جیو نیوز کے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ کے میزبان حامد میر نے اپنے پروگرام میں بتایا کہ پاکستان کے بہت سے لوگوں نے یوگنڈا میں بھی جائیدادیں خریدی ہوئی ہیں، یوگنڈا میں اس وقت جائیدد بہت سستی ہے وہاں بینکنگ سسٹم کمزور ہے زیادہ چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے اس لیے بہت سے پاکستانی یوگنڈا، کینیا اور تنزانیہ میں اپنی دولت منتقل کر رہے ہیں، کچھ عرصہ میں افر یقن لیکس بھی سامنے آسکتی ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاویدنے کہا ہے کہ مینارِ پاکستان جلسے کے بعد لاہور ن لیگ کے ہاتھ سے نکل گیا ہے، ن لیگ کو چیلنج ہے مینارِ پاکستان پر ایک جلسہ کر کے دکھادے،شیخ رشید نے جب پی ٹی آئی کو تانگہ پارٹی قرار دیا تھا اس وقت ان کی بات درست تھی، عمران خان اقتدار میں آگئے تو اصغر خان کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، پی ٹی آئی نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا چیئرمین سینیٹ نہیں آنے دیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ ن لیگ اور پی ٹی آئی نظریاتی طورپر ایک ہی ہیں۔ن لیگ کے رہنما سینیٹر جاوید عباسی نے

کہا کہ انتخابات سے واضح ہوجائے گا عوام کس کے ساتھ ہیں،عمران خان اپنے بچوں کو خیبرپختونخوا کے اسکولوں میں کیوں نہیں پڑھاتے، سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دینے کے معاملہ پر پی ٹی آئی کے سینیٹروں کو قرآن پر ہاتھ رکھنے کیلئے کہا گیا۔

سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کراچی جلسے کی اہمیت پی ٹی آئی کے جلسے سے زیادہ ہے، اگلے دس بارہ دن میں کراچی میں ایک اور بڑا جلسہ کرنے جارہے ہیں، پی ٹی آئی کو جہاں ضرورت ہوتی ہے ہم سے ووٹ لے بھی لیتی ہے اور ہمیں ووٹ دے بھی دیتی ہے۔سینیٹر فیصل جاوید نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مینارِ پاکستان جلسے کے بعد لاہور ن لیگ کے ہاتھ سے نکل گیا ہے، پی ٹی آئی مینارِ پاکستان پر چار کامیاب ترین جلسے کرچکی ہے، ن لیگ کو چیلنج کرتا ہوں مینارِ پاکستان پر ایک جلسہ کر کے د کھا د ے ، پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے جلسے کے لوگ ملابھی لیں تو اتنے لوگ ہمارے اسٹیج پر ہوتے ہیں، کل صرف مینار پاکستان ہی نہیں پورا لاہور بھرا ہوا ہے، عمران خان کا گیارہ نکاتی ایجنڈا وقت کی ضرورت ہے، کپتان کی بال آج کل بہت سوئنگ ہورہی ہے وہ روز وکٹیں گرارہے ہیں، ہمیں کچھ وکٹیں نہیں چاہئیں انہیں باؤنسر مار رہے ہیں۔ فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ عمران خان جنرل جیلانی یا ضیاء الحق کے کندھوں پر نہیں آئے بلکہ طویل سیاسی جدوجہد کی ہے، شیخ رشید نے جب پی ٹی آئی کو تانگہ پارٹی قرار دیا تھا اس وقت ان کی بات درست تھی، لیکن اب تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے، نیلسن منڈیلا کے بعد کسی سیاسی لیڈر نے عمران خان جتنی طویل جدوجہد نہیں کی، عمران خان نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے طویل ترین سیاسی جدوجہد کی، پرویز مشرف اپنے ایجنڈے سے ہٹے تو عمران خان نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ فیصل جاوید نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک ہی ہیں، عمران خان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے لیکن شریف اور زرداری خاندان کی جائیدادیں اور مفادات باہر ہیں، ان کے بچے پکڑے جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم پاکستانی نہیں ہم پر پاکستانی قوانین لاگو نہیں ہوتے ،ان کے سر میں بھی درد ہو تو علاج کرانے باہر چلے جاتے ہیں۔فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی پالیسیاں یکساں ہیں،

دونوں جماعتیں الیکشن کے قریب لوگوں کو دکھانے کیلئے ولن بن جاتی ہیں، عمران خان اقتدار میں آگئے تو اصغر خان کیس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، اب احتساب کی اگلی باری آصف زرداری کی ہے، پی ٹی آئی نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا چیئرمین سینیٹ نہیں آنے دیا، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی نے پروگرام میں قبول کرلیا ہے کہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لاہور جلسے میں پورے پاکستان سے لوگ شریک ہوئے تھے، عمران خان نے خود مختلف شہروں کے نام لے کر لوگوں کا شکریہ اد اکیا تھا،عمران خان کی پیپلز پارٹی سے متعلق پوزیشن نہایت سخت رہی ہے لیکن سانحہ ماڈل ٹاؤن اور چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں ان کے ساتھ مل گئے، عمران خان جلسے میں خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی بھی بتانی چاہئے تھی۔ جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ ن لیگ ہر علاقے میں مقامی سطح پر جلسے کرتی ہے، عام انتخابات کے نتائج سے واضح ہوجائے گا عوام کس کے ساتھ ہے، عمران خان اپنے بچوں کو خیبرپختونخوا کے اسکولوں میں کیوں نہیں پڑھاتے، صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ بنے تو ایوان میں آصف زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگے، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی آزادانہ طور پر چیئرمین سینیٹ کیلئے اکٹھی ہوئی تھیں تو شیری رحمن کے اپوزیشن لیڈر بننے پر اختلاف کیوں ہوا، سلیم مانڈوی والا کو ووٹ دینے کے معاملہ پر پی ٹی آئی کے سینیٹروں کو قرآن پر ہاتھ رکھنے کیلئے کہا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY