مسجد کا لاوڈسپیکر کچھ خراب تھا اندر آزان کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی میں آزان سننے کے لئے گیٹ سے باہر آگئی انتظار کرتے کرتے اچانک در کھلا اور میں ماضی کی دلفریب وبچپن کی دلنشیں وادی میں داخل ہو گئی
مسجد حاجی بہادر صاحب کی تعمیر نو ہوئی تھی سپیکر کا رواج نہیں تھا گھروں کے اندر آزان کی آواز صاف سنائی نہ دیتی تو ہرگھر سےبچے آدھ پون گھنٹہ پہلے مسجد کے قریب اکٹھے ہو جاتے مسجد کے نوتعمیرشدہ سیمنٹ کے چبوترے گیند گیٹی اور مختلف کھیلوں کے لئے لاجواب تھے
ویسے تو مجھے یوں باہر جا کر کھیلنے کی اجازت نہ تھی مگر رمضان المبارک میں کچھ نرمی برتی جاتی اور میں بھی مسجد حاجی بہادر جو گھر کے قریب تھی چلی جاتی کھیل کھیل میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا اورپھر جیسے ہی موزن آزان کی مخصوص جگہ کا رخ کرتاسب بچے یہ دیکھ کر اہک نعرہ مستانہ بلند کرتے بانگ ملی، یعنی آزان ہوا چاہتی ہے ہندکو زبان میں بانگ یعنی ازان بانگ ملی کہتے شور مچاتے خوشی سے گھر کی طرف دوڑ لگا دیتے وہ بھی کا دور تھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے دل خوشی سے پھولے نہ سماتا
کچھ اور سریلی اور پر سوزآوازیں سماعت میں رس گھولنے لگیں یہ سحری کے لیے جگانے والی نعت خواں ٹولیاں جواپنےمخصوص انداز میں نعتیہ کلام پڑھتے ہوئے سحری اور اختتام سحری کا اعلان کرتیں خصوصی آخری عشرہ میں الوداع اےماہ رمضان الوداع جیسے الوداعی کلام ایسے پرسوز انداز میں پیش کرتےکہ دل اداس ہو جاتا
اور پھرگرماگرم ڈھول کی تھاپ سنای دینے لگی جب شادی کے بعد ہم چھت پر چاند اوتاروں بھرے آسمان تلے سوے ہوتےکہ سحری کے لیے ڈھول والے داخل ہوتے ااورہرگھرکےدروازے پرپرجوش انداز سے ڈھول بجاتے گہری نیند میں ڈھول کی مسلسل آواز کبھی کبھی بہت ناگوار گزرتی
اورپھر عید کی صبح سویرے ایک نئے جوش و ولولے سےڈھول بجاتےعیدی کاتقاضا کرتے ڈھول والے جمعدارنی مختلف لوگ عیدی وصول کرنے آتے
آہ اب یہ تمام کردار ماضی کاحصہ بنکر رہ گئے
نصرت نسیم













