پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے اتوار کو پولیس کے ساتھ مذاکرات کے بعد پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں اپنا اعلان کردہ جلسہ منعقد کیا جس میں مقررین نے ملک میں لاپتا افراد کی بازیابی کے مطالبات کو دہرایا ہے۔

پی ٹی ایم نے تاریخی موچی گیٹ کے مقام پر جلسے کا اہتمام کیا لیکن اس طرف جانے والے راستوں کو انتظامیہ نے جگہ جگہ کنٹینرز اور رکاوٹیں لگا کر بند کر رکھا تھا جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس کی اضافی نفری بھی جلسہ گاہ کے ارد گرد تعینات ہے اور یہاں آنے والوں کو تلاشی کے بعد ہی جلسے میں جانے دیا جا رہا ہے۔

جلسے میں لاپتا افراد کے اہل خانہ کے علاوہ انسانی و سماجی حقوق کے سرگرم کارکنان کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

قبل ازیں ڈی آئی جی حیدر اشرف نے وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو جلسے کی اجازت لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے دینی ہے۔ اگر انتظامیہ نے اجازت دی تو پولیس جلسے کے لیے حفاظتی انتظامات کرے گی۔

ضلعی انتظامیہ نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اس جلسے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن پشتون تحفظ موومنٹ جلسے کے منتظمین میں شامل فاروق طارق نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے ساتھ مذاکرات اچھے رہے اور انہوں نے پولیس اور انتظامیہ کو لکھ کر دے دیا ہے کہ جلسے کی وجہ سے یا جلسے کے دوران کسی بھی طرح کے امن وامان میں خلل کی صورت میں ان کی جماعت ذمہ دار ہو گی۔

“جلسہ تو ہر صورت ہو گا، پولیس نے گزشتہ رات ہمارے کچھ قائدین ڈیوس روڈ پر واقع ہوٹل سے اٹھائے تھے لیکن انہیں تین گھنٹے بعد چھوڑ دیا تھا”۔

منتظمین کے مطابق وہ پر امن لوگ ہیں اور وہ لاہور کے جلسے میں پشتونوں کے حقوق، ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور گمشدہ افراد کے معاملے پر بات کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY