بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی دو روزہ سرکاری دورے پر روس میں موجود ہیں۔ ماہرین عالمی منظرنامے اور علاقائی صورتِ حال کے تناظر میں بھارتی وزیرِ اعظم کے دورے کو اہم قرار دے رہے ہیں۔
نریندر مودی روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی دعوت پر بھارت روس سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے گئے ہوئے ہیں۔
وہ نو جولائی کی شام کو وہاں سے آسٹریا جائیں گے۔ گزشتہ 40 برس میں کسی بھارتی وزیرِ اعظم کا آسٹریا کا یہ پہلا دورہ ہو گا۔
دورے پر روانہ ہونے سے قبل انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ روس اور آسٹریا کا دورہ دونوں ملکوں سے بھارت کو تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک موقع فراہم کرے گا۔ ان کے بقول دونوں ملکوں کے ساتھ بھارت کے دیرینہ دوستانہ تعلقات ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ روس اور بھارت کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری گزشتہ 10 برسوں میں مزید آگے بڑھی ہے۔ توانائی، سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، صحت، تعلیم، ثقافت، سیاحت اور عوام سے عوام کے درمیان رابطے جیسے شعبوں میں باہمی تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیرِ اعظم مودی کے دورے کے سلسلے میں روس بھی پرجوش ہے۔ اس نے اس دورے کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مودی کے اس دورے سے مغربی ممالک حسد کر رہے ہیں۔
کریملن کے ترجمان دیمیتری پیسکوف نے روس کے سرکاری ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ وزیرِ اعظم مودی کا پروگرام بہت وسیع ہو گا۔ دونوں رہنماؤں میں غیر رسمی بات چیت بھی ہو گی۔ یاد رہے کہ ان میں وفود سطح کے علاوہ تنہائی میں بھی مذاکرات ہوں گے۔













