کاش اسمبلی کو اسمبلی بنا دیا جائے ہماری آنے والی نئی حکومت سے گزارش ہے کہ اسمبلی کو اسمبلی بنا دیں ،بہت کچھ ٹھیک ہو جائے گا ،اگر وہ مراعات جو بے جا دی جاتی ہیں پارلیمینٹیرین کو وہ ختم نہ کی جائیں تو کم از کم ، کم ضرور کر دی جائیں ۔کیونکہ اسمبلی میں آنے والا سمجھتا ہے کہ جیتنے کے بعد اسے بارہ خون معاف ہو گئے اسکے ہاتھ میں ہر قسم کی سہولتوں اور آسائشوں کا نسخہ آگیا ہے وہ سیاہ کرے سفید کرے کوئی پوچھ نہیں ۔وہ عوام کے لئے کچھ کرنے اسمبلی میں نہیں آتا بلکہ اپنی خواہشات پوری کرنے اور بے محابہ رقم بٹورنے کو اسمبلی کی ذینت بنتا ہے ۔اگر ان تمام باتوں پرتوجہ کی جائے اور یہ باور کرایا جائے کہ جو کوئی اسمبلی میں آئیگا اُسے کام کرنا ہوگا عوام کا ملک کا اور اسکی ترقی اور خوشحالی کا ۔تو شاید یہ ستر سال کے لگے ذخم کچھ مندمل ہو سکینگے ورنہ ہم ابھی بھی اُسی پتھر کے دور میں رہینگے اور روتے رہینگے ،
اسمبلی میں آنے والے ارکان بھی بالکل اُسی طرح کی سوچ لے کر آتے ہیں جیسے آج کل لڑکیاں شادی کو زمے داری نہیں سمجھتیں بلکہ آزادی کا پروانہ سمجھتی ہیں ۔اسی وجہ سے آج کل طلاقوں اور سیپریشن کی وباء عام ہے ۔اب ماں باپ بھی بچیوں کو یہ تربیت نہیں دیتے کہ شادی ایک سنت اور زمے داریوں کا نام ہے گھر کو چلانے اور اپنوں کے ساتھ در گزر اور اچھائی کا معاملہ ہے ۔بلکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ماں باپ بغیر سوچے سمجھے بچیوں کی طرفداری کرتے اور انہیں گھر بیٹھنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں ۔ یہاں کی عورت جتنی جفا کش اور محنتی ہے اُس کے برعکس ہماری خواتین نے یہاں سے اور کچھ تو نہیں سیکھا بس یہ جانا ہے کہ شوہر ایک روبوٹ کی طرح کام کرے چائے بھی بنا دے بچوں کو بھی سنبھال لے اور ضروت پڑے تو کھانا بھی روز وہ ہی بنا لے یا باہر سے لے آئے ۔یہ وہ باتیں ہیں جو ہمارے خاندانی نظام کو بری طرح متاثر بھی کر رہی ہیں اور ہماری بچیوں کی ذندگی کو خراب بھی کر رہی ہیں ۔کہیں کہیں تو ہمارے چاکلیٹی انگریز بیوی کی مُٹھی میں پوری طرح آجاتے ہیں اور بچوں کا پیمپر بدلنا ،بیگم کو چائے دینا اپنا اعزاز سمجھتے ہیں اور کہیں کہیں باغی ہو جاتے ہیں اور اپنا آدھا گھر دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ،خیر یہاں تو یہ بات ایک معترضہ کے طور پر آگئی ۔جسے بھی تکلیف دے تو در غزر کی درخواست ہے لیکن سچ کڑوا ہی نہیں بہت کڑوا بھی ہوتا ہے ۔
ایک اور اسمبلی نے جیسے تیسے اپنی مدت پوری کی جو ایک خوشی کی بات ہے ۔کیونکہ یہ روایت پڑ گئی تو بہت اچھا ہے کہ قانون اور عدل کے ساتھ چلا جائے تو سب کچھ ممکن بھی ہے اور پورا بھی ہوتا ہے ۔لیکن ہماری پھر یہ ہی گزارش ہے کہ خدا را سمبلی کو اسمبلی بناؤ جو اچھی قانون سازی کرے ،اُن دُکھتی رگوں پر ہاتھ رکھے جو ہمارے لئے سوہانِ روح بنی ہوئی ہیں ۔عوام کے لئے قانون بنائیں ۔الیکشن کی ریفارمز سب سے پہلے کریں تاکہ اچھے لوگ اسمبلی کی ذینت بنیں ۔چور اُچکے نہیں ۔لوگ یہیں سے آئینگے بس انکی تربیت ضروری ہے ۔انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ جیتنے کے بعد اُن پر کتنی بڑی زمے داری عائد ہوتی ہے عوام اور ملک کی۔
ہماری تو سوچ ہے کہ اگر وہ تمام مراعات جو بے جا اور زیادہ ہیں اسمبلی کے ممبرز سے لے لی جائیں بلکہ انہیں صرف اتنا ہی دیا جائے جوانکی ضرورت اور اچھی طرح گزر بسر کے لئے درکار ہے تو اسمبلی میں اچھے اور کام کرنے والے لوگ آئینگے ۔یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ جو لوگ طاقت اور شہ کی بدولت اپنے حلقوں میں وقت گزارتے ہیں انکی سرزنش کس طرح کی جائے ۔ہمیں یہ سن کر بھی بہت دکھ ہوا کہ اسمبلی ممبران اپنی حاضری کسی دوسرے ساتھی سے لگوا کر خود غائب رہے اور پیسے وصول کرتے رہے ۔ہمارا سر شرم سے جھک گیا کہ کیا ہم اتنے ہی بے ضمیر ہو گئے ہیں ۔
چلو جو کچھ اب تک ہوا سو ہوا اب تو ہوش کے ناخون لو کم از کم اب تو عوام کو چاہئے کہ اچھے اور ایماندار ملک سے وفادار لوگوں کو ووٹ دے کر آگے لائیں کہ ہم اپنی قسمت خود ہی بدل سکتے ہیں ۔اگر کوئی منہ میں نوالہ دے بھی دے تو چبانا اور نگلنا خود ہی پڑے گا اس لئے وقت اور حالات کو غنیمت جانو اور اپنے اندر ،باہر ،آگے ،پیچھے ہر سمت میں تبدیلی لے آؤ ایسی تبدلیلی جو رحمت بن جائے ۔
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔ہماری نیک تمنائیں اپنے ملک اور اس میں رہنے والوں کے ساتھ ہیں اس خواہش کے ساتھ کہ اس دفعہ وہ اپنا حق بالکل صحٰیح اور سچائی کے ساتھ استعمال کرینگے اور ہر ہر شخص اور حرکت پر کڑی نظر رکھینگے تاکہ کسی کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملے کہ دھاندلی ہوئی ہے ۔
اخلاق بہت بڑی نعمت ہے اگر اخلاقیات کو نکال دیا جائے تو کچھ نہیں بچتا جیسا کہ ہم نے اس دور میں دیکھا ۔ضمیر مردہ ہو جائیں تو کوئی زندہ نہیں کر سکتا سوائے اس کے جسے خود ہی احساس نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے ۔بے ایمانوں کو راستہ نہ دیا جائے چھوٹٰی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بے ایمانی کو اسی وقت روکا جائے تاکہ یہ پھوڑے جو ملک کے چہرے پر نمودار ہوتے ہیں بننے نہ پائیں ۔ملک ہم سب کا ہے ہم اسکے پاسبان ہیں اس لئے اپنی اپنی زمے داری نبھائیں تاکہ روشنی ہو ۔
امبلی ممبر بننے کے لئے فارم کی جو درگت ہم نے سنی اس نے ہمیں ششدر کر دیا کہ کیا یہ ہی چہرہ ہے ہماری پرانی پارلیمنٹ کا کہ کوئی کسی بھی ملک کا شہری ہو،دوہری شہریت ہو کوئی بات نہیں ،اپنے ملک کے ساتھ اتھ دوسرے ملک میں بھی اسی وقت میں نوکری کر رہے ہو کوئی مضائقہ نہیں کتنی ہی جائیدادیں ہوں کوئی پوچھ نہیں ،بچوں کے پاس بیوی کے پاس کتنی ہی دولت ہو بتانے کی ضرورت نہیں ۔قرضے کتنے ہی لئے ہوں کتنے ہی معاف کرائے ہوں کوئی مشکل نہیں ۔ماضی میں کوئی جرم تو نہیں کیا کوئی پوچھ نہیں ۔
خدا را کچھ تو سوچو کس طرف جا رہے ہو ۔اس فارم کو سن کر تو ہمیں لگا کہ اب تک تو کرپٹ ہی آسکتے تھے اسمبلی میں اب تو قاتل اور مفرور اور ہر قسم کے جرم کے سزاوار بھی اسکی زینت بن سکینگے ۔خدانخواستہ ۔
ہماری گزارش ہے کہ اسمبلی کو ٹھیک کرو پارلیمنٹ کو عزت خود بہ خود مل جائیگی ۔پارلیمینٹیرین خود بہ خود اخلاق اور کردار کی طرف راغب ہو جائینگے ۔یہ سب سے بڑی ذمے داری ہو گی قائدِ ایوان کی ۔اخلاق اور کردار کو ہر فارم کی پہلی لائن پر لکھ لو اللہ رحم کر دے گا اور بابا رحمتے کا کام بھی ہلکا ہو جائیگا ۔میرے ملک میں بابا رحمتے بہت ہیں بس ماحول کی وجہ سے چپ سادھ گئے ہیں انہیں بولنے دو انہیں کام کرنے دو ۔
خواجہ آصف کے حق میں فیصلہ ،،، ہم قانون نہیں جانتے مگر حیران ہیں کہ سزا کن باتوں پر ملے گی ۔کیا کوئی بھی اخلاقی کمزوری کمزوری کے ضمرے میں نہیں آتی ۔یا سب کچھ جائز ہے ۔کاش ایسے معاملات کے لئے قانون سازی ہو سکے تاکہ یہ فتنے نہ اُٹھیں
اللہ میرے ملک میں اخلاق اور ایمانداری حب الوطنی کی ہوا چلا دے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY