آج سوچا تھا کہ پلپلا ماتھا پھوٹا کہ پھوٹا ،مگر کبھی کبھی لگتا ہے کہ ہم پتھر کے زمانے میں رہ رہے ہیں جہاں سب کچھ سامنے ہوتے ہوئے بھی حقائق کی تلاش میں سالوں نہیں قرنوں لگ جاتے ہیں کہ نہ سفر کے وسائل ہیں نہ کوئی خبر مہینہ بھر پہلے مل سکتی ہے اور نہ ہی شاید کوئی رزائع ہیں کہ سچ تک رسائی ہو سکے ۔اس لئے کبھی کبھی صبر بھی آجاتا ہے کہ کیا کریں بیچارے کوئی آسانی ہے ہی نہیں کہ سچ تک پہنچ سکیں ،سب سے زیادہ افسوس یہ ہے کہ ان اونچی کروڑوں کی بنی دیواروں کو انصاف نہیں پھلانگ سکتا شاید ۔ہماری خوش فہمی تھی کہ جلد انصاف ہوگا کیونکہ معاملہ بہت سنجیدہ اور الزامات بیرونِ زرائع سے سامنے آئے تھے ۔مگر ہم داد دینگے اپنے اداروں کو جو دن رات کام کر کے بھی میاں صاحب کے سزا ملنے کے حق میں شاید نہیں ہیں کیونکہ آج جناب وکیل صاحب بھی کہہ گئے کہ اب اور نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہی وہ سارے حربے ہیں جو یہ ایماندار ملک سے محبت کرنے والے ووٹ کو عزت دینے والے عوام کے دکھ کے ساتھی استعمال کرتے ہیں اور فرعونی قوتوں کو بھی پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ۔میاں صاحب کے ای سی ایل کا فیصلہ کرنے والی کمیٹی نہ کبھی بنی نہ بن سکتی ہے اس لئے وہ بھی سدھارے لندن کہ وہ ہی ان کا ملک ہے اور وہ ہی جائے پناہ کیونکہ ہم چھوٹ دیتے ہیں ہر ملزم کو کہ کہ تم جہاں تک جا سکتے ہو جاؤ ہمارے تو پیر سوجے ہوئے ہیں ہم چل ہی نہیں سکتے ۔ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہم آپ کو خوشخبری دیتے ہیں کہ سب بری ہو جائینگے ۔اور ہم اور آپ صرف دیکھتے رہ جائینگے ؟؟؟
میں کسی کو بھی سزا دلانے کے حق میں ہوں نہ چھوڑ دینے کے مگر جب معاملہ عوام کا اور اعتماد کا ہو تو سزا لازم ہے پھر کوئی بھی چھری تلے آئے ۔ورنہ نہ انصاف کہیں ہوگا نہ ہی ہم بدل سکینگے ،اُس ماحول کو جس نے ہمیں ازیتوں کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ ہمیں اُن معصوم لوگوں پر بھی بہت پیار آتا ہے جو کہتے ہیں ‘‘ کھادا ہے تے لگادا وی اے ،ساڈا ووٹ شیر دا ‘‘ کاش تم خود شیر بنو کہ ‘‘نہ کھان دیاں گے ، نہ بھاگن دیاں گے ۔ کہ تم معصوموں کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ اگر کھا کر ملک ہی میں رکھا ہوتا تو کوئی مضائقہ نہیں تھا انہوں نے تو اتنا کھایا کہ دوسروں کی معیشت اور بینکوں کو تو بھر دیا لیکن اپنے ملک کے بینک خالی کر دئے ایسی ایمپائر بنائی کہ تمہارے بڑے بڑے ادارے بھی آج تک دوسال ہو گئے ان کے لگائے لوگوں تک کو نہ پکڑ سکتے ہیں نہ ہی اُن پر ہاتھ ڈال سکتے ہیں کیونکہ یہ ناسور پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں ۔اور اگر پکڑنے کی بات آتی ہے تو انہیں باہر جانے کا پورا پورا وقت بھی دیا جاتا ہے اور موقعہ بھی۔ جو شاید ہی کسی ملک کی روایت ہے اب بھی شُنید ہے کہ جانا چاہتے ہو تو چلے جاؤ بس یہ بتا دو واپس کب آؤگے ؟ ہم سر کھجا رہے ہیں کیونکہ ایسے ماحول میں ہم خود کو ہی تکلیف دے سکتے ہیں ۔
آج جناب خاقان عباسی صاحب کا ایک انٹروئیو سُنا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا فرمایا کہ سو موٹو ختم کردو ملک ٹھیک ہو جائیگا ترقی کرے گا ،قانون کو دفع دور کر دو ملک بام پر پہنچ جائیگا ،نیب کو ختم کردو ایمانداری کی ہوا چل جائیگی ۔ہم حیران ہیں کہ کیسے ملک کے ہمدرد ہیں کہ چاہتے ہیں کہ کرپشن کو عام کر دو کوئی نہ پکڑے ،غریب کی سننے والا کوئی نہ ہو ،کتنا ہی کوئی ملک کو لوٹے کوئی پوچھ نہ ہو کیا یہ ہی ہیں ہمارے ملک سے محبت کرنے والے کیونکہ خود ڈوبے ہوئے ہیں کرپشن کی دلدل میں اور چاہتے ہیں کہ ملک میں کرپشن ،بی ایمانی اور دھوکہ جائز قرار دے دیا جائے کوئی نہ پکڑنے والا ہو نہ اس پر بات کرنے والا ،پھر چاہے ایل این جی ہو یا کوئی اور ٹھیکہ اور یہ تو ہمیں ویسے بھی نظر آرہا ہے کہ حدیبیہ پیپر کیس دَب گیا ،ماڈل ٹاؤن کہاں گیا پتہ نہیں ۔میاں صاحب کے سارے کرپشن جائز ،شھباز کو بلانے کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا ،چھپن کمپنیاں کوئی بات نہیں ۔جب انصاف سوتا ہے تو بے ایمانی کرپشن اور دھوکہ جاگتا ہے اور تباہ کر دیتا ہے ہر اچھی سوچ ہر اچھے مقصد اور ہر اچھی بات کو کھا جاتا ہے بھیڑئے کی طرح ۔۔۔۔
لیکن ہمارے مُنصف بھی جانے کیسے ہیں کہ انہیں نہ چھوٹ دینے میں کوئی عار ہے نہ مہلت دینے میں کوئی جھجک ۔لیکن کہاں تک یہ شاید اللہ ہی کو پتہ ہے ۔ہم توا تنا جانتے ہیں کہ جب کبھی امید کی کرن چمکتی ہے اگلے ہی لمحےایسے کردار سامنے آتے ہیں کہ ہم اندھیرے گھُپ میں ٹامک توئیاں مارتے رہ جاتے ہیں ۔جیسا کہ کئیر ٹیکر حکومت بھی ہمیں ہر قسم کی نا انصافی اور اقرباء پروری کی طرف جاتی نظر آرہی ہے ۔جب مُنصف بھی دھاروں میں بہہ جائیں تو کہنے کو کچھ نہیں بچتا سوائے دعا کے کہ اللہ ہمارے ملک کو بچائے ۔پنجاب کے کئیر ٹیکر سے امید تھی کہ ایک اچھی سوچ سامنے لائینگے مگر افسوس وہاں بھی سب کچھ مصلحت کی نظر ہے۔۔۔ کدہر جائیں کدہر دیکھیں ۔

ہماری تو بس اتنی گزارش ہے کہ خدا را اپنی اقدار کو اپناؤ نہ مغرب کو دیکھو نہ مشرق کو اپنے اسلاف کی روایات پر چلو اپنی کتاب کے احکامات کو مانو اور ان پر عمل کرو کہ دنیا میں ہمارے علم ہی نے سب کو اخلاق اور سچ کی اہمیت بتائی اور ایمانداری اور تہزیب کا درس دیا اور ہم نے ان باتوں کو پسِ پُشت ڈال دیا دنیا نے ان پر عمل کیا اور ہم نے جُزدان میں تہہ کر کے رکھ دیا ۔جنہوں نے اس علم پر عمل کیا وہ کہیں سے کہیں پہنچ گئے اور ہم راندہ درگاہ ہو گئے کیونکہ ہم نے اُس رسی کو پکڑنا چھوڑ دیا جس کا حکم ہمیں اللہ کی طرف سے ملا تھا ۔ہم نے دنیا کو سامنے اور عاقبت کو پیچھے کر دیا ۔ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا اگر سنبھل جائیں ۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سب کچھ عوام کے سامنے لایا جاتا مگر ہمیں لگتا ہے کہ انصاف بھی ان اونچی اونچی دیواروں کو نہیں پھلانگ سکتا جو بَم پروف بھی ہیں ،بُلٹ پروف بھی ہیں اور شاید سزا پروف بھی ۔یہ حالات بتا رہے ہیں ہم کچھ نہیں کہہ رہے ۔لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں کہ سنبھلنے کے لئے موقعہ ملتا ہے ،ضائع کر دیا جائے تو پھر کوئی بچت نہیں ہوتی ۔زرداری صاحب تک کسی کی پہنچ نہیں کیونکہ انکی پارٹی کے بقول وہ سزا بُھگت کر دھوبی بیٹا چاند سا ہوگئے ہیں ۔ہم بھی نہیں چاہتے کہ ہمارے لیڈر ایسی غلاظتوں میں پھنسیں مگر جن پر الزامات ہیں اُنہیں سامنے لانا بھی ضروری ہے کہ اگلی نسل کے لئے روشن قدم چھوڑو ، کیچڑ بھرے نہیں ۔
خان صاحب عمرے کے لئے گئے اللہ قبول فرمائے مگر ہم سوچ رہے ہیں کہاں مختلف ہیں اُن لوگوں سے جن کے ان ہی اقدامات کو ہم لکھ لکھ کر تھک گئے ہیں ۔وہ ہی چارٹر جہاز ہیں وہ ہی ملینئیر ساتھی ہیں اور سنتے ہیں کسی کو تو شاید ای سی ایل سے بھی نکلوا کر ساتھ للے گئے ہیں ۔کہاں ہے تبدیلی اور کیوں یہ سب کیا جاتا ہے ہم عوام کو دھوکہ دینے کے لئے ۔ہم نے تو سوچا تھا کہ آپ ان سب باتوں سے بہت اوپر ہونگے اپنی بیوی کے ساتھ عام فلائٹ سے جائینگے، آپ کو تو اب اپنی ساتھی کے ساتھ اس بات پر اور بھی طاقت سے عمل کرنا چاہئے کہ کوئی بھی ایسی بات نہ کریں جن پر اُنگلیاں اُٹھیں ۔
میں نے خان صاحب کی حمایت جب سے کی جب میرے بیٹے سی اے ایس اسکول میں ان کے لئے شوکت خانم کا چندہ اکھٹا کرتے تھے ۔مگر میں اس بات کو کبھی بھی صحیح نہیں سمجھتی کہ جسے آپ اچھا سمجھیں اسکی ہر بات کو اچھا سمجھیں ۔میری خواہش ہے کہ خان صاحب تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو ان کے ہر روئیے سے تبدیلی کی خوشبو آنی چاہئے ورنہ ، نواز ہو یا زرداری کیا فرق پڑتا ہے ۔۔فرق جب پڑے گا جب آپ ایک الگ راستہ اختیار کرینگے بہت مشکل ہے مگر تبدیلی لانے والے بڑے پاگل ہوتے ہیں وہ اپنی نہیں قوم کی طرف دیکھتے ہیں ۔
آپہ سب کو عید بہت بہت مبارک ۔اللہ سب کی عبادات کو قبول فرمائے اور اس رمضان میں کی گئی نیکیوں کو ہم سب ساری زندگی کے لئے اپنا لیں تاکہ رحمتوں کے دَر ہم سب پر کھلے رہیں انشاء اللہ

SHARE

LEAVE A REPLY