عصمت چغتائی روشن خیال فکشن رائیڑ.آفتاب احمد

0
138

بیسویں صدی کے وسط میں ہر طرف منٹو، کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی جیسے افسانہ نگاروں کا ڈنکا بج رہا تھاکہ ایک اور نام برابر آن کھڑا ہوا،یہ نام تھا عصمت چغتائی کا۔

عصمت چغتائی ہندوستان کی ایک مشہور اردو مصنفہ، جنہوں نے افسانہ نگاری، خاکہ نگاری اور ناول نگاری میں نام پیدا کیا۔ اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ جبکہ جودھ پور میں پلی بڑھیں، جہاں ان کے والد،مرزا قسیم بیگ چغتائی، ایک سول ملازم تھے۔ راشدہ جہاں، واجدہ تبسم اور قراۃالعین حیدر کی طرح عصمت چغتائی نے بھی اردو ادب میں انقلاب پیدا کر دیا۔ عصمت چغتائی لکھنؤ میں پروگریسیو رائٹرز موومنٹ سے بھی منسلک رہیں۔

عصمت چغتائی نے اپنے قلم کے ذریعے برصغیر میں پہلی بار عورتوں کے مسائل خصوصاً معاشرتی گھٹن اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ راشدہ جہاں ، واجدہ تبسم اور قراۃالعین حیدر کی طرح عصمت چغتائی نے بھی اردو ادب میں انقلاب پیدا کر دیا جنہیں اردو کی مختصر کہانی نویسی کا ایک اہم ستون قرار دیا جاتا ہے۔ وہ سعادت حسن منٹو ، کرشن چندر اور راجندر سنگھ بیدی کی ہم عصر ادیبہ تھیں۔

عصمت چغتائی کی پیدائش 21 اگست، 1915ء میں ہندوستان کے شہر بدایوں میں ہوئی۔ ان کا آبائی وطن جودھ پور تھا اور وہیں عصمت کا بچپن بھی گزرا۔ ان کے چھ بھائی اور چار بہنیں تھیں۔ ان میں عصمت نویں نمبر پر تھیں۔ اور 76 سال کی عمر میں 1991ء میں ان کا انتقال ہو گیا۔

عصمت کے بڑے بھائی عظیم بیگ چغتائی اپنے دور کے مقبول ادیب تھے۔ عصمت نے کالج کے زمانے میں ہی ایک کہانی ’’ فسادی‘‘ لکھی جو ساقی میں شائع ہوئی۔ سنہ 1941 میں علی گڑھ میں دوران تعلیم ان کی شاہد لطیف سے دوستی ہوئی جو بعد میں شادی میں تبدیل ہو گئی۔ لیکن’لحاف‘کی اشاعت کے ساتھ ساتھ خاندان میں ایسا بھونچال آیا کہ یہ شادی ٹوٹتے ٹوٹتے بچی۔ ’لحاف‘ شادی سے صرف دو ماہ قبل شائع ہوئی تھی اور یہ عصمت کی سب سے بد نام کہانی ہے۔ عصمت نے تین سو سے زائد کہانیاں لکھیں جو پانچ افسانوی مجموعوں کی شکل میں شائع ہوئیں ان میں کلیاں،10چوٹیں، چھوئی موئی، ایک بات، دو ہاتھ شامل ہیں۔ ان کے ناولوں کے نام ہیں: ٹیڑھی لکیر، ضدی، اک قطرہ خون، دل کی دنیا، معصومہ اور بہروپ نگر۔

ان کا افسانہ ’لحاف‘ اپنے ساتھ فحش نگاری کے الزامات لایا، فحش نگاری کا مقدمہ بھی چلا مگر سماج کی یہ باغی کئی ادبی اعزازت کی بھی حقدار ٹھہریں۔

ضدی یہ فلم 1948 میں عصمت چغتائی نے لکھی تھی۔ 1950 میں آرزو فلم کے انھوں نے ڈاءیلاگ بھی لکھے اور اسکرین پلے بھی جب کہ کہانی بھی عصمت چغتائی کی ہی تھی۔ 1958 ء میں سونے کی چڑیا فلم کی کہانی بھی انھوں نے ہی لکھی۔1974 ء میں ایک فلم آئی تھی جس کا نام گرم ہوا تھا جو عصمت چغتائی کے ایک افسانہ کو بنیاد بنا کر بنائی گئی تھی۔ اس فلم کے ڈاءیلاگ اور اسکرین پلے کیفی اعظمی اور شمع زیدی نے تحریر کیے تھے۔ اس کے علاوہ عصمت چغتائی نے فلم جنون اور فلم محفل کے بھی ڈاءیلاگ تحریرکئے

عصمت چغتائی بلاشبہ ایسی اہم ادیب ہیں، جن کی بہادر، انوکھی، غیر معمولی تحریروں نے انھیں ایک غیر معمولی مقام عطا کیا۔ وہ مسلسل ایک باوقار حیثیت میں اپنے پیڈسٹل پر کھڑی رہیں اور ان کی حیثیت کو کوئی چیلنج نہ کر سکا۔ آج اتنے عرصے بعد بھی ہم بیسویں صدی کی اس روشن خیال، ترقی پسند، جرات مند ادیب کے افسانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ عصمت چغتائی کی کتابیں کبھی آوٹ آف پرنٹ نہیں ہوتیں۔

وہ منٹو کی طرح سو سائٹی کے ڈھکوسلوں اور منافقتوں کا پر دہ چاک کر کے، اس کا اصل اور مکروہ چہرہ سامنے لاتی رہیں۔ مفاہمت اور مصلحت، اس بے خوف ادیب کا مسلک نہ تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ادیبوں اور دانش وروں کا رجحان مارکسزم اور ریئل ازم کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سگمنڈ فرائیڈ کی تھیوریوں پر سر دھنا جا رہا تھا۔ ڈی ایچ لارنس کی روش پر چلتے، ممنوع باتوں کو کھل کر کہہ دینے کی حوصلہ افزائی ہو رہی تھی۔ انکشافات کے ڈھیر لگائے جا رہے تھے۔

ایسے میں عصمت بھی اپنے ہم عصروں کی طرح قلم سونت کر میدان میں اتر آئیں اورکرداروں کی چیر پھاڑ کرنے، کاری زخم لگانے کا عمل شروع کر دیا۔ غیر روایتی اور نئے انداز کی کہانیاں لکھنا شروع کر دیں۔ بہشتی زیور کی لکڑی کی بنی عورتوں، اکبری اور اصغری جیسے بے جان مورتوں کے پھوسڑے اُڑا کر رکھ دیئے۔

عصمت نے پہلی بار باہر کی سچائیوں کے ساتھ ساتھ انسان کی اندرونی کیفیات، نفسیات اور کرب کو بیان کرنے کی کوشش کی جس میں وہ بہت کام یاب رہیں۔ ان کا فنِ تحریر، زندگی سے شروع ہو کر ہمارے اندر کا مشاہدہ کرتے ہوئے نکھرتا ہے، تو قیمتی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔

ان کے کردار مسلسل حرکت اور عمل کے ذریعے اپنے پر پرزے نکالتے اور پرواز کی خواہش کرتے ہیں۔ وہ ساکت و جامد نہیں رہتے، بل کہ ان کا فطری ارتقا ہو تا رہتا ہے۔ یہ کردار اپنے سماج، تہذیب اور ماحول کے نمایندے تو ہوتے ہیں، مگر اپنے حال سے مطمئن نہیں رہتے؛ بے چین، بے زار اور شاکی رہتے ہیں۔ کہانی چلتی رہتی ہے۔

عصمت چغتائی نے زیادہ تر اٹھارویں اور انیسویں صدی کی پردہ نشیں مسلم عورت کو مو ضوع بنایا۔ یہ وہ عورت تھی جس کی زندگی پابندی اور گھٹن سے عبارت تھی۔ اس کی اپنی کوئی حیثیت نہ تھی۔ عصمت نے بتایا کہ ہر عورت ایک مکمل انسان ہے کوئی چابی کی گڑیا نہیں کہ چابی گھما دو، تو وہ اٹھ کر حرکت کرنے لگے؛ ورنہ بے جان بے سدھ ایک کونے میں پڑی سسکتی رہے۔

’’لحاف‘‘ جیسے افسانے پر عصمت چغتائی کو بہت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ حالاں کہ یہ کچھ ایسا نیا موضوع بھی نہ تھا۔ حسن عسکری نے بھی اپنے افسانے ’چائے کی پیالی‘ میں اشاروں کنایوں میں ایسی بات کی تھی۔ مگر عورت کی تحریر تھی، اس لیے سبھی لٹھ لے کر اس کے پیچھے پڑ گئے اور باز پرس شروع کر دی۔ مگر عصمت اپنے افسانے کا تحفظ کرنا خوب جانتی تھیں، سو وہ ڈٹ گئیں اور بہادری کی ایک مثال قائم کر دی۔

میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ جب عصمت کو عدالت کے سمن بھیجے گئے، تو ان کے شوہر شاہد لطیف گھبرا گئے۔ بولے

معافی مانگو ورنہ جیل چلی جاو گی۔‘‘

عصمت نے جواب دیا: ’’معافی تومیں کبھی نہ مانگوں گی۔ اچھا ہے مجھے جیل بھیج دیں، میں تو ہمیشہ سے جیل جانا چاہتی تھی تاکہ وہاں جاوں اور عجیب و غریب کہانیاں تلاش کروں۔

آپ ہی بتایئے کیا بر صغیرمیں اس وقت ایسی کوئی عورت ہو سکتی تھی، جو ایسے افکار اور اپنے آدرشوں پر قائم رہے اور ان سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹے۔

عصمت چغتائی نے خواتین اور ان سے جڑے مسائل پر لکھا ہے۔ ان کے افسانے اور ناول متوسط طبقہ کی خواتین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کا پہلا افسانہ ”گیندا“ ہے۔ اس افسانے میں انھوں نے کئی اہم موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ اس افسانہ کا مرکزی کردار گیندا ہے۔ یہ ایک نہایت غریب لڑکی ہے۔ اس کی سہیلی ایک اوسط درجہ کے گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ کہانی اسی لڑکی کی زبانی سنائی گئی ہے۔ دونوں بچپن سے ساتھ کھیلتے ہیں۔ گیندا کی بچپن میں ہی شادی ہوجاتی ہے اور وہ بیوہ بھی ہو جاتی ہے۔ کھیل کے دوران میں جب گیندا کو سیندور دیا جاتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ”بدھوا کاہے کو سنگھار کرے“۔ گیندا کی سہیلی کا بھائی گیندا کو ماں بنادیتا ہے۔ کسی طرح لڑکے کو دہلی بھیج دیا جاتا ہے۔ سال دیڑھ سال بعد گیندا کی سہیلی واپس آتی ہے تو گیندا کی گود میں بچہ ہوتا ہے۔

چوتھی کا جوڑا“عصمت چغتائی کا نمائندہ افسانہ ہے۔ یہ ایک غریب بیوہ بی اماں کے خاندان کی کہانی ہے۔ دو بیٹیوں کی ماں گھر میں زری کا کام کرکے اپنی اور بیٹیوں کی کفالت کرتی ہے۔ کبریٰ بڑی لڑکی ہے جس کی عمر کافی بڑھ چکی ہے اور اس کی شادی کی فکر میں وہ گھلی جا رہی ہے۔ جب کہ چھوٹی بیٹیا وحیدہ ہے۔ زری اور کترن کے کام میں بی اماں بہت زیادہ ماہر تھی اور محلہ کی عورتیں جن کپڑوں میں مکمل سلائی نہ ہوتی وہ لاکر بی اماں کے حوالے کردیتے اور وہ اس طرح سے کترن کرتی کہ کپڑا برابر ہوجاتا۔ یہ مہارت وہ استقلال کے ساتھ کرتی اور محلہ کی عورتیں حیرت سے اس کا منہ تکتی۔ بی اماں کی مہارت کے بعد عصمت چغتائی نے اس بیوہ کی دلی خواہش کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اپنی بیٹی کی شادی کی خواہش دل میں لیے وہ بار بار چوتھی کا جوڑا بناتی اور پرانا ہونے پر اسے ادھیڑ کر پھر سے نیا کردیتی۔

عصمت کی ناول نگاری

ان کے مشہورِ زمانہ ناولوں میں ضدی، معصومہ، ٹیڑھی لکیروغیرہ شامل ہیں۔ ٹیرھی لکیر کا انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔

اردو کی تاریخ ساز افسانہ نگار عصمت چغتائی سماج کی باغی تھیں انہوں نے ہر سطح پر بغاوت کی۔ وہ زندگی بھر حقوق نسواں کے لیے جدو جہد کرتی رہیں اور اپنی تحریروں کے شعلے کو تیز سے تیز تر کیا۔ لیکن تنازعات بھی مسلسل ان کا تعاقب کرتے رہے، جس سے وہ کبھی پیچھا نہیں چھڑا سکیں۔

اس کے علاوہ عصمت نے اپنے فلم ساز شوہر شاہد لطیف کی فلموں کے لیے بارہ کہانیاں لکھی تھیں۔ جن میں سے پانچ فلمیں انہوں نے خود بنائیں۔ ان کی سر گزشت’ کاغذی ہے پیرہن‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ عصمت نے شیام بینگل کی فلم ’’جنون‘‘ کے نہ صرف مکالمے لکھے تھے بلکہ اس میں ایک کردار بھی ادا کیا تھا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عصمت اپنے افسانے ’لحاف‘ کی وجہ سے کافی بدنام ہوئیں اور اس افسانے پر عدالت میں مقدمہ بھی چلا۔ اتفاق سے منٹو کے افسانہ ’بو‘ اور عصمت کے افسانہ پر ساتھ ساتھ مقدمہ چلا تھا۔ ان کے گھر جب پولس وارنٹ لے کر پہنچی تو گھر میں ایک عجیب کیفیت پیدا ہو گئی، جس کا ismat3ذکر عصمت نے ’کاغذی ہے پیرہن‘ میں کیا ہے۔

مقدمہ ختم ہو گیا، فیصلہ عصمت چغتائی کے حق میں ہوا لیکن ’ لحاف‘ کا لیبل ان پر ساری زندگی چپکا رہا۔ وہ خود ہی کہتی ہیں:

’’لحاف کا لیبل اب بھی ہماری ہستی پر چپکا ہوا ہے اور جسے لوگ شہرت کہتے ہیں وہ بدنامی کی صورت میں اس افسانے پر اتنی ملی کہ الٹی آنے لگی۔ ’’لحاف‘‘ میری چڑ بن گیا تھا، میں کچھ بھی لکھوں ’’لحاف‘‘ کی تہوں میں دب جاتا تھا۔ جب میں نے’ٹیڑھی لکیر‘ لکھی اور شاہد احمد دہلوی کو بھیجی تو انہوں نے محمد حسن عسکری کو پڑھنے کو دی۔ انہوں نے مجھے رائے دی کہ میں اپنے ناول کی ہیروئن کو ’لحاف‘ زدہ بنا دوں۔

عورتوں کے مسائل پیش کرنے والے افسانوں پر نظر ڈالی جائے تو عصمت چغتائی کے افسانے سرفہرست نظر آئیں گے۔ عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں میں عورت کی زندگی کے تقریباً ہر پہلو کو پیش کرتے ہوئے انھیں درپیش مختلف مسائل کو اُجاگر کیا ہے۔ گویا ’عورت‘ ان کے تمام افسانوں کا موضوعاتی محور ہے، جہاں ایک طرف ان کے افسانوں کی خصوصیت عورتوں کے مسائل ہیں، وہیں اس کا دوسرا پہلو جنسیات بھی ہے۔ انھوں نے کہیں کہیں تو بڑی بے باکی سے جنسیات کا ذکر کیا ہے جس کی مثال ان کا افسانہ ’لحاف‘ ہے۔ ’لحاف‘ میں جب انھوں نے عورتوں کی ہم جنسی کے پہلو کو اُجاگر کیا تو اس کے سبب ان کو مقدمہ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ کہیں انھیں فحش نگار کہہ کر ناپسند کیا گیا تو کہیں حقیقت نگار کہہ کر ان کے اقدام کو سراہا گیا۔ جب عصمت چغتائی سے ان پر لگے فحش نگاری کے الزام پر صفائی مانگی گئی تو انھوں نے بڑی بے باکی سے کہہ ڈالا ’’دُنیا میں کچھ بھی گندا نہیں۔ اگر بدن گندا نہیں ہے تو اس کا ذکر بھی گندا نہیں‘‘۔

اگرچہ منٹو اور دوسرے افسانہ نگاروں نے بھی جنسیات اور عورت کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا ہے، مگر عصمت چغتائی نے جس طرح سے جنسیات کو اپنے افسانوں میں پیش کیا اور جس طرح عورتوں کے مسائل کا ذکر کیا ہے، وہ دوسروں کے یہاں بمشکل تمام ہی ملتا ہے۔ عصمت کے افسانے عورت کو ہر رنگ اور روپ میں بیان کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انھوں نے عورت ہوکر عورتوں کے مسائل پر قلم اُٹھایا ہے۔ عصمت چغتائی نے ہر طبقہ کی عورتوں کے مسائل کو پیش کیا ہے اور ہر طبقہ کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگوں کی خوشیاں، غم، طرز زندگی اور ان کے نفسیاتی، جنسی، معاشی کوائف، غرض کہ زندگی کے تمام پہلوؤں کو انھوں نے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے۔

عصمت چغتائی نے صرف نوجوان لڑکیوں کے مسائل کے بارے میں ہی نہیں لکھا بلکہ نوجوان لڑکوں کی جنس مخالف کی جانب کشش کو بھی اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے۔ افسانہ ’’ہیرو‘‘ کا نوجوان نوکر ’سکھا‘ جو حمیدہ بی بی کی طرف مائل ہے، وہ اگرچہ اس کے لئے اپنی محبت کو پوری طرح نہیں سمجھ پاتا، لیکن حمیدہ بی بی کے لئے اسے ہر کام کرنے میں راحت ملتی ہے۔ اسی طرح ’’خدمت گار‘‘ میں گھر میں پلا بڑھا ایک نوجوان نوکر اپنی نوجوان مالکہ کی محبت میں گرفتار ہوتا جاتا ہے، مگر کم عمری کی وجہ سے اسے محبت کے جذبہ کا احساس نہیں ہوتا۔ محبت کا احساس اسے اُس وقت ہوتا ہے، جب مالکہ کا رشتہ امیر آدمی سے ہوجاتا ہے۔

عصمت چغتائی نے اپنے بعض افسانوں میں جنسیات کے بغیر بھی رومانوی جذبات کو موضوع بنایا ہے۔ افسانہ ’’تنہا تنہا‘‘ میں کالج کے دو اسٹوڈنٹس کی محبت کو پیش کیا ہے جو ایک دوسرے کو چاہتے تو ہیں، مگر اس کا اظہار نہیں کرتے۔ تقسیم ہند کے بعد دونوں جدا ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے کی محبت میں تنہا تنہا زندگی گزار دیتے ہیں، گویا جدائی اور دُوری ہونے کے بعد بھی ان کی محبت ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح ’پنکچر‘ بھی عصمت کا رومانوی افسانہ ہے جس میں دو کردار ’میں‘ اور ’وہ‘ اتفاقی طور پر ملتے ہیں اور ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں، مگر انا کی وجہ سے کوئی بھی اپنی محبت کا اظہار نہیں کرتا۔ آخرکار جب ’میں‘ کی منگنی کسی اور سے ہوجاتی ہے تو ’وہ‘ ہار مان جاتا ہے اور اظہار محبت کرکے شادی کی درخواست کرتا ہے جسے ’میں‘ قبول کرلیتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ محبت میں انا کبھی شامل نہیں ہونی چاہئے، ورنہ جدائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

عصمت کو زبان پر غیر معمولی قدرت حاصل ہے۔ وہ کرداروں کی فطری زبان سے بخوبی واقف ہیں ۔ ماحول، مقام اور واقعات کو مدِّ نظر رکھ کروہ زبان کا استعمال کرتی ہیں ۔ان افسا نوں کے علاوہ بھی عصمت کے بہت سے افسانوں میں عشق و رومان کی کیفیت دیکھی جا سکتی ہے ۔ان کے یہاں رومان انفعالی صورت میں نہیں ملتا ہے ،وہ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی تشکیل کے ساتھ مردو عورت کے ما بین باوقار اور سچی محبت کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عصمت کا فن اس امر کا متقاضی ہے کہ ان کی تخلیقات کا جائزہ لیتے وقت ان پہلوﺅں کو سامنے رکھا جائے جو بہت کم زیر ِ بحث آئے ہیں ۔

عصمت چغتائی نے غربت کی چکی میں پستی عورتوں کی مجبوریوں اور محرومیوں کو بھی اپنے افسانوں میں جگہ دی ہے۔ افسانہ ’’بھیڑیں‘‘ میں یہ حقیقت سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے کہ اس معاشرے میں کہیں کہیں عورتوں کو جانور سے بھی زیادہ حقیر سمجھا جاتا ہے۔ عصمت چغتائی نے اپنے افسانوں میں بیوہ عورتوں کے مسائل اور معاشرے میں ان کے ساتھ افسوس ناک سلوک کو بھی موضوع بنایا ہے۔ ’’عشق پر زور نہیں‘‘ میں انھوں نے ’خلیفن بوا‘ کے کردار کے ذریعہ ہمارے معاشرے میں ایسی عورتوں کی حالتِ زار کو پیش کیا ہے جو بیوگی کی وجہ سے اپنوں میں بھی بیگانگی کی زندگی گزارتی ہیں۔ عصمت نے لڑکیوں کی شادی کو بھی اپنے افسانے کا موضوع بنایا ہے جس کی مشہور مثال ان کا افسانہ ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ ہے، اس میں انھوں نے دکھایا ہے کہ بعض لڑکیاں اگرچہ ہر لحاظ سے شادی کے قابل ہوتی ہیں اور ایک اچھی بیوی بننے کی تمام خوبیاں ان میں موجود ہوتی ہیں، مگر غربت کی وجہ سے انکی شادی نہیں ہوپاتی، یہاں تک کہ وہ گھر بسانے کی آرزو اپنے دِل ہی میں دفن کرکے اس دُنیا سے رخصت ہوجاتی ہیں۔

عصمت چغتائی پر فحش نگاری، عریانیت اور تلذذ پرستی سے کام لینے کا الزام رکھنا آسان ہے۔ اس سے پوری طرح انکار بھی نہیں کیا جاسکتا، لیکن فنی محاسن کی پاسداری کے ساتھ انھوں نے معاشرے اور ماحول کی جو ڈھکی چھپی سچائیاں جس مخصوص انداز سے دکھائی ہیں اور جس فنی چابکدستی کے ساتھ ان کی عکاسی کی ہے، وہ بہرحال اُردو کے افسانوی ادب کا یادگار سرمایہ ہے۔

اردو ادب میں عصمت چغتائی ایک ایسی مشہور ناول نگار ہیںجنہوں نے ترقی پسند تحریک کے دور میں ناول کے فن میں نمایاں مقام حاصل کیا۔عصمت ایک ترقی پسند فکشن نگار کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ اورناولوں کے علا وہ ان کے افسانے بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں۔

عصمت چغتائی نے اپنے ناولوں میں نسوانی کرب کو عورت کی نظر سے دیکھا اور اسے اپنے تیکھے لب ولہجے میں تفصیل، تواتر اور شدّت کے ساتھ پیش کردیا۔ وہ مرد کی حاکمانہ اور جابرانہ برتری کے خلاف تھیں۔ انھوں نے سماج میں عورت کو تضحیک وتذلیل کی شے سمجھنے والے رویے کی مخالفت کی۔

عصمت چغتائی نے اپنی ادبی زندگی کے سفر میں چھ طویل اور چار مختصر ناول تحریر کیا۔ ان کا پہلا ناول ’’ضدی‘‘۱۹۴۰ء میں شائع ہوا۔ اس میںاعلی طبقے کی روایت پرستی اور ادنی طبقے کی قدامت پرستی کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے ۔اس ناول کے مرکزی کرداروں میں ایک پورن سنگھ ہے جس کا تعلق زمیندار گھرانے سے ہے جو ایک خود سراور ضدی کردار ہے۔ دوسرا کردار آشا ہے جو ایک نچلے طبقے کی ملازمہ ہے۔ پورن اور آشا کے درمیان بے باکانہ عشق اور پرانے وفرسودہ روایات کی بت شکنی اس ناول کی فضا کو موثر بناتی ہے۔ یہ ناول بظاہر ایک عام سارومانی ناول ہے مگر اس سرمایہ دارانہ نظام پر گہر اطنز بھی ہے۔

بہر حال عصمت چغتائی کی ناول نگاری پر گرچہ یہ الزام عائدکیا جاتا رہا ہے کہ ان کا فن محدود ہے مگر عصمت نے عورتوں کی نفسیات اور ان کے مسائل کو جس طرح سمجھا ہے اپنی تحریروں میں اسے زبان وبیان کے چٹخارے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ عصمت اپنے دور کی ایک اہم فن کار ہیں اور ناول کی دنیا میں ان کی بنائے ہوئے نقوش ہمیشہ خاص اہمیت کے حامل رہیں گے۔

اردو ادب میں جو امتیاز ان کو حاصل ہے اس سے منکر ہونا کج بینی اور بخل سے کم نہ ہوگا۔ہمارے ادب جدید کے پات ضرور چکنے چکنے ہیں لیکن اس میں ابھی بھی بڑے بڑے پھول نہیں لگے۔ اتنی حد بندی کرلینے کے بعد ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے میں ذرا بھی تامل نہ ہونا چاہئے کہ عصمت کی شخصیت اردو ادب کے لئے باعث فخر ہے۔ انہوں نے بعض ایسی پرانی فصیلوں میں رخنے ڈال دیئے ہیں کہ جب تک وہ کھڑی تھیں کئی رستے آنکھوں سے اوجھل تھے اس کارنامہ کے لئے اردو خوانوں ہی کو نہیں بلکہ اردو کے ادیبوں کو بھی ان کا ممنون ہونا چاہئے۔

عصمت چغتائی نے اپنی تحریروں کے ذریعہ خواتین کو سماجی معاشرتی جکڑ بندیوں سے باہر نکل کر فخر کے ساتھ مردوں کے شانہ بشانہ سر اٹھا کر چلنے کا سلیقہ دیا جو اردو ادب کے ذریعہ 20ویں صدی کی خواتین کی بہت بڑی خدمت تھی۔ انہوں نے بے تکان لکھا اور معیار پر بھی کوئی سمجھوتہ نہ کیا اس لئے انکے افسانے اردو ادب میں زندہ جاوید ہو چکے ہیں اور نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ہیں

آفتاب احمد

کراچی

SHARE

LEAVE A REPLY