حسن کلام گفتگو ہے اور جمال انسانی جستجو,فائزہ عباس

0
673

ہر خوشی، سکھ، رشتے، انسان ہت درد ،ہر زخم، ہر تکلیف، ہر ازیت، ہر جلن ایک لزت سے مشروط ہے اور ہر لزت کا ایک زائقہ ہے جسمیں پنہاں “حسن” ہے اور”زندگی” حسن کو دیکھنے کی بصیرت کا نام ہے، کہ جب انسان کے وجود میں وہ بینائ وجود میں ائے کہ وہ حسن کی تفسیر و تفصیل کے مطالب کو سمجھنے لگے، جب انسووں اور مسکراہٹ کے رقص سمجھ انے لگیں، جب ظالم و مظلوم کے بیچ کی جنگ میں حسن گفتگو کرتا ہے اور انسان اپنے وجود کے اندر اور باہر حسن کی گفتگو کو کیفیات سے تحریر کرتا یے، قلب کی دنیا میں وہ اچھاڑ ہچھاڑ کے دیکھتا یے درد کی دھنک سے وہ سر تیار کرتا یے ۔ ۔ ۔
اور روشنی کی جھلملاہٹ سے وہ ایک امید تیار کرتا یے، مایوسیوں کے انگن میں جب سب کچھ چھوٹ جاتا یے اور ہر امید ٹوٹنے کے بعد جب وہ رب سے یقین استوار کرتا ہے،
جہاں کھلے میدانوں میں جہاں درد اور کرب کی جنگیں ہوتی ہیں ۔ ۔ ۔
اور آسمانوں پر سے سرخ خون کی برسات ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
جہاں سیروسلوک قیام کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
جہاں سانسیں بحال کرنے کو ہم جینا خیال کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
جہاں درد کے سمندر پہ امیدیں تیرا کرتی ہیں ۔ ۔ ۔
جہاں رکے ہوئے سمندر کو ہم جینا شمار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
جہاں نور کے صحراوں کو ہم مرنا گمان کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
ہر سوچ، یر فکر، ہر رنگ، ہر قوس قزح ۔ ۔ ۔
ہر قلب ،ہر پھول، ہر بحر بیکراں ۔ ۔ ۔
ہر چٹان، ہر کانٹا، ہر زخم کے نشان ۔ ۔ ۔
وہ پھٹے ہوئے پیروں کے زخم، وہ کٹی ہوئی ہتھیلیاں ۔ ۔ ۔
وہ کائنات انسانی میں روتے لمحوں کی ہچکیاں ۔ ۔ ۔
وہ زندگی کی راہ گزر پہ سجی ہوئ پرنور گلیاں ۔ ۔ ۔
وہ داستانیں ادھوری سی، وہ مکمل کہانیاں ۔ ۔ ۔
وہ جان سے جاتے ہوئے، لمحوں کی اٹھکھیلیاں ۔ ۔ ۔
وہ باز ہرس فرشتوں کی، وہ رات بھر کے راز اور چھپائ گئ سچائیاں ۔ ۔ ۔
وہ پردوں کے پیچھے چھپے سبھی کرب اور داغ بد نما۔ ۔
وہ یقین کے ستاروں سے گہرری راتوں کی روشنیاں ۔ ۔ ۔
ہر پل حسن سےسجا ہوا، ہر حسن ہے جابجا، جستجوئے درد میں، چھپے راز تو کچھ اور ہیں، جنہیں ہم ڈھونے نکلے وہ خواب کوئی اور ہیں، یہ اسمان میرے کوئی، تیرے اسمان کچھ اور ہیں، ہم جس جگہ بھی موجود ہیں ۔ ۔ ۔
اک ساتھ ایک نور ہیں ۔ ۔ ۔
اور ساری کرنیں تو جتنے بھی رنگ رکھتی ہوں ۔ ۔ ۔
چشمہ نور ایک ہے ۔ ۔ ۔
فضائیں کتنی بھی رکھتے ہوں ۔ ۔ ۔
حسن ہی کی جستجو ہے ، اور جستجو کا حسن ہے ۔ ۔ ۔
جو جمال زندگانی ہے اور کمال ربانی ہے، ہر شے فانی ہے اور حسن لافانی ہے ۔ ۔ ۔
بھلے ہم سچ سمجھتے ہوں یا کہ یقین رکھتے ہوں ۔ ۔ ۔
زندگی کی سبیل میں حسن ہی راز ہے جو عیاں ہوا ہے ہر سمت مگر اکثر بینائی کم رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

حسن کلام گفتگو ہے اور جمال انسانی جستجو ہے جو حسن سے ہمکلام ہوا سو جستجو کے سفر رہا اور جو روٹھ کے رک گیا وہ احساس سفر کھو گیا، ہر خاموشی ایک گفتگو ہے اور ہر گفتگو میں خاموشی چھپی ہوئی ہے اور انسان وہ مخلوق ہے جس کے واسطے اتنا اہتمام ہے مگر قدردان کے واسطے دوام کے ہیں اور ناشاسائ بھی ایک انجام ہے جسے ہر انسان درک نہیں کر پاتا، بھوک بھی ایک جیت ہے اور نفس کا بھی ایک طعام ہے، ہر طعام کی نفس سے ہمکلامی اور اس کلام کا ایک انجام ہے یا اجالوں کی سلطنت، یا ظلمتوں کا دوام ہے اے عبد رب تو سن زرا کیسےجابجا کیسے ہر سمت ایک روشنی ایکنور ہے اور نور کے سبھی راستے یقین کا کلام ہیں تم اپنے سحر سے نکل کہ حقیقت کے راستے تو اختیار کرو بہت ممکن ہے کہ راستوں کی گرد تمہیں زندگی سے ملا ہی دے تم حسن کو سمجھ سکو اور زندگی کو جی سکو، شاید وہ پل بیداری کا تم سے پل پل ہمکلام ہے اور تم انکھیں موند کر مایوس ہو کر بیٹھے ہو، تمہیں نہیں معلوم کہ کون تمہارا مہمان ہے ۔ ۔ ۔؟

فائزہ عباس

SHARE

LEAVE A REPLY