پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کروانے کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں 2 درخواستیں دائر کردی گئیں۔

لاہور ہائیکورٹ میں نواز شریف کے خلاف پہلی درخواست پاکستان عوامی تحریک ( پی اے ٹی ) کے رہنما خرم نواز گنڈاپور کی جانب سے ایڈووکیٹ اشتیاق چوہدری نے دائر کی۔

عدالت میں دائر درخواست میں نواز شریف، وزارت داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، ساتھ ہی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو بدنام کیا۔

مزید پڑھیں: قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس: ممبئی حملے سے متعلق بیان گمراہ کن قرار

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف کا ممبئی حملوں سے متعلق بیان، ملک سے غداری کے مترادف ہے، لہٰذا عدالت نواز شریف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت غداری کی کارروائی کا حکم جاری کرے۔

دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان زندہ باد پارٹی کے ایڈووکیٹ آفتاب ورک کی جانب سے نواز شریف کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کے لیے درخواست دائر کی گئی۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ نواز شریف نے پاکستان اور قومی اداروں کو بدنام کیا اور ان کا بیان غداری کے مترادف ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ وہ نواز شریف کے اس بیان کےخلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

بعد ازاں عدالت نے پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور کی جانب سے دائر کردہ درخواست سماعت کے لیے مقرر کردی، جس پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شمس محمود مرزا 15 مئی کو سماعت کریں گے۔

خیال رہے کہ 2 روز قبل نواز شریف کی جانب سے ڈان اخبار کو ایک انٹرویو دیا گیا تھا، جس میں انہوں نے ممبئی حملوں کے حوالے سے بات کی تھی، اس بیان کے بعد میڈیا پر ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔

اپنے انٹرویو میں نواز شریف نے ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنھیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں؟

SHARE

LEAVE A REPLY