قومی احتساب بیورو (نیب) نے امورِ فرائض سے لاپرواہی برتنے اور ملازمت کے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر 23 افسران کو ملازمت سے سبکدوش جبکہ 32 افسران پر جرمانے عائد کردیئے۔
نیب کے ترجمان نے بتایا کہ نیب چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کی ہداہت پر نیب کے کل 85 افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی گئی۔
اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ نیب چیئرمین خود احتسابی پر یقین کرتےہیں جس کی بنیاد پر ‘احتساب سب کے لیے’ کا نظریہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب ملک کے طول و عرض سے کرپشن کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے ۔
نیب حکام نے لاہور نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد رمضان خان کو فرائض کی انجام دہدی میں غفلت اور لاپرواہی برتنے پر معطل کردیا تاہم ضابطے کی کارروائی پوری کرنے کے لیے انکوائری بورڈ تشکیل دے دیا ہے جس میں محمد رمضان خان کو اپنے خلاف عائد الزامات میں صفائی پیش کرنے کا مواقع ملےگا۔
دوسری جانب نیب سکھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر کاشف مرتضیٰ گوندل کو پیشہ وارانہ فرائض سے مجرمانہ غفلت بھرتنے پر 3 ماہ کے لیے معطل کرکے ان کے خلاف باقاعدہ انکوائری بورڈ تشکیل دےدیا۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ مرتضیٰ گوندل کے خلاف ناصرف نیب کے اندر سے بلکہ پولیس کی جانب سے بھی متعدد شکایات موصول ہو چکی تھیں اور ملتان میں جسٹس آف پیس کی عدالت میں ان کے خلاف کیس بھی زیر سماعت ہے۔
مرتضیٰ گوندل سے متعلق ذرائع نے انکشاف کیا کہ وہ نیب افسران میں ‘انتہائی بااثر’ شخص ہیں جن کے سیاست دانوں اور بیروکریٹس سے براہ راست مراسم ہیں اور اپنے اختیارات کا مبینہ طور پر ‘ناجائز’ فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
ڈان کو موصول ہونے والی متعدد شکایات میں کہا گیا کہ نیب سکھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر مرتضیٰ گوندل شہریوں کی زمین پر مبینہ قبضے میں ملوث ہیں اور منڈی بہاؤالدین کے محکمہ ریونیو اور پولیس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افسران سے تعلقات کی وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں آتی۔
ان پر الزام ہے کہ وہ اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے پولیس کے ذریعے لوگوں دھمکاتے ہیں۔












