چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے عدلیہ کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے آج کل سپریم کورٹ سے یکجہتی کا بڑا رومانس ہو رہا ہے میں نے دیکھا ہے کہ سٹرکوں پر بینرز اور پوسٹر لگے ہیں جن پر بعض جج صاحبان کی تصاویر بھی لگائی گئی ہیں بند کیا جائے اس کی ممانعت ہے یہ سب کرنے کا کوئی سوچے بھی مت عدلیہ کو کسی یکجہتی یا مدد کی ضرورت نہیں، عدلیہ کے ادارے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے عدلیہ آزاد ہے اور آزادانہ کام کر رہی ہے،عدلیہ کا ادارہ آزاد اور خود مختار ہے یہی اس ادارے کی خوبصورتی ہے، تعلیم سے محروم ایڈہاک ازم پر چلنے والی قومیں ترقی نہیں کرسکتیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تعلیمی اداروں کے معاملے پر مطمئن نہیں کرسکے، وقت آگیا ہے اب عدلیہ کام کرکے دکھائے اور اگر عدلیہ ڈیلیور نہیں کریگی تو ہم شاید جو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ نہ کر پائیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور ہائیکورٹ بار
ایسوسی ایشن کے عشائیہ اور چارسدہ میں جوڈیشل کمپلیکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ججز اور وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لاہور میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ریاست میں بلاوجہ لوگوں کے بنیادوں حقوق کی خلاف ورزی جاری ہے، پھر ہمیں ایکشن لینا پڑتا ہے آئین ججوں کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا پابند بناتا ہے،بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر قانون کو خود حرکت میں آنا چاہیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جج کی پہچان اسکے فیصلوں سے ہوتی ہے،میں نے ہمیشہ بنیادی حقوق کے تحفظ کی بات کی ہے کوشش کرتا ہوں کہ لوگوں کو انکے حقوق ملیں، جسٹس آصف سعید کھوسہ کی تجویز ہے کہ عدالتی کارروائی کو براہ راست دکھایا جائے جس پر غور کرینگے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ میں ججوں کی خالی نشستوں کو مکمل کرنے کیلئے آنے والے ناموں پر غور کیا جائیگا، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے کچھ نام بھیجے ہیں میں نے انہیں واپس بھیجا ہے کہ وہ بار کے جید اور سینئر وکلا پر بھی غور کریں اور ہائیکورٹ بار کی مشاورت سے ججز کے نام بھیجیں، ہم اس بارتجویز کیے گیے امیدواروں کے انٹرویو بھی کرینگے، ججوں کی پہچان ان کے فیصلے ہوتے ہیں اور جب چیف جسٹس جید وکلا کو جج بنانے کی سفارش کرتے ہیں تو چیف جسٹس کی بھی عزت ہوتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں لاہور ہائیکورٹ بار سے محبت اور خاص لگاو بھی ہے، بار اور بنچ کی یکجہتی بہت ضروری ہے،بار اور بنچ نے ایک ماں کی کوکھ سے جنم لیا ہے،بار اور بنچ جڑواں بھائی ہیں،ججز اور وکلاء کا دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتا ہے،اختلاف رائے محبت کی علامت ہے،بار ہمیشہ ججز کی محافظ رہی ہے، چھوٹے چھوٹے مسائل کے خاتمے کیلئے بار کے عہداران سے ملکر حل نکالیں گے وکیل اور جج کا کردار،قول اور عمل اور قلم عزت میں اضافہ کرتا ہے مجھ سے بار کی بہتری کیلئے جو بن پایا کروں گا۔

SHARE

LEAVE A REPLY