شریف خاندان کے خلاف زیر سماعت نیب ریفرنسز کی مدت میں چوتھی مرتبہ توسیع

0
47

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنسز میں فیصلہ کرنے کی مدت میں چوتھی مرتبہ توسیع کرتے ہوئے احتساب عدالت کو مزید 6 ہفتوں کا وقت دے دیا۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل بینچ نے نیب ریفرنس کی مدت میں توسیع سے متعلق درخواست کی سماعت کی، اس دوران نیب کے وکیل اور نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث بھی پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر جسٹس اعجاز الاحسن نے نیب کے وکیل سے استفار کیا کہ آپ کو مزید کتنا وقت درکار ہے، اس پر نیب کے وکیل نے بتایا کہ مجموعی طور پر 4 ریفرنس تھے، فلیگ شپ انویسٹمنٹ میں 18 گواہان تھے، 14 پر جرح مکمل ہوچکی ہے، دیگر گواہان پر جرح رہتی ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ غالباً ایک ریفرنس پر کارروائی مکمل ہوچکی ہے، جس پر وکیل نیب نے بتایا کہ ایون فیلڈ ریفرنس مکمل ہوچکا ہے جبکہ باقی ریفرنس پر 12 جولائی کو سماعت رکھی گئی ہے۔

نیب کے وکیل نے بتایا کہ ریفرنس نمبر 21 اسحٰق ڈار سے متعلق ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسحٰق ڈار تو مفرور ہیں، کیا غیر موجودگی میں سزا ہو سکتی ہے؟ مزید وقت کتنا درکار ہے؟

چیف جسٹس کے استفسار پر وکیل نیب نے بتایا کہ 11 جون سے اب تک شریف خاندان کے خلاف 2 ریفرنس پر کارروائی نہیں ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان تمام کیسز کا فیصلہ جلدی ہو، اسحٰق ڈار کو ہم نے بھی طلب کیا ہوا ہے مگر وہ مفرور ہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہمیں یقین ہے کہ خواجہ حارث دیے گئے وقت میں کارروائی مکمل کریں گے۔

چیف جسٹس نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ کیا اب آپ کے میرے ساتھ تعلقات بہتر ہوجائیں گے؟ نیب نے 4 ہفتے مانگے آپ نے 6 ہفتے مانگے، ہم آپ کو 6 ہفتے دے رہے ہیں۔

اس پر خواجہ حارث نے اعتراض کیا کہ جج محمد بشیر نے ایک ریفرنس میں فیصلہ دیا ہے باقی کو سننا چاہیے لیکن ان ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر نہیں کریں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ اعتراض نہیں کر سکتے، ایک جج، جس نے تمام ریفرنسز میں سماعت کی، گواہان کے بیان قلمبند کئے اب وہ کیسے تبدیل ہو۔

خواجہ حارث نے کہا کہ شروع سے تمام ریفرنس میں مماثلت تھی لیکن اکھٹا کرکے نہیں سنا گیا جبکہ ریفرنسز میں گواہ اور ثبوت ایک جیسے ہیں۔

دوران سماعت خواجہ حارث نے مزید کہا کہ ایک ریفرنس پر فیصلہ ہو چکا ہے تو اس جج کا دوسرے ریفرنس پر اثر پڑے گا۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز میں مماثلت نہیں، ان میں گواہ اور ثبوت الگ الگ ہیں، ہم آپ کے جج پر اعتراضات پر مائل نہیں ہوئے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خواجہ حارث آپ بار بار غیر منصفانہ اقدام کی بات کرتے ہیں، سپریم کورٹ ایسا سوچ بھی نہیں سکتی، آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ ملک کی کتنی خدمت کررہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ رات 3 بجے تک سیرینا ھوٹل میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں، آپ کو غیر منصفانہ اقدام کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی، آپ ناراض نہ ہوں ہم 6 ہفتے کا وقت دیتے ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے العزیزیہ ریفرنس مل، فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور اسحٰق ڈار کے خلاف ریفرنس کی سماعت کی مدت میں توسیع کرتے ہوئے احتساب عدالت کو 6 ہفتے کی مہلت دے دی۔

یاد رہے کہ اس سے قبل احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے نواز شریف پر 80 لاکھ پاؤنڈ (ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد) اور مریم نواز پر 20 لاکھ پاؤنڈ (30 کروڑ روپے سے زائد) جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY