معروف کشمیری صحافی سید شجاعت بخاری کے قتل کے خلاف جمعرات کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں عام ہڑتال کی جارہی ہے۔

پچاس سالہ شجاعت بخاری انگریزی روزنامے ‘رائزنگ کشمیر’ کے مدیرِ اعلیٰ تھے جنہیں نامعلوم افراد نے 14 جون کی شام کو اُس وقت گولیاں مارکر قتل کردی اتھا جب وہ سرینگر کے مشتاق پریس اینکلیو میں واقع اپنے دفتر سے نکل کر گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھ رہے تھے۔

اس حملے میں اُن کے دو ذاتی محافظ حمید چوہدری اور ممتاز اعوان بھی ہلاک ہوئے تھے۔

حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ لیکن پولیس نے اس قتل کا الزام کشمیر میں سرگرم عسکریت پسندوں پر عائد کیا ہے۔

شجاعت بخاری کے قتل کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جارہی ہے۔ وہ اردو روزنامے ‘بلند کشمیر’، کشمیری اخبار ‘سنگرمال’ اور اردو ہفت روزہ ‘پرچم’ کے مدیر و مالک بھی تھے اور کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر سرکاری رابطوں اور مذاکرات میں بھی خاصے سرگرم تھے۔

جمعرات کو ہڑتال کی وجہ سے مسلم اکثریتی وادئ کشمیر میں کاروبارِ زندگی مفلوج ہے۔

ہڑتال کی اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد ‘مشترکہ مزاحمتی قیادت’ نے دی ہے۔

کشمیری قائدین نے اپنا یہ مطالبہ دہرایا ہے کہ شجاعت بخاری کے قتل کی تحقیقات کسی غیر جانب دار اور قابلِِ اعتماد بین الاقوامی ادارے سے کرائی جائیں۔

اتحاد کا کہنا ہے کہ ہڑتال کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں عام شہریوں کی مسلسل ہلاکتوں کے خلاف بھی کی جارہی ہے۔

ہڑتال کے موقع پر وادئ کشمیر میں بازار، بینک اور تعلیمی ادارے بند ہیں اور سڑکوں پر صرف آٹو رکشا اور نجی گاڑیاں چل رہی ہیں۔

ریاست کے گرمائی صدر مقام سرینگر اور وادی کے بعض دوسرے علاقوں میں پولیس اور نیم فرجی دستے سڑکوں پر گشت کر رہے ہیں اور اہم چوراہوں، حساس مقامات، سرکاری عمارتوں اور دوسری تنصیبات کی حفاظت کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

پولیس نے جمعرات کو علی الصباح سرینگر کے مائسیمہ علاقے میں قوم پرست جماعت ‘جموں کشمیر لبریشن فرنٹ’ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں حفاظتی حراست میں لے لیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY