متحدہ مجلس عمل نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کیلئے چھ سو تیس امیدوار میدان میں اتار دیئے۔ صوبائی اور ضلعی تنظیموں کو مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی سمیت کسی بھی پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنے کا اختیار دیدیا گیا۔

مذہبی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کا دوسرا الیکشن، 2002ء میں قومی اسمبلی کی 68 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن لیڈر کا مورچہ سنبھالا، 2018ء میں دوبارہ اسی پلیٹ فارم سے چھ سو سے زائد امیدوار انتخابی دنگل میں، تمام جماعتوں کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا آپشن اوپن کر دیا۔

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان میں شدید مخاصمت کے باوجود لاڑکانہ میں جے یو آئی کے امیدوار راشد محمود سومرو نے پی ٹی آئی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر لی۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت دوسری جماعتوں سے بھی نشستوں کی لین دین کا امکان ہے۔

ایم ایم اے کے قائدین پرامید ہیں کہ وہ اس بار 2002ء سے بھی زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY