کیمیونٹی سینٹر سے نکلتے اور گھر پہنچتے پہنچتے ساڑھے آٹھ بج چکے تھے ۔۔ بارش تھی کہ تھم ہی نہ رہی تھی ۔۔ چھتری تھامے گیٹ بند کرکے گھر کے اندر پہنچی تو آفتاب چائے پر انتظار کر رہے تھے ۔۔ میں نے انہیں مالی کادیا ہوا تبرک دیا ۔۔ بقول آفتاب کے جس کے لئے میں کلاس میں جاتی تھی ۔۔
ہو گئیں مالی سے ضروری باتیں ۔۔
جی ۔۔آج زیادہ روحیں نہیں آئیں تھیں ۔۔ مالی نے ہمیں سکھایا تھا کہ ہم جب تک خود کو روح نہیں سمجھیں گے کبھی انسانی لبادے کی کشش یعنی رشتوں کی قید سے آزاد نہ ہو پائیں گے ۔۔ محبت انسان کو مضبوط اور آزادی سے اڑنا سکھاتی ہے۔ ہمارے رشتے اس اڑان میں کمزوری بن جائیں تو ہم چڑیا جتنا بھی اڑ نہیں پاتے ۔ ہم روحوں کے سفر پر ہیں۔۔ہمیں رشتوں کے لباس میں روحیں ہی ملی ہیں۔۔ہم سب یہاں اپنے اپنے سفر پر ہیں۔۔اپنی محبت میں باندھ کر نہ انہیں اڑنے سے روکیں اور نہ ہی اپنا سفر کھوٹا کیجئے ۔۔ کتنے ہی لیکچرز میں انہوں نے ہمیں سمجھایا تھا کہ محبت اور اٹیچمنٹ میں فرق سمجھنا ہر روح کی ذمہ داری ہے۔سو سینٹر میں ہم سب ایک دوسرے کو سول یعنی روح ہی سمجھتے اور کہتے تھے ۔۔۔جس سے آفتاب واقف تھے ۔

ہم روحوں کے سفر پر ہیں
ویسے بھی عادت بنانے میں دن ہی کتنے لگتے ہیں ۔۔ یورپی جرنل آف سوشل سائیکالوجی میں شائع ہونے والی 2009 کی ایک تحقیق کے مطابق ایک شخص کو نئی عادت بنانے میں 18 سے 254 دن لگتے ہیں۔ یعنی اوسطاً، نئے رویے کو خودکار ہونے میں 66 دن لگتے ہیں ۔۔ اور مجھے مالی کی کلاس میں جاتے ہوئے ڈیڑھ سال ہونے والے تھا ۔۔۔
کل تین جون ہے اور ہمیں بون اسکین کے لئے صبح دس بجے ایکسرے سینٹر پر پہنچنا ہے جس کے لئے ہمیں نو بجے تک گھر سے نکل جانا چاہیئے ۔۔آفتاب نے مجھے یاد دلایا ۔
جی ۔۔ جانتی ہوں
میں سوچ رہی تھی کہ واپسی پر کچھ جگہیں دیکھ لیں
کیا مطلب ۔۔ کونسی جگہیں
جی اپنی قبر کی جگہ میں خود دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔ یاد ہے یسین بھائی بتا رہے تھے کہ لیور پول اور قریب کے کسی قبرستان میں جگہ نہیں رہی ۔۔اب شاید دور کہیں جانا ہو ۔ دیکھ لیتے ۔۔ کہ کتنی دور ہے ۔۔ ویسے اگر اسلام میں بھی مردے جلانے کی اجازت ہوتی تو میں اپنی راکھ کو نونم گارڈن میں چھڑکنے کا کہہ دیتی ۔۔

نونم گارڈن
نونم گارڈن ہمارے گھر کے سامنے کا لان کا ایک حصہ تھا جہاں ہماری بلیاں نونم ، بگو اور کالا آرام کر رہے تھے ۔۔ وہاں ہم نے ان کے پسندیدہ کھلونوں کے ساتھ ساتھ گلاب ، چنبیلی اور آئی برڈ کے پودے لگا رکھے تھے ۔۔۔ کیا تھاجو میں بھی ان کے ساتھ جا رہتی ۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا
ارے ابھی اتنی جلدی تم نے کہاں جانا ہے ۔۔ تمہیں نے کہا تھا کہ میری لاٹری نہیں نکلنے دوگی ۔۔ تو یہ کام ابھی رہنے دو ۔۔ مجھے لگا جیسے آفتاب اس موضوع سے بچنا چاہ رہے تھے ۔
جیسے آپ چاہیں ۔۔لیکن مجھے بچوں سے ضرور بات کرنی ہے کہ وہ سب اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ۔۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ میں جہاں جس زمین پر مروں وہیں دفن کر دیجئے گا ۔۔اور آنے جانے کے پیسے چیرٹی کر دیجئے گا ۔۔ سنا ہے جس مٹی سے انسان بنائے جاتے ہیں اسی مٹی میں چلے جاتے ہیں ۔
اور سنیئے کفن تو امی جی کا لایا ہوا میرے پاس ہے ۔۔ یاد ہے نہ جب وہ چچی خالدہ کے ساتھ عمرے پر گئی تھیں تو میری فرمائش پر میرے لئے تحفتا لائی تھیں ۔۔۔ وہ میری الماری میں سامنے ہی رکھا ہے سبز تھیلی میں بند ہے ۔۔ میں آمنہ کو دے دونگی اور ساتھ ہی اسے نہلانے اور پہنانے کا بھی سمجھا دونگی ۔۔اس کو سب یاد رہے گا ۔۔۔
چائے کیسی ہے ۔۔آفتاب پھر موضوع بدلنا چاہ رہے تھے شاید ۔۔۔ لیکن یہ باتیں بہت اہم تھیں ۔۔ کم از کم میرے لئے بہت ضروری تھیں ۔حالانکہ یہ باتیں میں کل بون اسکین کے بعد کرنا چاہتی تھی ۔۔جانے کیوں میں یہ سب انہیں ابھی بتا دینا چاہتی تھی ۔۔ مجھے کس بات کی جلدی تھی ۔۔ خود میری اپنی سمجھ سے باہر تھا ۔

اور سنیئے یہ میری ڈائری ہے ۔۔۔ سرخ کور والی ڈائری میں نے آفتاب کے سامنے رکھ دی
اور سنیئے یہ میری ڈائری ہے ۔۔۔ سرخ کور والی ڈائری میں نے آفتاب کے سامنے رکھ دی ۔۔ وہ حیرانی سے مجھے دیکھ رہے تھے ۔
مجھ پر کسی کے پیسوں کا کوئی قرض نہیں ہے جو مجھے لوٹانا ہو ۔۔
ہاں مجھے دکھ ہے کہ چیرٹی اب شاید اتنی نہ کر پاؤں گی ۔۔ وقت مل بھی گیا تو اتنا کام شاید نہ کر سکوں ۔۔ سو میں نے سب کو اطلاع کر دی ہے کہ میں اب شاید ان کے لئے کچھ نہ کر سکوں ۔۔۔ لیکن اگر کبھی آپ کادل کرے کہ کوئی چیرٹی میر ے نام سے کریں تو بہاولپور میں نتھینل جون بھائی کا فاطمہ اولڈ ہوم اور بیت المسرت کے یتیم بچوں کی خدمت کرنا میری پہلی خواہش ہو گی ۔۔ میری روح کو بہت خوشی ہو گی ۔۔ ڈائری میں ان کی بینک ڈیٹیل اور فون نمبر ہے ۔۔۔ یہ وصیت نہیں میری خوشی ہے ۔
اور ۔۔ہاں جو وصیت ہم نے 2019 میں جاپان جانے سے پہلے بنوائی تھی ۔۔ وکیل سے کہہ کر تھوڑی تبدیلی کروا دیجئے ۔۔ میں چاہتی ہوں کہ اس میں لکھئے کہ ہمارے ساتھ اگر کسی حادثے میں ہمارے بچے بھی نہ رہیں تو سب کچھ پوتے پوتیوں اورنواسے نواسیوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے ۔۔ اور اگر خد انہ کرے کسی حادثے میں ہم میں سے کوئی بھی نہ بچے تو سب اثاثے سڈنی میں بچوں کے کینسر کی تحقیق میں جمع کروا دیا جائے ۔ اور ہاں وہ تمام زیور جو میرے استعمال میں ہونگے وہ میری بیٹی آًمنہ کے ہیں ۔۔ بینک میں جوزیور رکھے ہیں ان پر سب کے نام درج ہیں ۔ جوں کا توں سب کو دے دیجئے گا ۔ رہی بات میرے کپڑوں اور کتابوں کی ۔۔ سب عطیہ کر دیجئے گا ۔۔۔ اس ڈائری میں یہ تفصیل بھی لکھ دی ہے ۔
ایک بات آپ کو بتانا بھول گئی تھی کہ آرگن ڈونیشن اعضا عطیہ کرنے والوں سے معلوم کیا تھا ۔۔وہ کہہ رہے تھے کہ اگر میں پانچ برس تک کینسر فری رہونگی تو تب ہی اپنے اعضاء عطیہ کر پاؤنگی ۔۔ میں معافی مانگتی ہوں ان سات سے دس لوگوں سے جنہیں میرے اعضاء مل سکتے تھے ۔۔ مجھے احساس ہوا کہ ہم صرف ارادے باندھ سکتے ہیں پر فیصلے اوپر ہوتے ہیں ۔۔ میں نے ساری باتیں بھی اس ڈائری میں محفوظ کر دی ہیں ۔۔ کوئی سی پی آر نہیں ہو گا اور نہ ہی مجھے وینٹی لیٹر پر ضرورت سے زیادہ وقت کے لئے رکھئے گا ۔۔یہ ساری باتیں آپ سب کو فیصلہ کرنے میں مدد دیں گی ۔
اور کچھ ۔۔ آفتاب اب خاموشی سے مجھے سن رہے تھے ۔
جی اور یہ ۔۔ کہ ۔۔ اپنا بہت خیال رکھئے گا ۔۔ میں نے آفتاب کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام لیا
میری جیسی دوست تو آپ کو ملنی ناممکن ہے لیکن پھر بھی کوئی ملتی جلتی مل جائے تو اکیلے مت رہیئے گا ۔۔ جینے کے لئے انسان کو انسان ہی چاہیئے ہوتے ہیں ۔۔۔ ہر رشتے کی اپنی اہمیت اپنی جگہ ہوتی ہے ۔۔۔ اور اس وقت تک آپ آمنہ کے پاس چلے جایئے گا ۔۔میں جانتی ہوں آپ صرف اپنی بیٹی کے پاس ہی خوش رہ سکتے ہیں ۔

مجھے یقین ہے ہم باقی زندگی بھی ایک ساتھ گزاریں گے
اچھی بات ۔۔۔ لیکن ابھی تو تم ہو ناں یار ۔۔ لاٹری نکلنے میں دیر ہے ابھی ۔۔ ویسے میں اسے نکلنے دونگا ہی نہیں ۔۔ آفتاب کی آواز بھرا گئی ۔۔
وہ کہہ رہے تھے ۔۔ مجھے یقین ہے ہم باقی زندگی بھی ایک ساتھ گزاریں گے ۔۔ ابھی تو ہم نے یورپ بھی پورا نہیں دیکھا ۔۔ انہوں نے محبت بھرا گلا کرتے ہوئے مجھے گلے سے لگا لیا ۔۔اور وہ تمہارے سارے لینڈ والے ملک ۔۔ اسکاٹ لینڈ ۔۔گرین لینڈ ۔۔ فن لینڈ ۔۔آئس لینڈ ۔۔ تمہارے ساتھ ہی دیکھنے ہیں مجھے ۔۔ بس کہہ دیا
جی ۔۔ انشاللہ ضرور ۔۔۔
میں سب کچھ کہہ کر جیسے ہلکی پھلکی ہو گئی تھی ۔۔اور اب میں بچوں کی طرح خوش تھی ۔۔پھر ۔۔ ہم دونوں نے فن لینڈ دیکھنے کے لئے اپنی اپنی زندگی کی دعائیں بھی مانگیں ۔۔

ہم دونوں نے فن لینڈ دیکھنے کے لئے اپنی اپنی زندگی کی دعائیں بھی مانگیں
(Arora Lights)
بہت اچھی لگتی ہیں ۔۔ وہ میری کمزوری بن چکی ہیں ۔۔ پلیز مجھے وہ دکھا دیں ۔۔۔ اف کھلے آسمان کا حسن جوبن پر ہوتا ہو گا ۔۔ اور آس پاس کے پہاڑ ۔۔پھول ۔۔سمندر ۔۔سب یک رنگی میں چھپے خدائے یکتا کی تخلیق کا حسین پل بن جاتے ہونگے ۔
یار یہ بون اسکین ۔۔ آفتاب کی آواز پر میں نے اپنی آنکھیں کھول کر ریکوسٹ فارم کو دیکھا ۔۔ وہ جانتے تھے کہ میں فن لینڈ کے حسن میں مکمل کھو چکی ہوں گی اور مجھے واپس لانا بہت ضروری ہے ۔۔۔ایسا پہلی بار تھوڑی ہوا تھا ۔۔۔جب بھی کہیں جانے کی بات ہوتی توسب سے پہلے فن لینڈ جانے کی ہوتی ۔۔اور ایک مرتبہ تو میں ایڈکشن میں ماسٹر کرنے کے لئے فن لینڈ کی یونیورسٹیوں تک سے رابطہ کیا تھا۔
کاش یہ فارم کسی طرح فن لینڈ کی ٹکٹ میں بدل جاتا ۔۔ میں نے آفتاب سے بون اسکین کا ریکوسٹ فارم اپنے بیگ میں رکھتے ہوئے ہنستے ہنستے کہا
جناب بدل سکتا ہے جو تم تیار ہو جاؤ ۔۔ جلدی سے اچھی ہو جاؤ ۔۔ پھر پہلے کی طرح ہم خوب گھومیں گے ۔۔مزے مزے کے کھانے اور وڈیوز بنائیں گے۔
ہاں ضرور چلیں گے ۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا ۔۔آفتاب مجھے بہلتا ہوا سمجھ رہے تھے جبکہ میں تو بہت مطمئن ہو چکی تھی ۔
اب ہمارا سفر مکمل ہوا ۔۔۔
اے میرے عکس ہنر
میری فتح و شکست کے ہمسفر
آج نیا سا کچھ اپنے بارے میں سوچتے ہیں
اسرار ابدیت میں جنوں کے چراغ جلاتے ہیں
چلو اپنے اپنے دل ہتھیلیوں پر رکھتے ہیں
سنو ۔۔۔
ایسا کرو
تھوڑی سی مٹی لو
اسے گیلا کرو اور تھپتھپاؤ
اس سے
ایک اپنا بت بناؤ
ایک میرا بت بناؤ
پھر دونوں کو
تھوڑ پھوڑ کر مٹی کر دو
مٹی میں تھوڑا سا پانی اور ملاو
اسے گوندھو اور خوب گوندھو
پھر سے
ایک اپنا بت بناؤ
ایک میرا بت بناؤ
حبیب من ۔۔۔۔
اب ہمارا سفر مکمل ہوا
میرے بت میں
تمہارے بت کی مٹی شامل ہے
اور ۔۔ تمہارے بت میں
میرے بت کی مٹی شامل ہے
اب ہمیں کوئی جدا نہ کر پائے گا
جب تک ہم زندہ ہیں
ایک ہی لحاف اوڑھ کر سوئیں گے
اور ۔۔ جب ہم مر جائیں گے
ایک ہی مٹی اوڑھ کرسوئیں گے
( مرکزی خیال ایک چینی نظم سے)
ڈاکٹر نگہت نسیم
جاری ہے
ڈاکٹر نگہت نسیم














ھر ھر قسط ایک نیا پیغام لئیے ہوئیے ہے