پر احتساب عدالت کی تاریخیں بھگت رہے ہیں اور اب انہیں خیال آ رہا ہے کہ ان کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب کسی ماہر کہانی کار کی تخلیق کردہ کہانی کے عین مطابق ہے کہ بلوچستان میں ان کی بنی بنائی حکومت کا چشم زدن میں خاتمہ کر دیا گیا ان کے اراکین کو سینٹ الیکشن میں بے نام و نشان کر دیا گیا سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چئیرمین کے انتخاب میں کہانی کاروں نے خود ساختہ کرداروں کی مدد کی اور اصل کرداروں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں ۔مذکورہ بالا تمام حالات کے تناظر میں اگر پرندوں نے نواز شریف کی چھتری سے پروازیں بھرنا شروع کر دی
ہیں تو کیا غلط کیا ہے کہ زلزلے کی آمد کے آثار میں زمین کی ہلکی سی سرسراہٹ سب سے پہلے پرندے ہی تو محسوس کرتے ہیں اور انہوں نے
محسوس کر لیا ہے یا یوں کہہ لیں کہ انہیں محسوس کروا دیا گیا ہے
طارق بٹ

SHARE

LEAVE A REPLY