ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا ۔نصرت نسیم

0
1309

مسجد کا لاوڈسپیکر کچھ خراب تھا اندر آزان کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی میں آزان سننے کے لئے گیٹ سے باہر آگئی انتظار کرتے کرتے اچانک در کھلا اور میں ماضی کی دلفریب وبچپن کی دلنشیں وادی میں داخل ہو گئی

مسجد حاجی بہادر صاحب کی تعمیر نو ہوئی تھی سپیکر کا رواج نہیں تھا گھروں کے اندر آزان کی آواز صاف سنائی نہ دیتی تو ہرگھر سےبچے آدھ پون گھنٹہ پہلے مسجد کے قریب اکٹھے ہو جاتے مسجد کے نوتعمیرشدہ سیمنٹ کے چبوترے گیند گیٹی اور مختلف کھیلوں کے لئے لاجواب تھے

ویسے تو مجھے یوں باہر جا کر کھیلنے کی اجازت نہ تھی مگر رمضان المبارک میں کچھ نرمی برتی جاتی اور میں بھی مسجد حاجی بہادر جو گھر کے قریب تھی چلی جاتی کھیل کھیل میں وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوتا اورپھر جیسے ہی موزن آزان کی مخصوص جگہ کا رخ کرتاسب بچے یہ دیکھ کر اہک نعرہ مستانہ بلند کرتے بانگ ملی، یعنی آزان ہوا چاہتی ہے ہندکو زبان میں بانگ یعنی ازان بانگ ملی کہتے شور مچاتے خوشی سے گھر کی طرف دوڑ لگا دیتے وہ بھی کا دور تھا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے دل خوشی سے پھولے نہ سماتا

کچھ اور سریلی اور پر سوزآوازیں سماعت میں رس گھولنے لگیں یہ سحری کے لیے جگانے والی نعت خواں ٹولیاں جواپنےمخصوص انداز میں نعتیہ کلام پڑھتے ہوئے سحری اور اختتام سحری کا اعلان کرتیں خصوصی آخری عشرہ میں الوداع اےماہ رمضان الوداع جیسے الوداعی کلام ایسے پرسوز انداز میں پیش کرتےکہ دل اداس ہو جاتا

اور پھرگرماگرم ڈھول کی تھاپ سنای دینے لگی جب شادی کے بعد ہم چھت پر چاند اوتاروں بھرے آسمان تلے سوے ہوتےکہ سحری کے لیے ڈھول والے داخل ہوتے ااورہرگھرکےدروازے پرپرجوش انداز سے ڈھول بجاتے گہری نیند میں ڈھول کی مسلسل آواز کبھی کبھی بہت ناگوار گزرتی

اورپھر عید کی صبح سویرے ایک نئے جوش و ولولے سےڈھول بجاتےعیدی کاتقاضا کرتے ڈھول والے جمعدارنی مختلف لوگ عیدی وصول کرنے آتے

آہ اب یہ تمام کردار ماضی کاحصہ بنکر رہ گئے
نصرت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY