عزیز دوستو!! ہجرت کو 70 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔۔پاکستان و ہند کے سیاسی حالات روز بنتے و بگڑتے ہیں مگر آنکھوں دیکھی بات ہے کہ ان دونوں ملکوں کے فنکار تخلیق کار دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہوتے ہیں پسند کیئے جاتے ہیں آئیڈیلائز کیئے جاتے ہیں ۔۔ یوں سمجھئے کے الگ ہوکر بھی چاہتیں ختم نہیں ہوئیں ۔۔ ایک جیسے ماحول ایک زبان ہونے کے سبب دنیا کے کسی خطے میں بھی چلے جائیں ہم ان محبت کے رشتوں میں دوبارہ بندھ جاتے ہیں ۔۔اور یہ سچ ہے کہ فنکار کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔۔ گلزار صاحب کے کہے اشعار یاد آگئے ۔۔
آنکھوں کو ویزہ نہیں لگتا ۔
سپنوں کی سرحد ہوتی نہیں
بند آنکھوں سے مل آتا ہوں ۔۔
سرحد پار میں مہدی حسن سے ۔۔
کتنا سچ کہا ہے کہ ہمارے ہوں یا وہاں کے یہ تمام فنکار و تخلیق کار فن سے محبت رکھنے والوں کے دلوں میں بستے ہیں ۔۔ آج ہم نے بھی سرحد پار مہمان سے رابطہ کیا ہے وہ ایک منقبت و سلام لکھنے والے اور نغمہ و گیت تخلیق کرنے والے شاعر ہیں ۔۔ انہوں نے ہندوستانی فلم انڈسٹری کے لئے بھی گیت تحریر کئے اور کامیاب نغمہ نگار رہے۔ مگر ان کا اصل تعارف ان کی لکھی منقبتیں و سلام و نوحہ ہیں ۔۔ ان کو بیشمار اعزازات حاصل ہوئے ہیں جن میں
سرسوت سمان۔ پرواز ایوارڈ، ڈاکٹر اے پی جے ابوالکلام ایوارڈ ۔۔اور شہنشاہ سخن ایوارڈ قابل ذکر ہیں
تو آج کے مہمان جناب توقیر زیدی صاحب کو آج کی نشست میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔۔
سوال _توقیر صاحب َبھلا ہو اس فیس بک کا کہ اس نے آپ جیسے دوستوں سے ملوایا ۔۔ اتفاق یہ ہے کہ کبھی آپ سے مفصل گفتگو نہیں ہوئی ۔ آج آپ خود ہی اپنا تعارف بیان کیجئے۔۔ کس شہر سے تعلق رکھتے ہیں اور کیا دلچسپیاں رکھتے ہیں ؟
جواب_ میرا تعلق ہندوستان کے معروف شہر الہ آباد سے ہے جو کہ صوبہ اتر پردیش میں واقع ہے. ہہ وہ شہر ہے جس نے ہندوستان کو سات وزرائے اعظم دیے.
جن شعراء سے میں متاثر ہوا ان میں اکبر آبادی (جو کہ میرے نانا ہوتے ہیں) کے علاوہ ہندی کے شعراء نرالا اور مہادیوی ورما جیسے عظیم شعراء کا تعلق الہ آباد سے ہی ہے.
سوال _
آپ نے کن اداروں سے تعلیم کا آغاز کیا؟ اور آپ کی اردو ادب سے دلچسپی اور اس شاعرانہ طبیعت کا سبب کیا کوئی خاص تربیت ہے ؟
جواب _ تعلیمی لیاقت کے تعلق سے عرض کر دوں کہ میں نے اردو ادب میں ایم اے کی سند حاصل کی ہے. بعد ازاں خانگی و پیشہ ورانہ مصروفیات کے سبب آگے کی ڈگری حاصل کرنے کی سعی نہ کر سکا لیکن پی ایچ ڈی کر رہا ہوں. ان شاءاللہ بہت جلد تھیسس مکمل ہو جائے گی.
پیشے سے میں ایک صحافی اور قلم کار ہوں، فلموں میں گانے لکھے ہیں. اس کے علاوہ کمپیوٹر ایجوکیشن کا ایک ادارہ اور ایک اسکول بھی ذریعۂ معاش ہے.
شاعری مجھے وراثت میں ملی ہے. جیسا کہ ذکر ہوا کہ لسان العصر اکبر الہ آبادی میرے نانا تھے. میرے ماموں مرحوم معظم پاشا الہ آباد کے استاد الاساتذہ کے طور پر معروف تھے. میری والدہ لالہ رخ قیصر بھی شاعرہ ہیں. میرے والد بھی شعر و سخن کا ذوق رکھتے تھے گرچہ اب تائب ہو چکے ہیں. لہٰذا بچپن سے ہی شعر و شاعری ماحول ملا تو یہ قطعی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ شاعری کی ترغیب کب اور کہاں سے ملی.
سوال پہلی بار کب شعر کہا اور ایسا محسوس ہوا کہ آپ عام لوگوں کی نسبت زیادہ حساس ہیں ؟ ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں؟
جواب_ جہاں تک شاعری کے آغاز کا تعلق ہے تو بچپن میں ایک بار جب میں ماموں صاحب معظم پاشا کے گھر گیا ہوا تھا تو ان کے گھر ان کے احباب اور شاگرد کسی طرحی مشاعرے میں شرکت کے لیے تیاری کر رہے تھے. اس وقت وامق جونپوری کے مصرعہ “یاد رہتی ہے کسے ساحل پہ طوفانوں کی بات” پر طبع آزمائی چل رہی تھی. بیچ بیچ میں جب میں پانی یا چائے وغیرہ لے کر گیا تو یہ مصرعہ میرے اعصاب پر سوار ہو گیا اور میں اس پر مصرعۂ اولی لگا دیا
یہ تو دستورِ زمانہ ہے خطا ان کی نہیں
یاد رہتی ہے کسے ساحل پہ طوفانوں کی بات
اس پر ماموں صاحب نے خوب حوصلہ افزائی کی اس طرح میری باقاعدہ شاعری کا آغاز ہو گیا. اس وقت میری عمر محض نو برس تھی.
چونکہ اکثر شعر و سخن میں حسن و عشق کی باتیں ہوتی ہیں اس لیے ماموں صاحب کے احترام میں ان سے اصلاح لینے میں شرم محسوس کرتا تھا لہذا دبستان داغ کے معروف شاعر راز الہ آبادی سے اصلاح لینا شروع کیا. مزاج و عمر میں کچھ پختگی آنے کے بعد ماموں صاحب سے اصلاح لینا شروع کر دیا. ماموں صاحب نے بھی شاعری اور عروض کی باریکیوں سے واقف کروایا. تھوڑے ہی عرصے بعد ماموں صاحب یہ کہہ کر اصلاح سے بری الذمہ ہو گئے کہ اب تمھیں اصلاح کی ضرورت نہیں. لیکن میں پھر بھی اپنا کلام ان کی خدمت میں ضرور پیش کرتا.
سوال_ شعر کہنے والا زمانے سے کیوں شاکی ہوتا ہے؟ یا واقعی دکھ تکلیف درد شاعری کا محرک بنتا ہے؟
جواب _ اس سوال کے جواب میں ہمیں تھوڑی ماضی کی سیر کرنی ہوگی. پچھلے وقتوں میں جب عام طور پر سماج دو حصوں میں منقسم تھا. ایک زمیں داروں اور امراء کا طبقہ تھا جسے کسی قسم کی کمی نہیں تھی. دوسرا طبقہ غرباء و مساکین کا تھا وہ بھی راضی بہ رضا تھا. شعر و شاعری بالعموم امراء کا شوق تھا جنھیں کسی چیز کی نہ فکر تھی نہ ہی پرواہ لہٰذا ان کی شاعری کا موضوع حسن و عشق، گل و بلبل ہوا کرتے تھے. چونکہ ان کی زندگی میں کوئی الجھن کوئی بے چینی نہیں نہ ہی انھیں ان کی کوئی فکر تھی جو مفلوک الحال تھے تو ان کی شاعری میں اضطراب کہاں سے آتا. اس عہد میں بھی میرؔ اور غالبؔ جیسے شعراء جنھوں نے زندگی کی تلخیوں کا سامنا کیا آپ کو ان کے کلام میں بے چینی اور اضطراب کثرت سے دیکھنے کو ملے گا.
سوال_ موجودہ دور میں نوجوان کیوں بچیں اور مایوس نظر آتے ہیں جبکہ اب تو مواقع زیادہ ہیں ؟ کیا اب مقابلہ زیادہ ہے؟
جواب _جی میں اسی طرف آرہا ہوں کہ جب ہم بات کرتے ہیں عصر حاضر کی تو آج کا سماج بالخصوص نو جوان بیدار ہوا ہے، وہ اپنی ذات اور اطراف و اکناف میں پل رہے اضطراب سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا. یہی وجہ ہے کہ آج کے نوجوان شعراء میں بے چینی اور اضطراب کی کیفیت پائی جاتی ہے. اس دور میں بھی اگر آپ شعرا کو طبقات میں تقسیم کریں تو معلوم ہوگا کہ شعراء کا ایک طبقہ وہ ہے جو مشاعروں اور فلموں وغیرہ سے فارغ البالی کی حد تک کما لیتا ہے لہٰذا اس طبقے کی شاعری میں وہ کیفیت نسبتاً کم نظر آتی ہے. وہیں دوسری طرف شعراء کا ایک طبقہ وہ بھی ہے جو بے پناہ صلاحیت کا حامل ہے لیکن اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھر پانے سے بھی قاصر ہے. ان ہی شعراء میں حساسیت، منفیت یا بے چینی آپ جو کہنا چاہیں کہہ لیں زیادہ پائی جاتی ہے جو کہ ان کی ذاتی زندگی کا پرتو ہے.
سوال _ آپ نے نوعمری سے اپنے مشاغل میں تخلیق کو سرفہرست رکھا تو کیا اس آغاز میں ہی آپکی اس ذہانت و مہارت کو خاطر خواہ پذیرائی ملی ؟ یا آپ کے استاد نے اسے سراہا؟
جواب _ جیسا کہ ذکر آ چکا کہ میں نے پہلا مصرعہ صرف نو سال کی عمر میں وضع کیا اور اسی وقت تعریف و توصیف سے نوازا گیا لیکن مجھے حقیقی خوشی اس وقت ہوئی جب میں پہلی بار آل انڈیا ریڈیو الہ آباد پر ایک غزل پیش کی اور اس پر مجھے بزرگوں سے تعریف ملی. اس وقت بھی میں بالکل نو عمر تھا. میری اسی غزل نے مجھے پہلی کمائی بھی کروائی جب اسے آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہونے کے عوض مجھے پچاس روپے کا چیک ملا جسے میری والدہ نے بینک میں مائینر اکاؤنٹ کھلوا کر جمع کروا دیا. اور یہیں سے میرا شوق پیشے میں بدل گیا ساتھ ہی شہرت اور تعریف ملنے لگی. انتہائی صاف گوئی سے عرض کر دوں کہ نو عمری میں ملی اس کامیابی نے میرے اندر کسی قدر تکبر بھی پیدا کر دیا. لیکن خدا کا شکر ہے تھوڑی سمجھ بالیدہ ہونے پر میں نے اس پر توبہ کر لی اور آج بھی میری توبہ جاری ہے.
سوال _ کیا لکھنے والے کو پڑھنے والوں کے مزاج کے مطابق لکھنا چاہیئے یا جو خود من میں سما جائے اسے تحریر کرنا اچھا ہے؟
جواب _ آپ کے سوال میں ہی جواب پوشیدہ ہے. یعنی ہر انسان اپنی فطرت کے مطابق شعر کہتا ہے. اور جب انسان اپنے دل کی بات کہتا ہے تو اس میں کشش اور دل کشی زیادہ ہوتی ہے. جب کوئی شخص باہری عناصر سے مرعوب ہوکر یا ضرورت کے مطابق اپنے دل کی آواز سے ہٹ کر شعر کہتا ہے اس میں تصنع پیدا ہو جاتا ہے اور وہ زود اثر نہیں رہ جاتا. اب رہی بات کچھ خاص قسم کے مشاعروں اور فلمی شاعری کی تو یقیناً یہ ادبی شاعری سے قدرے مختلف ہے اور اس کی عمر بھی بہت مختصر ہوتی ہے.
سوال _ کس دور کو آپ اپنا سب سے سنہری دور یعنی پرائم ٹائم کہیں گے؟ اور کیا عمر کے مختلف ادوار میں مختلف طرز کے موضوعات داخل ہوتے ہیں یا ایک ہی انداز کی شاعری تمام عمر کسی کی شناخت بن سکتی ہے؟ جواب
کسی بھی شاعر کی زندگی کو شاعری کے نقطۂ نظر تین ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے. پہلا دور وہ ہوتا ہے جب وہ شاعری کا آغاز کرتا ہے. اس دور میں اس کی شاعری میں پختگی نہیں ہوتی نہ ہی اسے عروض کا علم ہوتا ہے. ساتھ ہی اگر اس کی زندگی میں یہ دور کم عمری میں ہی آیا ہو تو اس وقت اس میں جوش اور ولولہ بھی ہوتا ہے، کچھ کر گزرنے کا جنون ہوتا ہے. جیسا کہ میرے ساتھ ہوا. اس دور میں ایک شاعر کثرت سے شعر کہتا ہے اور میں نے بھی اس دور میں بہت شعر کہے. کثرت اشعار کی ایک وجہ اور بھی رہی کہ میرے کلام کی اصلاح بھی ہو جاتی تھی اور اخبار و رسائل میں شائع بھی ہو جاتے تھے لہذا اس دور میں شعر گوئی کی رفتار خاصی تیز تھی.
شاعر کی زندگی کا دوسرا دور وہ ہوتا ہے جب ذہنی اور فنی اعتبار سے پختہ ہو چکا ہوتا ہے. اب وہ اپنی خامیوں کو پہچاننے لگتا ہے اس لیے ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھتا ہے. ایک ایک شعر پر کئی کئی دن کبھی تو ہفتوں اور مہینوں غور کرتا ہے. اس دور میں شعر گوئی کی رفتار کافی کم ہو جاتی ہے. میں بھی اس دور میں بہت کم شعر کہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ توقیر زیدی جو کبھی ایک دن میں چار پانچ غزلیں کہہ لیتا تھا اس کا دس سالوں میں صرف ایک مجموعہ تیار ہو سکا.
تیسرا دور کسی بھی شاعر کی فنی و فکری پختگی کا دور ہوتا ہے. اب اس کو خود پر مکمل اعتماد ہوتا ہے اور وہ برق رفتاری سے شعر کہنے پر قادر ہوتا ہے. لیکن اسی دور میں اس پر دنیا کی بے ثباتی منکشف ہوتی ہے اور اب وہ آخرت کی فکر میں مبتلا ہو جاتا ہے. عام طور پر اس عہد میں شعراء حمد، نعت منقبت، مناجات، مراثی اور نوحے جیسی اصناف کی طرف راغب ہو جاتے ہیں. ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا
سوال _ آپ کے لکھنے پر کبھی اعتراضات ہوئے اور کیا آپ نے اپنے خیالات کا رخ لوگوں کی مخالفت پر تبدیل کیا ؟
جواب_ تنقید پر اپنی شاعری کا رخ بدلنے کے تعلق سے میرا خیال ہے کہ انسان کو تنقید کو اہمیت وہیں تک دینی چاہیے جہاں تک وہ فنی اعتبار سے ہو. اگر کسی فن پارے میں عروض و قواعد وغیرہ کی طرف کوئی نقاد متوجہ کرتا ہے تو اسے شاعر کو خوش دلی سے قبول کرنا چاہیے اور اپنی اصلاح کر لینی چاہیے. جہاں تک نظریاتی تنقید کا تعلق ہے تو اس زاویے سے کی گئی تنقید کو میں اہمیت نہیں دیتا. کیوں کہ ہر شخص کا نظریہ اور مزاج مختلف ہو سکتا ہے. کسی کو چنبیلی پسند ہے تو کسی کو گلاب، دونوں ایک اپنی اپنی جگہ حق بجانب ہیں اور ایک دوسرے پر زبردستی اپنی پسند مسلط نہیں کر سکتے. بعینہ یہی معاملہ شاعری کا ہے. میں تجریدی انداز کی شاعری پسند کرتا ہوں اور سیاست سے حتیٰ الامکان دور رہتا ہوں. مجھ سے حالات حاضرہ پر شاعری کرنے کو کہا جائے تو میں اسے بالکل مسترد کر دوں گا. اب کوئی یہ کہے کہ توقیر زیدی حقائق سے چشم پوشی کرتے ہیں اور ان کی شاعری غیر سماجی نوعیت کی ہے تو میں ایسی تنقید کو خاطر میں نہیں لاتا.
سوال _لکھنے کے لئے خود پڑھنا پہلا قدم ہے ۔۔آپ کے مطالعہ میں کیا موضوعات رہے ہیں اور کیسی کتابیں زیادہ پڑھنا پسند کرتے ہیں؟
جواب_
مطالعہ کے تعلق سے سے میرے جواب سے شاید آپ کو حیرت ہو. دوران طالب علمی جتنے شعرا یا ان کے کلام میرے کورس میں شامل رہے ہیں میں نے مجبوراً بس اتنا ہی مطالعہ کیا ہے. اس کے بعد سے میں نے مطالعہ ترک کر دیا. اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ جب انسان کسی کو پڑھتا ہے تو لاشعوری طور اس سے متاثر ہوتا ہے. میرے نہ پڑھنے کا سبب یہ ہے کہ میں کسی سے متاثر ہوئے بغیر اپنی فطری شاعری کرنا چاہتا ہوں.
میرے ابتدائی کلام پر لوگوں کی رائے تھی کہ میں میر سے متاثر ہوں، بعد میں جب سنہ 2000 میں میرا نظموں کا مجموعہ منظر عام پر آیا تو اکثر اہل علم نے کہا کہ آپ جوش سے متاثر ہیں لگتا ہے جوش کو بہت پڑھتے ہیں جب کہ میں نے جوش کچھ خاص نہیں پڑھا تھا. اسی طرح مزاج میں پختگی آنے کے بعد کے اشعار کو لوگوں نے غالب سے متاثر بتایا. جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ میں اپنی ذاتی غور و فکر سے جن خیالات کو اشعار میں باندھتا ہوں اس کو غالب دو سو سال پہلے ہی کہہ چکے.
غالب کا المیہ یہ ہے کہ ان کے عہد میں ان کی پذیرائی کما حقہٗ نہیں ہوئی آج دو سو سال بعد ان کی قدر ہو رہی ہے. میری اپنی تجریدی شاعری کے تعلق سے بھی مجھے لگتا ہے کہ دو سو سال بعد اس کی قدر کی جائے گی. واللہ اعلم۔۔
سوال_ آپ کو بذات خود کش شاعر نے متاثر کیا ؟
جواب _آپ کے پچھلے سوال کے جواب میں عرض کر چکا ہوں کہ میں نے شعراء کا مطالعہ بہت کم کیا تاکہ میں کسی سے متاثر نہ ہو جاؤں تو تقلید کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا. لوگوں کو میرے کلام میں کبھی میر کبھی غالب تو کبھی جوش اور فیض سے مماثلت محسوس ہوتی ہے تو یہ اتفاقی ہے. میں نے دانستہ کسی کی تقلید کی کوشش نہیں کی بلکہ میرا نظریہ یہ ہے کہ میری اپنی الگ پہچان ہو مجھے کسی دبستان یا اسکول سے جوڑ کر نہ دیکھا جائے. میں اپنی اس کوشش میں کہاں تک کامیاب ہوتا ہوں یہ وقت بتائے گا.
سوال _ آپ نے نغمے لکھے جنہیں بہت پذیرائی حاصل ہوئی اسے ذریعہ معاش بنایا یا صرف وقتی شوق پورا کیا گیا ؟
جواب _ میرا تعلق ایک مذہبی روایت پسند گھرانے سے جہاں فلموں اور موسیقی کو اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھا جاتا. بچپن سے میری تربیت ایسی ہوئی تھی کہ اگر کوئی گناہ سر زد ہو جائے تو ضمیر اندر ہی اندر کچوکے لگاتا ہے. ایم اے کے بعد میں ممبئی جاکر صحافت کے پیشے سے وابستہ ہو گیا. اسی درمیان فلمی دنیا سے ربط ہوا اور کام کا آفر ملا تو شوقیہ قبول کر لیا. کام ملتا گیا اور میں کرتا گیا. یہاں تک کہ میرے گیتوں کو لتا منگیشکر کے علاوہ اپنے عہد تمام معروف گلوکاروں نے آواز دی. لیکن میں جو کام کر رہا تھا وہ میری نظر میں گناہ ہے اور گناہ پر کوئی فخر کیسے کر سکتا ہے.
موسیقی کے علاوہ بھی میں ادب کی تقریباً سبھی اصناف میں طبع آزمائی کی ہے. استاد الاساتذہ میر کا قول ہے کہ شاعر وہی ہے جو سبھی اصناف سخن میں شعر کہہ سکے. وہ درد کو بھی آدھا شاعر کہتے تھے کیوں کہ درد غزل کے شاعر تھے. تمام اصناف میں قابل قدر مقدار میں شعر کہنے پر فخر ہو سکتا تھا لیکن یہاں بھی تربیت کام آئی. ماموں صاحب نے جب دیکھا کہ میں اچھا کلام کہہ رہا ہوں تو انھوں نے خاص طور پر نصیحت کی کہ بیٹا کبھی تکبر مت کرنا. تکبر انسان کو تباہ کر دیتا ہے. پھل دار شجر ہمیشہ جھکا رہتا ہے. اللہ کا شکر ہے کہ فخر و تکبر سے بہت دور ہوں.
سوال _ کیا شاعری بھی حالات، موضوعات اور عنوانات کے باعث الگ الگ شمار کی جاتی ہے اور لکھنے والے پر اس کی ہی چھاپ لگا دی جاتی ہے ؟
جواب _
ہم شاعری کو ظاہراً تین زمروں میں تقسیم کر سکتے ہیں. اول ادبی شاعری، دوم مشاعرے کی شاعری سوم فلمی شاعری
ادبی شاعری کا اپنا معیار تھا ہے اور رہے گا. یہ بات دیگر ہے کہ اس کا وقت کے ساتھ بدلتا رہتا ہے. لیکن مشاعرے اور فلموں کی شاعری کسی معیار کی پابند نہیں ہے. گزشتہ زمانے میں ادبی شاعری تو علیحدہ تھی لیکن عام طور پر مشاعرے کے شعرا ہی فلموں سے وابستہ تھے. اس عہد میں اگرچہ فلمی شاعری ادب کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھی لیکن مشاعرے کے شعراء اور کچھ ادب کے شعراء بھی فلموں کے لیے لکھتے تھے اس لیے اکثر گیتوں میں عروض و قواعد کی پابندی کی جاتی تھی. لیکن آج حالات یکسر تبدیل ہو چکے ہیں. اب تو اکثر و بیشتر ٹیون پر گانے لکھے جاتے ہیں جسے ہم شاعری تو نہیں کہہ سکتے، ہاں تک بندی ضرور کہہ سکتے ہیں. اس لیے عصرِ حاضر میں ادبی اور فلمی شاعری کا موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا.۔۔
سوال _ کیا آپ کو بھی ایسا لگتا ہے کہ فنون لطیفہ سے آنے والے ادوار میں لوگوں کی دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے؟
جواب _ شاعری ہو، نثر ہو یا پھر ادب لطیف کی کوئی بھی شاخ اس کے قدر دان معاشرے میں ہمیشہ بہت کم رہے ہیں. ایک محتاط اندازے کے مطابق ایسے افراد معاشرے میں بیس فیصد سے زائد کبھی نہیں رہے. جہاں تک اس دور کی بات ہے تو ایسے اشخاص کی تعداد بہت کم ہو گئی ہے. آج زندگی برق رفتاری سے گزر رہی ہے. ٹی وی، انٹر نیٹ اور اب موبائل نے لوگوں کا وقت لے لیا ہے اس لیے اب لوگ ادب لطیف کی طرف اور بھی کم متوجہ ہوتے ہیں. ہمارے بچپن میں زندگی گزارنے کا انداز مختلف تھا آج مختلف ہے. ہم نے قدرت کے جو مناظر دیکھے ہیں نئی نسل اس نعمت سے محروم ہے. مٹی کی سوندھی خوشبو، دریا کی روانی، پرندوں کی چہچہاہٹ، ہوا چلنے پر پتوں کی موسیقی سے بھر پور آواز، ستاروں سے جھلملاتا آسمان، چاندنی رات آج معدوم ہو چکے ہیں. یہی وجہ ہے کہ آج کے شعراء و ادیب بھی اس خوبصورتی سے بیان کرنے سے قاصر ہیں اور قارئین و سامعین کے لیے بھی ان چیزوں کی جاذبیت کو سمجھنا دشوار ہے. یہی وجہ ہے کہ اب سماج میں بہت کم لوگ رہ گئے ہیں جو ادب کی قدردانی کر سکیں. ہاں کچھ لوگ ایسے ضرور رہیں گے جنھیں قدرت نے حساس طبیعت عطا کی ہے. یہی وہ لوگ ہیں جو ادباء و شعراء کی پذیرائی کرتے ہیں اور یہی لوگ نظم یا نثر سے متاثر بھی ہوتے ہیں.۔۔
سوال_
بحثیت شاعر ماشاءاللہ آپ بڑے حلقوں میں جانے جاتے ہیں کیا کسی نثر لکھنے پر بھی متوجہ ہوئے ہیں؟ آپ کی گفتگو سے لگتا ہے کہ آپ نثر بھی عمدہ لکھ سکتے ہین؟
جواب _ اگرچہ میں نے نثر میں بھی خوب طبع آزمائی کی ہے. بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ میری تحریر کا آغاز ہی نثر سے ہوتا ہے. بچپن سے ہی میں چھوٹی چھوٹی کہانیاں اور افسانے لکھتا رہا ہوں. آگے چل کر ناول اور ڈرامے بھی لکھے لیکن میرا نثری کام شائع نہیں ہوا. اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ میں اپنی نظم کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں.
میں فطری طور پر قدرتی حسن کا پرستار ہوں. ندی، پہاڑ، جھرنے، جنگل جیسے قدرتی مناظر میری کمزوری ہیں. آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی تخلیقات میں ایک بہترین توازن پایا جاتا ہے. حضرت انسان جب سے زیادہ ہوشیار ہوا اس قدرتی توازن میں مخل ہو گیا. مثال کے طور پر درخت ہماری زندگی میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں. درختوں کی وجہ سے ہماری سانسیں چل رہی ہیں. انسان نے پیڑوں کا کاٹنا شروع کیا نتیجہ فضا میں آلودگی کے سبب نظام تنفس متاثر ہو گیا. اس کرب کو طنزیہ انداز میں میں یوں بیان کیا ہے
مضمحل ہو کے بھی سانسوں کا ہنر باقی ہے
اب چلو اس کو بھی کاٹیں جو شجر باقی ہے
اسی طرح معاشرے میں رائج بے جا رسم و رواج اور لوگوں غیر انسانی سلوک پر اکثر اشعار کے ذریعے ضرب لگانے کی کوشش کرتا ہوں.۔۔
سوال _گیت و فلمی شاعری آپ نے فلم بنانے والوں کے مزاج پر لکھی جب کہ آپ خود اپنی نثر و نظم کو بالکل اپنا خیال کہتے ہیں بنا کسی کے متاثر ہوئے ؟
جواب _ جہاں تک گیت یا نغمات کا تعلق ہے میں نے یہ خود سے یا خود کے لیے نہیں لکھے بلکہ پیشہ ورانہ طور پر جیسی ڈیمانڈ تھی ویسا ہی لکھ دیا. کچھ غزلیں بھی ایسی ہی ہیں جو کسی خاص پس منظر میں کسی خاص گلوکار کے لیے لکھی گئیں. لیکن میری اکثر غزلیں میری اپنی فکر اور مزاج کی عکاس ہیں. غزلیں کہتے وقت مجھے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ میں کیا کہنے جا رہا ہوں. ردیف اور قافیہ کے مطابق مصرعے خود بخود وضع ہوتے چلے جاتے ہیں. یہی حال منقبت وغیرہ کا بھی ہے البتہ نظم کہتے وقت اس کا ایک خاکہ ضرور تیار کر لیتا ہوں تاکہ موضوع سے بھٹک نہ جائے. مثنوی میں بھی میں نے پہلے سے ہی اس کا فلو چارٹ تیار کر لیا تھا پھر اسی مطابق مثنوی مکمل کی.۔۔
آپ کو نوجوان لکھنے والوں کی بہت بڑی تعداد پڑھتی ہے جو خود بھی لکھتے ہیں ۔۔ اور وہ سب چاہنے والے جو آپ کے دکھ سکھ سب سے واقف ہیں ان کے لئے کوئی ایسا پیغام دیجئے جو زندگی میں رہنمائی کا سبب بن سکے
میں اپنے چاہنے والوں کو بس یہی پیغام دوں گا کہ بجائے کمرشلزم کی طرف جانے کے یعنی پیسے کی ہوس کے علم حاصل کریں کیونکہ پیسہ فنا ہو جانے والی چیز ہے.
محض ہاتھ کی میل ہے جلد چلا جائے گا. اور علم جو آپ حاصل کریں گے تو اسی علم کے ذریعے آپ کے پاس ہر چیز آجائے گی. یعنی کہ آپ کا ذہن کھل جائے گا. آپ ایک عالم بن جائیں گے. جب آپ عالم بنیں گے تو خود بخود جہالت ختم ہوجائے گی اور جہالت کے ختم ہوتے ہی آپ میں انسانیت آجائے گی. اور جب انسانیت آجائے گی تو انسانیت ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے آپ مسیحا بن جائیں گے ۔۔بالخصوص قرآن شریف کا صحیح ترجمہ پڑھیں, نہج البلاغہ پڑھیں, اور دنیا بھر کے جو نامور فلاسفرز ہیں ان کی کتاب پڑھیں جو امن کا پیغام دیتی ہے.
اور دنیا بھر کے تمام ہی افراد خواہ وہ کسی بھی مذہب یا کوئی سے بھی فرقے سے ہوں .
علم حاصل کریں تاکہ تعصبات ختم ہوں
بلکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث اور ان کے فرمان کو دل سے ازطر کرلیں کہ قرآن و اہل بیت کو اگر ہم پکڑے رکھیں گے. تو کبھی گمراہ نہیں ہوں گے. تو ظاہر سی بات ہے کہ قرآن و احادیث میں جو موجود ہے وہی زندگی کو سنوارنے کا سبب ہے
اہل بیت کے بغیر قرآن و۔۔۔قرآن کے بغیر اہل بیت مکمل رہنمائی نہیں دونوں کا ساتھ دونوں کا اتباع ضروری ہے ۔۔
جب ان رہنماؤں کی محبت دل میں ہو۔۔ تو راہیں روشن ہوجاتی ہیں ۔۔۔نوجوانوں کو پیغام یہی دینا چاہوں گا کہ وہ پڑھیں, علم حاصل کریں, بجائے کسی ملا یا مولانا کو سننے کے کیونکہ ہر فرقے کے مولانا اپنی اپنی راگنی بجا رہے ہیں ۔۔تو اصل کو حق کو تلاش کرنا چاہیے. ۔
یقینا رہنما اصول حق کے اصول ہیں ۔۔ہوسکتا ہے وہ درست نہ ہو کہ جو ہمہارے آبا و اجداد کرتے آئے ہیں اس لئے خود بھی تحقیق کریں ۔ صاحبان علم سے رجوع کریں اور ایسے علماء سے ربط رکھیں جن کو دنیا داری سے زیادہ دیں و علم عزیز ہو ۔ خود بھی ہمیشہ دعا کرتے رہیں. بس یہی پیغام ہے کہ دنیا میں محبت قائم رکھیں اور علم حاصل کریں. ۔
تو یہ تھے توقیر زیدی صاحب جن کی گفتگو سے آج ہم مستفید ہوئے ہم عالمی اخبار کی طرف سے ان کے لئے دعاگو ہیں کہ وہ بیشمار کامیابیاں حاصل کریں
روما رضوی













