سعودی عرب کی عدالتِ عظمیٰ نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ جمعرات کو شوال المکرم کا چاند نظر آنے کی صورت میں اپنے نزدیک ترین عدالت یا رجسٹرار کو اطلاع دیں ۔

عدالت نے رؤیت ہلال کمیٹیوں میں شمولیت کے خواہاں شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مختلف مقامات میں قائم کمیٹیوں سے اس مقصد کے لیے رجوع کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب کی فلکیاتی رصد گاہوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جمعرات 29 رمضان کی شب سورج غروب ہونے سے 42 منٹ قبل نئے ہلال کی پیدائش ہوگی ۔اس لیے اگر مطلع صاف ہوا تو جمعرات کی شب شوال المکرم کا چاند نظر آنے کا واضح امکان ہے۔

سعودی عرب کے ایک ماہر موسمیات عبدالعزیز الحسینی نے چند روز قبل کہا تھا کہ اس مرتبہ رمضان المبارک انتیس دن کا ہونے کا امکان ہے اور عید الفطر جمعہ 15 جون کو ہوگی۔انھوں نے بتایاکہ فلکیات کے اس اندازے کا انحصار عید کے چاند کی رؤیت کے دن موسم کے صاف ہونے پر ہے۔

نئے اسلامی مہینے کا آغاز رؤیت ہلال کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اور اسلامی کیلنڈر کا ہر مہینہ 29 یا 30 دن کا ہوتا ہے۔ چاند کی حرکت اور ایام میں اس رد وبدل کی بنا پر اسلامی مہینے کا آغاز کسی خاص تاریخ یا دن کو نہیں ہوتا بلکہ ہر سال اسلامی مہینے کے ایام تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

چاند کی رؤیت کے اعلان کے لیے دو معتبر شہادتیں ہونا ضروری ہیں اور ان کی شہادتوں کے بعد نئے قمری مہینے کے آغاز کا اعلان کیا جاتا ہے۔نیز ہر ملک میں چاند کی رؤیت وقت کے فرق کی وجہ سے مختلف ہوسکتی ہے اور مختلف ممالک میں مختلف دنوں میں نئے اسلامی مہینے کا آغاز ہوسکتا ہے۔اسی لیے دنیا کے مختلف ممالک میں عید مختلف دنوں میں منائی جاتی ہے۔

قرآن مجید میں بیان کردہ تعلیمات اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور روایت کے مطابق ہلال کی رؤیت پر رمضان المبارک کا آغاز کیا جاتا ہے اور پھر 29 یا 30 روزے پورے ہونے اور شوال کا چاند نظر آنے پر عید الفطر منائی جاتی ہے۔

بالعموم تمام اسلامی ممالک میں سرکاری رؤیت ہلال کمیٹیاں یا سینیر علماء پر مشتمل بورڈ ٹھوس اور معتبر شہادتوں کی بنیاد پر نیا چاند نظر آنے کا اعلان کرتے ہیں۔اس مرتبہ اتفاق سے سعودی عرب اور پاکستان سمیت بیشتر اسلامی ممالک میں ایک ہی دن رمضان کا آغاز ہوا تھا۔اس لیے عید الفطر ایک ہی دن منائے جانے کا امکان ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY