پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف گزشتہ ڈیڑھ برس سے پاناما لیکس کرپشن کے الزامات کی زد میں رہنے کے بعد بظاہر آج کل لگ بھگ چل چلاؤ پرہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لندن کے جن فلیٹس کے بارے میں ان سے پوچھا جارہا ہے وہ نوے کےعشرے کے ابتدائی برسوں میں خریدے گئے تھے۔ جب وہ پہلی مرتبہ ملک کے وزیراعظم بنے تھے۔ اس کے بعد وہ نوے کے عشرے میں ہی دوبارہ وزیر اعظم بنے۔ مگر ان سے فلیٹس کے بارے میں نہیں پوچھا گیا، جنرل پرویز مشرف جو آنھ برس بلا شرکت غیرے حکمران رہے، اقتدارپر قبضے کے وقت ان کے ایجنڈے میں کرپشن کا خاتمہ شامل تھا، وہ کیوں نواز شریف کے خلاف کرپشن کے الزامات سامنے نہیں لائے۔ شائد اس وقت اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ نواز شریف تیسری مرتبہ ملک کے وزیر اعظم بن گئے اور اگر آج پاکستان میں سیاستدانوں کے قبیل کو دیکھا جائے تو وہ اس وقت ملک کے سب سے زیادہ تجربہ کار، مضبوط اور با اعتماد وزیراعظم نظر آتے ہیں۔
مگر ملک کی تاریخ پر نظرذالی جائے تو یوں لگتا ہے کہ پاکستان کو کسی مضبوط اور تجربہ کار وزیر اعظم کی ضرورت نہیں۔

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان جو قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے اور سیاست کے اسرار و رموز ان سے ہی سیکھ کر سیاست کے دشت میں اترے تھے۔ انیس سو پچاس میں ایک نامعلوم مگر انتہائی مشاق نشانہ باز قاتل کی گولی سے سیاست سے غائب کردئے گئے۔ غائب کرنے والے مشاق نشانہ باز کو ان کے ساتھ ہی آخری سفر پرروانہ کردیا گیا، تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔
ان کے بعد سن اٹھاون تک ملک میں پہلا مارشل لاء لگنے سے پہلے کئی اور وزرائے اعظم آتے اور جاتے رہے مگر سیاست کے افق پردوسرے اہم ، مقبول اور مضبوط وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو تھے جووزیر اعظم بننے سے پہلے کئی برس تک ملک کے وزیر خارجہ رہے، جرنیل کی حکومت سے اختلافات کی بنا پر الگ ہوئے، اپنی سیاسی جماعت بنائی جو عوامی سطح پراس قدر مقبول ہوئی کہ اس نے پاکستان کی سیاست کو بلکل ایک نئے موڑ پر لاکھڑا کیا۔ مسٹر بھٹو نے جب وزارت عظمیٰ سنبھالی تو ان کے پیچھے سیاست کا وسیع تجربہ تھا۔ اگر وہ دوسری مرتبہ وزیر اعظم رہتے تو شائد پاکستان آج سے بہت مختلف ہوتا۔ مگر وہ آمر ضیا الحق کی سازشوں کا نشانہ بن گئے اور ملک کی سیاسی بساط سے ہمیشہ کے لیے ہٹا دیے گئے۔

ضیا الحق تمام تر کوششوں کے باوجود ان کی پیپلز پارٹی کو ختم نہ کرپائے۔ بھٹو کی سیاسی وارث بے نظیر بھٹو نے کامیابی سے پارٹی کی کمان سنبھالی اور دو مرتبہ وزیر اعظم تو بنی مگر اہم پالیسی امور سے دور رکھی گئیں۔ ایک مرحلے پر انھوں نے ہمسایہ ملک بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کچھ کوشش کی تو انھیں سیکورٹی رسک قراردے کر ان کے شوہر پر کرپشن کے اس قدر مقدمات بنے کہ بینظیر نے ملک چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی۔

لیکن جب دو ہزار سات میں وہ امریکہ کے توسط سے اسی آمر سے معاہدہ کر کے ملک واپس لوٹی، جو ان کے پارٹی سربراہ بننے کو قطعی طور پرخارج از امکان قرار دے چکا تھا، اس وقت یوں لگا کہ وہ حالات اور سیاست کی چھلنی میں چھن کر ایک ایسی تجربہ کار سیاستدان بن چکی ہیں، جو ملک کے بہتر مستقبل کے لیے ایک مضبوط رہنما ثابت ہونگی۔ مگر انھیں کوئی کردار ادا کرنے سے پہلے ہی قتل کروادیا گیا۔ ان کے منظر سے ہٹنے کے بعد ان کی پارٹی قومی منظر نامے کے بجائے محض ان کے آبائی صوبے تک محدود ہوکر رہ گئی۔

اب دوسری بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کی باری ہے، جس کے سربراہ نواز شریف دشت سیاست میں طویل مسافت کے دوران تین مرتبہ وزیر اعظم بننے اور جلا وطنی کی زندگی گزارنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اگر قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر چلنا ہے تو ایک مضبوط معیشت چاہیے، جس کے لیے ہمسایہ ملک بھارت سے اچھے تعلقات استوار کرنے کے لیے کچھ بولڈ فیصلے کرنے ہونگے۔

ظاہر ہے کہ یہ ان کے سیاسی تجربے کا نچوڑ ہے، جس کے بعد لگتا ہے اب انھیں منظر سے ہٹنا ہوگا، وجہ چاہے کچھ بھی ہو

SHARE

3 COMMENTS

  1. بهت عمده تجزیه محترمه. لیکن میں یهی کهوں گا که عوام کو تجربه کار سیاستدان نهیں بلکه روٹی, کپڑا اور مکان چاهیے.

LEAVE A REPLY