آئندہ مالی سال2018،19 کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ بجٹ وزیراعظم کے مشیر امورخزانہ ڈاکٹرمفتاح اسماعیل پیش کریں گے ملکی تاریخ میں پہلی بارایک حکومت مسلسل چھٹا وفاقی بجٹ پیش کریگی۔ اپوزیشن کی جانب سے اس موقع پر احتجاج اور ہنگا مہ آرائی کا امکان ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ چونکہ حکومت کی میعاد صرف پانچ ہفتے رہ گئی ہے اسلئے اسے پورے سال کا بجٹ پیش کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ۔ بجٹ میں 300ارب روپے سے زائد کاریلیف فراہم کرنے کا اعلان کیا جائے گا۔ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد بڑھانے سے 100ارب روپے کاریلیف ملے گا۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں زرعی پیکچ کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ بجٹ میں 200سو سے زائد اشیاءپر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کئے جانے کا امکان ۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا حجم 56کھرب روپے کے لگ بھگ ہوگا۔ایف بی آ ر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4ہزار 435ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ کی مد میں 1030ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی منصوبوں
کیلئے 575ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔بجٹ میں ٹرانسپورٹ اور کمیونیکشن کیلئے 400ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔سماجی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 135ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ وفاقی بجٹ میں تعلیم اور اعلی ٰ تعلیم کیلئے57ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ بجٹ میں صحت کیلئے 17ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے ۔سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 12ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ کے تحت گورننس کیلئے 18ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ آزاد کشمیر ،گلگت بلتستان اور فاٹا کیلئے 72ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ عارضی بے گھر افراد بحالی ،سیکیورٹی کیلئے 105ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، صوبوں کو 2550ارب روپے کے وسائل فراہم کرنے کی تجویز ہے ۔ آئندہ مالی سال میں دفاعی بجٹ کیلئے 1100ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔آئندہ مالی سال بیرون وسائل سے 13ارب ڈالر حاصل کرنے کا تخمینہ لگا یا گیا ہے۔نئے سال وفاقی بجٹ میں پنشن کی مد میں 342ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ وفاقی بجٹ میںجاری اخراجات کیلئے 445ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔نئے مالی سال سبسڈیز کی مد میں 179ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔قرضوں کی ادائیگی کی مد میں 1607ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 127ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔ آئندہ مالی سال بجٹ خسارے کا ہدف 5.3فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔آئندہ مالی سال اقتصادی ترقی کا ہدف 6.2فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔مالی سال 2018-19میںزرعی ترقی کا ہدف 3.8فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔آئندہ مالی سال اہم فصلوں کا ہدف 3فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔لائیو اسٹاک 3.8فیصد ،صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف7.6فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔ مینوفیکچرنگ 7.8 ،لارج اسکیل منیوفیکچرنگ کا ہدف 8.1فیصد رکھنے کی تجویز ہے ۔ آئندہ مالی سال کیلئے خدمات شعبے کا ہدف 6.5فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔نیشنل سیونگز 13.2،فارن سیونگز کا ہدف 3.8فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔افراط زر 6فیصد ، سرمایہ کاری کا ہدف 17.2فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔نئے مالی سال کیلئے برآمدات کا ہدف 27ارب 30کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔ درآمدات کا ہدف 56ارب 50کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔تجارتی خسارے کا ہدف 29ارب 20کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 12ارب 50کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10سے 15فیصد اضافہ متوقع ہے کم از کم پنشن کی حد 5000سے بڑھا کر 12ہزار روپے مقر رکیے جانے کا امکان ہے، ہائوس رینٹ ، ہائوس ، میڈیکل اور کنونئس الائونس میں اضافہ کیا جائیگا ، کم ازکم اجرت میں بھی اضافہ کیا جائیگا ، نان فائلر ( ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے والا ) کے لیے بجٹ میں سخت اقدامات تجویز کیے جائیں گے ، نان فائلرکے لیے40لاکھ روپے مالیت سے زائد جائیداد خریدنے پر پابندی لگا دی جائیگی ، برآمدات کا ہدف 27ارب30کروڑ ڈالر ، درآمدا ت کا ہدف56ارب50کروڑ ڈالر مقرر اور تجارتی خسارےکا ہدف 29ارب20کروڑ ڈالر مقرر کرنے کی تجویز ہے ، ٹیکسوں اور ڈیوٹی میں ردوبدل متوقع ہے لیکن کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایاجائیگا لیکن پرتعیش اشیا پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ متوقع ہے۔ اسلام آباد سے حنیف خالد کے مطابق وفاقی بجٹ سے ملکی تاریخ میں قوم کو آل ٹائم ریکارڈ ریلیف حاصل ہوگا۔ وفاقی بجٹ انوسٹمنٹ فرینڈلی ہوگا۔ اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ ایف بی آر کا سالانہ ریونیو ٹارگٹ جو رواں مالی سال کے لئے 4013 ارب کا تھا اور ایف بی آر30 جون تک آل ٹائم ریکارڈ وصولی جو 3935 ارب روپے کے لگ بھگ ہے کر کے نئی تاریخ رقم کرنے جارہا ہے۔ نئے مالی سال 2018-19 کے وفاقی میزانیے میں سو ارب روپے کی نئی جمہوری حکومت کو اپنی منشا و مرضی کے لئے استعمال کرنے کیلئے بلاک ایلوکیشن کی گئی ہے۔ وفاق کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1030 ارب دکھایا گیا مگر اس میں ایک سو ارب روپے پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ کے مختص کئے گئے ہیں چاروں صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کم و بیش ایک ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں جن کیلئے وفاقی حکومت ٹیکسوں کے قابل تقسیم پول میں سے فنڈز فراہم کریگی۔ مجوزہ وفاقی بجٹ میں وزیراعظم کا اعلان کردہ اقتصادی ٹیکس پیکج شامل کیا جائے گا۔ جس کے تحت بارہ لاکھ روپے سالانہ آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگا۔ بارہ سے 24 لاکھ روپے تک آمدنی پر صرف 5 فیصد ٹیکس وصول ہوگا۔ 24 لاکھ سے زائد آمدنی پر ٹیکس ریٹ 10 فیصد ہوگا جبکہ رواں مالی سال میں ٹیکس ریٹ 30 فیصد تک مختلف سلیب میں وصول کئے جارہے ہیں۔ وفاقی بجٹ میں سپرٹیکس کے ریٹ میں کمی کااعلان ہوگا جو آج کل3اور4فیصد ہےبونس شیرز کے اوپر بھی ٹیکس 5فیصد سے کم کرکے2،3فیصد کردیاجائے گانئے وفاقی بجٹ میں قومی فلم انڈسٹری کے لئے بہت بڑے پیکج کااعلان ہوگا30،40ایٹموں پر ٹیکس ڈیوٹی کم و بیش50فیصد کم کردی جائے گی قومی فلم انڈسٹری پرسیلز ٹیکس کسٹم ڈیوٹی میںکمی کی تفصیلات کا آج شام اعلان ہوگا فلم ساز کو انکم ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی سیلز ٹیکس 17فیصد سے کم کرکے تقریباًآدھا کردیاجائے گا۔ذرائع کے مطابق نئے وفاقی بجٹ میں سرمایہ کاری کی سکیموں میں ایک سال کی توسیع کی جائے گی جوسکیمیں رواں مالی سال میں ختم ہورہی تھیں انہیں مزید ایک سال موجودہ سہولت دے دی جائیگی نئے پروجیکٹوں میں انوسٹمنٹ کرنے والوں کو5سال کے لئے کریڈٹ ملتاہے مجوزہ وفاقی بجٹ میں سرمایہ کاری کی سکیموں پرمراعات میںاضافہ ہوگابعض ایٹموںپر ریگولیٹری ڈیوٹی کی شرحیںکم کی جارہی ہیں بعض صنعتوں کی پروڈکشن بڑھانے کے اقدامات کااعلان ہوگا وہ جومصنوعات بناتی ہیں ویسی مصنوعات کی برآمد پرریگولیٹری ڈیوٹی بڑھادی جائے گی تاکہ کوئی دوسرا ملک پاکستان میں سستامال لاکرڈمپ نہ کرسکے۔اورپاکستانی صنعتکاروں کاکاروبار بند نہ ہوجائےمعلوم ہواہے کہ بعض صنعتوں کے چند سب سیکٹروں کے بجٹ میں رعایت کااعلان ہوگا سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھادی جائے گی کچھ سروس انڈسٹری جس پر ودہولڈنگ ٹیکس 8فیصد تھا نئے وفاقی بجٹ میں اسے2فیصد کیاجارہاہے انسپکشن انڈسٹری میں پاورانڈسٹری اورودہولڈنگ ٹیکس دوفیصد وصول ہواکرے گا بیلنس شیٹ کے مطابق8فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینے والی سروس انڈسٹری سے کم وبیش 2فیصد ودہولڈنگ ٹیکس لیاجائے گا نئے وفاقی بجٹ میں معاہدہ اور اس کی قانون سازی شامل کی جائے گی جس کے تحت بنک ایف بی آر کو اسکے اکائونٹ ہولڈروں کی ضروری انفارمیشن ایف بی آر کو دیاکر ینگے ۔ماضی میں اس معاہدے سے انکار کرکے متعدد بنک کورٹ میں چلے گئے تھے نئے وفاقی بجٹ میں قانون تبدیل کیاجائے گا تاکہ بنک اکائونٹ ہولڈروں کے بارے میں ایف بی آر کو مطلوبہ انفارمیشن فراہم کریں یہ انفارمیشن بنک اکائونٹ رکھنے والے افراد کی بنک ٹرانزکشن بنک میں جمع دولت کے بارے میں ہوگی۔

SHARE

LEAVE A REPLY