گزشتہ حکومت میرے خلاف ریفرنس دائرکرنے کا منصوبہ بنارہی تھی، چیف جسٹس

0
88

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے کا منصوبہ بنا رہی تھی۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے معروف ڈرامہ نگار اور کالم نگار عطاالحق قاسمی کی بطور مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) تعیناتی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

دورانِ سماعت وزیراعظم کے سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، چیف جسٹس نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ’ حکومت کی جانب سے میری حرکات و سکنات کی باریک بینی سے نگرانی کی جارہی تھی‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’سابق پی ٹی وی چیئرمین کو 27 کروڑ روپے کیوں دیے گئے‘، چیف جسٹس

چیف جسٹس نے وزیراعظم کے سابق پرنسپل فواد حسن فواد سے مخاطب ہوکر مزید ریمارکس دیے کہ ’مجھے پتہ تھا کہ کون اور کہاں میرے خلاف ریفرنس تیار کر رہے تھے، فواد حسن فواد آپ بھی وہاں بیٹھا کرتے تھے، کون کس کا رشتہ دار تھا؟ کچھ چلے گئے ہیں ہمیں سب پتا ہے‘۔

اس سے قبل اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عطاء الحق قاسمی کے 2 سال تک چیئرمین پی ٹی وی کے عہدے پر براجمان رہنے کے دوران 27 کروڑ روپے کے اخراجات کی آڈٹ رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

مذکورہ رپورٹ پر فواد حسن فواد نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ عطاء الحق قاسمی کی تنخواہ وزارتِ خزانہ کی منظوری سے طے کی گئی تھی اور وزیرِاعظم ہاؤس کو اس بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی کہ پی ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی جانب سے عطاء الحق قاسمی کو کس مد میں اور کتنی مراعات دی گئیں۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: عطاء الحق قاسمی کی چیئرمین پی ٹی وی تقرری پر فیصلہ محفوظ

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ وزیراعظم ہاؤس عطاء الحق قاسمی کی مراعات سے لاعلم تھا لیکن ان کے بارے میں ساری معلومات تھیں اور ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا بھی ارادہ رکھتے تھے، چیف جسٹس کا اپنے ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ فواد حسن فود جیسے ذہین بیروکریٹ بھی ان ملاقاتوں کا حصہ تھے اور انہیں پورے معاملے کا علم تھا۔

اس دوران چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ لا افسر جانتے ہیں کہ وہ کس بارے میں بات کررہے ہیں، ’میں تلخ نہیں ہونا چاہتا‘۔

یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس کا عدلیہ کو بہتر بنانے میں ناکامی کا اعتراف

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی وی کی تقرری کو غیر قانونی قرار دیا، جس پر چیف جسٹس نے اس معاملے کی وضاحت پیش کرنے کے لیے سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار اور سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود کی پیرکو طلبی کا نوٹس جاری کر دیا۔

عدالت نے طلبی کا نوٹس لاہور میں اسحاق ڈار کی رہاش گاہ پر چسپاں کرنے کا حکم بھی دیا۔

دورانِ سماعت اپنے ریمارکس میں چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ عدالت اس مقدمے میں 3 معاملات کا جائزہ لے گی کہ کیا عطاءالحق قاسمی کی تقرری قانونی تھی؟ کیا قانون انہیں 30 لاکھ تنخواہ ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے؟ اور کیا عطاء الحق قاسمی کی جانب سے غیر قانونی طور پر استعمال کی گئی رقم انہیں خود ادا کرنی چاہیے یا پھر جن لوگوں نے انہیں چیئرمین پی ٹی وی بنایا ان سے وصول کی جائے؟

مزید پڑھیں: چیف جسٹس کو دیگر ججز کی تضحیک کا اختیار نہیں،جسٹس شوکت عزیز صدیقی

خیال رہے کہ اس سے قبل ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے حکومت کو عطاءالحق قاسمی کی بطور ایم ڈی پی ٹی وی فراہم کی جانے والی مراعات اور تنخواہ کی ادائیگی پر تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے کہ 26 فروری 2016 کو پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی محمد ملک کی وفات کے بعد عطاءالحق قاسمی کو 3 سال کے لیے ایم ڈی پی ٹی وی تعینات کیا گیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY