ایک زمانہ تھا جب ہر کسی کی کوئی نہ کوئی چِڑ بنا لی جاتی تھی ۔جیسے کسی کو بھنڈی سے چڑایا جاتا تھا کسی کو ٹنڈے سے ۔لیکن ہماری اپوزایشن اور حکومت مخالف لوگوں نے عجیب ہی روایت ڈالی کہ ایلکشن میں جیت کر آنے والے کو سلیکٹڈ کہہ کہہ کر حکومت کی چڑ بنا دی اور اپنے ہی نعرے کی مخالفت کر دی کہ ووٹ کو عزت دو ۔وہ جس طرح سب کے ووٹوں کی بے عزتی کر رہی ہیں خود کیسے جائیں گی دوبارہ ووٹ لینے ۔۔حالانکہ ہمارا خیال ہے کہ سلیکٹڈ ہو یا الیکٹڈ ہو اگر ملک کے لئے کام کر رہا ہے ملک کی تقدیر کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے تو وہ ہمارے لئے اُن سب سے زیادہ محترم اور قابلِ اعتماد ہے جو نام نہاد ایلیکٹڈ ہو کر اس ملک کو لوٹتے کھسوٹتے رہے اور اب بھی اس کی کمر توڑنے سے باز نہیں آرہے ۔ ہمیں ایسے سابقہ ایلکٹڈ اور جھوٹے لوگوں سے اب چِڑ ہو گئی ہے ۔جنہوں نے ابھی تک نہ اپنی روش بدلی اور نہ ہی اپنے کرتوتوں کے جواب دئے بلکہ روز روز ایک سے ایک نیا انکشاف سامنے آرہا ہے ۔لیکن جواب کوئی نہیں ہے ۔کیا ایسے ہوتے ہیں نام نہاد ایلکٹڈ جنہوں نے ملک کا بیڑہ غرق کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھی ہمیں اسمبلی کے چئیر مین پر بھی غصہ ہے کہ انہوں نے بلاوجہ ایک بے وقوفی کی بات پر روک لگا کر اُسے عام کر دیا ۔
ہمارا خیال ہے کہ امریکہ کا کامیاب ترین دورہ بہت سے لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث بن گیا ہے کیونکہ یہ وزیرِ اعظم وہاں ایک ایسی تاریخ رقم کر آیا جو شاید مدتوں کو ئی دُہرا نہیں سکے گا یہاں بھی ہم اُن تمام پاکستانیوں کے شکر گزار ہیں جنہوں ایرینا کو بھر کر ہماری عزت رکھی اور یہ ثابت کیا کہ پاکستانی جہاں ہوگا اگر اُس کا لیڈر ایماندار اور کچھ کرنے کو تیار ہے تو وہ اس کا بھر پور ساتھ دینے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں ۔ہمیں اندازہ ہے کہ ہم یہاں رہنے والے گھڑی کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں یہاں کسی بھی کام کے لئے وقت نکالنا پڑتا ہے اس لئے وہ سارے پاکستانی خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جنہوں نے اپنے ملک کی شان بڑھائی ۔اور وہاں کے صدر کو یہ باور کرایا کہ ہم ایک قوم ہیں ایک باوقار اور سمجھدار قوم جو اپنے مسائل اور اپنی حیثیت کا ادارک رکھتی ہے ۔
امریکہ کے دورے کی کامیابی وزیرِ اعظم کی نہیں پورے پاکستان کی کامیابی ہے کیونکہ ہم نے کبھی کسی دورے کے بعد خود کو اتنا طاقتور محسوس نہیں کیاجتنا اس دورے کے بعد کہ کم از کم ہمیں پرچی پڑھتا اور ہکلاتا وزیرِ اعظم نظر نہیں آیا جس کے جانے کے بعد ہمیں سوائے ایڈ اور ڈالر کی پکار کے کچھ سنائی نہیں دیتا تھا ۔لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ہے کہ ہمیں خود کو مضبوط بنانا ہوگا ہر شعبے میں ،تاکہ ہم اپنی حیثیت منوا سکیں ایک باشعور اور مہزب قوم کی طرح ۔ہم میں کوئی کمی نہیں ہے۔۔ بہت کھیل لئے ہم نادیدہ اور دیدہ طاقتوں کے ہاتھ میں اب ہر محاز پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔کیوںکہ یہ ہی لوگ جو سَر پر بٹھاتے ہیں گرانے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے ۔سب لوگ اپنے اپنے مفادات دیکھتے ہیں ہمیں بھی اپنے مفادات کی بات کرنا چاہئے اور خود کو اس قابل بناناچاہئے کہ لوگ ہماری حیثیت کو تسلیم کریں ۔
ملک میں یومِ سیاہ بھی منایا گیا اور یوم تشکر بھی ۔سیاہ منانے والے تو یقینا` حق بہ جانب ہیں کہ انکی زندگی میں اتنے سیاہ دن شاید ہی کبھی آئے ہوں جب ہر تدبیر اور ہر ترکیب بے فائدہ ہو ۔جب اپنے بھی تتر بتر ہو جائیں ۔جب ہر چال اُلٹی پڑ جائے ۔جب ہر بازی پلٹتی نظر آئے ۔جب ہر گڑھا خود اپنے لئے کھود لیا جائے تو پھر یومِ سیاہ تو بنتا ہے ۔مولانا صاحب کس ڈگر پر چل پڑے ہیں وہ شاید سب سے زیادہ خود اُن کے لئے نقصان دہ ہو جائیگی کیونکہ مزہب کا کارڈ کبھی نہیں کھیلنا چاہئے اور وہ تو ایک زیرک سیاست دان بھی ہیں انہیں ایسی باتوں سے گریز لازمی کرنا چاہئے ۔کیونکہ ایک مولانا ہوتے ہوئے آپ کیسے ایسی باتیں کر سکتے ہیں جو کسی طور کسی پڑھے لکھے اور دین کا علم رکھنے والے سے متوقع نہیں ہیں ۔بغض و عناد رکھنے سے منع فرمایا گیا ہے ۔ شاید یہ بھی علم نہیں ہے کہ آپ اپنی ان باتوں سے اور کھُل کر سامنے آتے ہیں کہ آپ کی سوچ کیا ہے ۔اختلاف ستر بار کریں لیکن اتنی دور نہ جائیں کہ واپسی ناممکن ہو جائے ۔
بلاول صاحب کس کے کہنے پر چل رہے ہیں ہمیں نہیں پتہ لیکن وہ جو باتیں کر رہے ہیں وہ ان کو کسی بھی قسم کا فائدہ نہیں دے سکتیں یہ ہم جانتے ہیں کہ انہیں شاید ہی پتہ ہو کہ وہ کیا تقریر کر رہے ہیں اور اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔کیونکہ اگر اُن کی اردو بولنے میں اچھی نہیں ہے تو سمجھنے میں تو اور بھی مشکل ہو گی اس لئے جو تقریر کرتے ہیں اگر اُس کا انگلش ترجمہ کر کے پڑھ لیا کریں تو بڑا افاقہ ہوگا کیونکہ ہم نہیں سمجھتے کہ وہ ایک پاکستانی ہوتے ہوئے کسی بھی ایسی بات کو جائز سمجھتے ہوں گے جو ملک کے مفاد کے خلاف ہو اس لئے ہمیں امید ہے کہ وہ اپنا دماغ استعمال کریں گے ۔
ہماری استدعا ہے اب وزہراعظم صاحب سے کہ آپ نے کہا کہ میں اپنی پارٹی سے لیڈر نکالوں گا بہت خوش آئیند بات ہے آپ چاہیں تو بہت سے عمران خان بن سکتے ہیں اآپ کے دور میں جو ملک اور قوم کی محبت اور غریبوں کی محبت سے سر شاسر ہوں اور ان کے لئے کام کریں ۔اب آپ بھی بیانات سے نکل آئیے ،عمل کی طرف قدم بڑھائیے ۔کچھ کر کے دکھائیے اس ے پہلے کہ لوگ بد دل ہو جائیں یہ بھی آپ پر اللہ کا کرم ہے کہ لوگ ابھی آپ کے ساتھ ہیں لیکن پیٹ اور ضروریات بہت ظالم ہوتی ہیں اچھے اچھوں کو زمین بوس کر دیتی ہیں ۔مہنگائی کی طرف توجہ دیجئے خالی احساس پروگرام سے کچھ نہیں ہوگا اُن کا بھی احساس کیجئے جو سفید پوش ہیں اور اپنی سفید پوشی قائم رکھنے کے لئے جد وجہد کر رہے ہیں ۔سب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے سفید پوش طبقہ جو نہ امیروں میں آتا ہے نہ غریبوں میں اور سب سے زیادہ تکلیف اُٹھاتا ہے ۔اب آپ واقعئی ریاست کو ماں جیسی بنا کر دکھائیں ۔بہت باتیں کر لیں بہت اعلانات ہو گئے ،بہت افتتاح ہو گئے ،اب کچھ کر دکھانے کا وقت ہے کیونکہ ملک کے لوگ اب آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں بیرونی محاز آپ نے بہت اچھی طرح طے کئے اب ملک کے اندر دیکھیں ۔
سب سے پہلے اُن دُکھتے پھوڑوں پر مرہم رکھیں جنہوں نے ازیت دینے کی انتہاء کر دی ہے ،پولیس کا شعبہ ۔رشوت کی لعنت جو ابھی بھی سُنا ہے کہ جاری و ساری ہے کم از کم اچھے لوگوں کو اختیار دیں کہ وہ ان ناسوروں کو ختم کرنے میں آپ کی مدد کریں ۔کبھی اپنے وزراء سے کہیں کہ عام آدمی کے روپ میں ان محکموں میں جاکر دیکھیں جہاں رشوت کے بغیر کام نہیں ہوتے تاکہ پتہ چلے کہ کون کون ان کاروباروں میں شامل ہے ۔اور غریب کا جینا محال ہے ۔اگر ملک میں سب کام پراپر چینل سے ہو تو کوئی ضرورت نہیں ہے کسی کو وہ راشی بنے ،جب تک آپ ان دکھتی رگوں پر ہاتھ نہیں ڈالیں گے صفائی ممکن نہیں ہوگی ۔اپنے تمام ساتھیوں سے کہئے کہ بس اب کام کرنا ہے تاکہ ملک کے عوام کو کچھ سکون مل سکے ۔
اللہ کی مدد آپ کے شامل حال ہے تو اب ملک نے جوکچھ دیا ہے اُس کے واپس کرنے کا بھی وقت ہے تاکہ ہم سب ہی سرخرو ہو سکیں ۔کیونکہ یہ جملہ آپ ہی کا ہے کہ “ اللہ مجھے سب کچھ دے بیٹھا ہے “، تو اب آپ اس کے شکرانے کے لئے غریب کی تقدیر بدلیں ۔عوام کی تقدیر بدلیں ۔
اللہ میرے ملک کا محافظ ہو آمین
سلیکٹڈ ہو یا ایلیکٹڈ , عالم آرا
556
0












