نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع پلوامہ میں پیر کو پیش آئی ایک جھڑپ کے دوران عسکری تنظیم حزب المجاہدین کا ایک مقامی کمانڈر سمیر احمد بٹ عرف سمیر ٹائیگر اور اُس کا قریبی ساتھی عاقب مشتاق خان مارے گئے۔

عہدیداروں نے کہا کہ جھڑپ اُس وقت شروع ہوئی جب فوج، نیم فوجی دستوں اور مسلح پولیس نے گرمائی صدر مقام سرینگر سے 45 کلو میٹر جنوب میں واقع پلوامہ کے دربگام گاؤں کا محاصرہ کر کے وہاں موجود عسکریت پسندوں کو زندہ یا مردہ پکرنے کے لئے آپریشن شروع کردیا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ علاقے میں محصور عسکریت پسندوں نے حفاظتی دستوں پر خود کار ہتھیاروں اور دستی بموں سے وار کیا اور نتیجتا” فوج کا ایک میجر اور ایک سپاہی زخمی ہو گئے۔ بعد میں طرفین کے درمیان کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں دو عسکریت پسند کام آگئے۔

شورش زدہ ریاست کے پولیس سربراہ شیش پال وید نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا۔”دربگام پلوامہ میں ایک مشترکہ کارروائی کے دوران پیش آئے مقابلے میں حزب المجاہدین کے دو دہشت گرد مارے گئے جن میں ایک اعلیٰ کمانڈر سمیر ٹائیگر بھی شامل ہے جو کئی شہریوں کے قتل میں ملوث تھا۔ اس سے علاقے میں امن آنا چاہیے”۔

سرینگر میں شام کو پولیس کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ سمیر ٹائیگر آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا جب اُس نے پڑھائی میں عدم دلچسپی کی بنا پر اسکول جانا بند کر دیا تھا اور پھر پولیس اور دوسرے حفاظتی دستوں پر پتھراؤ کرنے والی سرگرمی کا حصہ بن گیا۔ بعد میں اس نے حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کر لی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسلح دستوں کی طرف سے علاقے کو گھیرے میں لئے جانے کے ساتھ ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد جن میں نوجوان اور نو عمر لڑکے ہر اول دستے کے طور پر شامل تھے سڑکوں پر آگئے اور پھر بھارت سے آزادی کے مطالبے اور عسکریت پسندوں کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے اُس مقام کی طرف پیش قدمی کرنے لگے جہاں حزب المجاہدین کے محصور جنگجوؤں اور فوج کے درمیان مقابلہ ہو رہا تھا۔

حفاظتی دستے ان کے راستے میں آ گئے اور اشک آور گیس کا استعمال کر کے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ نوجوانوں نے مشتعل ہو کر حفاظتی دستوں پر مبینہ طور پر سنگباری شروع کی اور جیسا کہ عہدیداروں نے الزام لگایا ہے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ فوج نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی افراد شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ ان میں سے ایک اٹھارہ سالہ شاہد اشرف ڈار کو جب پلوامہ کے ضلع اسپتال لایا گیا تو ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیدیا۔ اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ عبد الرشید پّرہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ڈار آتشیں اصلحے کے استعمال کے نتیجے میں گھمبیر طور پر زخمی ہوا تھا اور جب اسے اسپتال لایا گیا تو وہ پہلے ہی لقمہء اجل بن چکا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY