درخواست مسترد: ایوان فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آج ہی سنایا جائیگا

0
206

 احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف ور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی، عدالت آج دن ساڑھے 12 بجے فیصلے سنائے گی۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف اور مریم نواز کی درخواستوں پر سماعت کی۔ وکلاء نے عدالت سے استدعا کی کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ 7 روز کیلئے مؤخر کر دیں، ملزمان عدالت حاضر ہونا چاہتے ہیں، بیگم کلثوم نوازکی میڈیکل رپورٹ درخواست کے ساتھ موجود ہے۔ نیب نے فیصلہ مؤخر کرنے سے متعلق درخواست کی مخالفت کی اور کہا عدالت نے ملزمان کی طلبی کے نوٹسز بھی جاری کیے تھے، ملزم جان بوجھ کر عدالت نہیں آئے، ٹرائل مکمل ہے، فیصلے کیلئے تاریخ بھی مقرر تھی۔

یاد رہے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کیلئے درخواستیں دائر کیں، نمائندوں کے ذریعے دائر درخواستوں میں نواز شریف اور مریم نواز نے کہا کہ کلثوم نواز کی عیادت کے لیے برطانیہ گئے، جہاں ان کی طبعیت زیادہ خراب ہونے پر مزید قیام کرنا پڑا، کلثوم نواز کی صحت سے متعلق آئندہ 48 گھنٹے اہم ہیں، لہذا ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ کم از کم ایک ہفتے کے لیے موخر کر دیا جائے۔


ایون فیلڈ ریفرنس مکمل


احتساب عدالت نے تقریباً ساڑھے 9 ماہ کیس کی سماعت کی۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف سمیت ملزمان سے 127 سوالات پوچھے گئے ، مجموعی طور پر 18 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جن میں جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء بھی شامل تھے جبکہ نیب کے گواہ رابرٹ ریڈلے اور راجا اختر کا ویڈیو لنک پر بیان ریکارڈ کیا گیا، ملزمان کی طرف سے اپنے دفاع میں کوئی گواہ پیش نہیں کیا گیا، ایون فیلڈ ریفرنس کی 107 سماعتیں ہوئیں ہیں، سابق وزیر اعظم نواز شریف 78 اور مریم نواز 80 مرتبہ عدالت میں پیش ہوئیں۔

نیب نے نواز شریف اور بچوں کیخلاف 8 ستمبر 2017 کو عبوری جبکہ مزید شواہد سامنے آنے پر 22 جنوری کو ضمنی ریفرنس دائر کیا۔ 19 اکتوبر 2017 کو مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی جبکہ نواز شریف کی عدم موجودگی میں ان کے نمائندے ظافر خان کے ذریعے ان پر فرد جرم عائد کی گئی۔ نواز شریف 26 ستمبر 2017 کو جبکہ مریم نواز 9 اکتوبر کو پہلی بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ہونے کے باعث کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایئرپورٹ سے گرفتار کر کے عدالت پیش کیا گیا۔ مسلسل عدم حاضری پر عدالت نے 26 اکتوبر کو نواز شریف کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے، 8 نومبر کو پیشی کے موقع پر نواز شریف پر براہ راست فرد جرم عائد کی گئی۔ 11 جون 2018 کو حتمی دلائل کی تاریخ سے ایک دن پہلے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کیس سے الگ ہوگئے۔ نواز شریف کی طرف سے ایڈووکیٹ جہانگیر جدون نے وکالت نامہ جمع کرایا۔ 19 جون کو خواجہ حارث نے دستبرداری کی درخواست واپس لے لی۔ اس کے بعد خواجہ حارث اور امجد پرویز کے حتمی دلائل مکمل ہونے پر لندن فلیٹس ریفرنس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY