متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے رہنما پروفیسر حسن ظفر عارف کو رینجرز نے حراست میں لے لیا۔
ایم کیو ایم لندن کی جانب سے کراچی پریس کلب (کے پی سی) پر پریس کانفرنس کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم جب پارٹی رہنما پریس کلب پہنچے تو ان کو وہاں داخل ہونے سے قبل ہی حراست میں لے لیا گیا۔
حسن ظفر عارف پریس کلب کے باہر ایک موٹر سائیکل پر بیٹھے ہوئے تھے، جب رینجرز اہلکار ان کے پاس آئے، اہلکاروں نے ان سے مصافحہ کیا اور ان کو ساتھ چلنے کے لیے کہا۔
رینجرز کے اہلکاروں نے حسن ظفر عارف کو موبائل میں بٹھایا اور ساتھ لے گئے۔
ایم کیو ایم کے کچھ کارکنان کراچی پریس کلب کے باہر موجود تھے تاہم جب رینجرز نے رہنما کو حراست میں لیا تو وہاں موجود کارکن بھی چلے گئے۔
حسن ظفر عارف کو حراست میں لیے جانے پر ایم کیو ایم لندن کے رہنما واسع جلیل نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رابطہ کمیٹی کے دوسرے ارکان سے بھی رابطہ نہیں ہو رہا۔
ڈان نیوز سے گفتگو میں ایم کیو ایم لندن کے رہنما واسع جلیل نے مزید کہا کہ خدشہ ہے کہ رابطہ کمیٹی کےدوسرے ارکان کوبھی گرفتار کرلیا گیا ہے۔
بعد ازاں ایم کیو ایم کی جانب سے پریس کانفرنس ملتوی کر دی گئی، کیونکہ پریس کلب پر موجود دیگر رہنماوں کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس حسن ظفر عارف نے ہی کرنی تھی۔
ڈان نیوز کے مطابق ایم کیو ایم کے ایک اور رہنما کنور خالد یونس کو بھی پریس کلب آتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔
یاد رہے کہ ایم کیو ایم لندن نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے ایک نئی رابطہ کمیٹی کا اعلان کیا تھا جس میں حسن ظفر عارف کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔
گذشتہ ہفتے بھی ایم کیو ایم لندن کی اعلان کردہ رابطہ کمیٹی نے اپنی پہلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ مائنس ون نہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ممکن ہے۔
کراچی پریس کلب میں دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی لندن کے رکن پروفیسر حسن ظفر عارف کا کہنا تھا کہ ‘ایم کیو ایم پاکستان یا ایم کیو ایم لندن کوئی چیز نہیں، ایم کیو ایم صرف وہی ہے، جس کے قائد الطاف حسین ہیں’۔













