چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے عوام کو طبی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں جگر کی پیوند کاری کے سنٹرز کیوں نہیں بن سکتے؟ مہنگے نجی ہسپتال کو کروڑوں روپے دیدیے گئے۔ پمز میں فضلے کی بھرمار اور لیڈی ڈاکٹرز کو ہراساں کرنے کی شکایات کا بھی نوٹس لے لیا۔
اسلام آباد کے ہسپتالوں میں سربراہان تعیناتی کے کیس کی سماعت، چیف جسٹس کا پمز ہسپتال انتظامیہ کو جگر پیوند کاری مرکز کیلئے ضروریات سے آگاہ کرنے کا حکم، ایڈیشنل سیکرٹری کیڈ کی سخت سرزنش، پمز کے معاملے میں دخل اندازی سے روک دیا، وزیرِاعظم کے سیکرٹری فواد حسن فواد منگل کو طلب۔
کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سرکاری ہسپتالوں میں لیور ٹرانسپلانٹ کیوں نہیں ہو سکتا؟ طبی سہولیات دینا ریاست کا کام ہے۔ چھ سو ملین روپے دو سال میں الشفا ہسپتال کو ٹرانسپلانٹ کیلئے دئیے گئے، اس سے کم میں سرکاری ٹرانسپلانٹ سنٹر بن سکتا تھا۔ سربراہ پمز اپنی ضروریات سے آگاہ کریں، وزیر اعظم کو بھجوائیں گے۔ فضلہ ٹھکانے لگانے کی مشین کے لئے بھی پروپوزل دیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پمز میں جنسی ہراسگی کی بھی شکایات ہیں، ضروری نہیں ہر بار مرد ہی غلط ہو، لیڈی ڈاکٹرز کو ہراساں کرنے کی انکوائری ایف آئی اے سے کروائیں گے۔












