سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) مرکزی کے رہنما میاں رضا ربانی نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو متنازع قرار دے دیا۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ عام انتخابات وقت سے قبل ہی متنازع ہو چکے ہیں جس کی وجہ انتخابی عمل میں مداخلت اور الیکشن کمیشن کے آئینی کردار میں ناکامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 25 جولائی کو انتخابات منعقد نہ ہونے اور ان کے ملتوی کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
سابق صدرِ مملک جنرل (ر) پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے ایک آمر کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی، آرٹیکل 6 کے مجرم کو الیکشن لڑنے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف ملک میں واپس نہیں آئے جس پر فیصلے کو واپس لے لیا گیا۔
پولنگ کا وقت بڑھانے کے معاملے پر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ایک جماعت کے کہنے پر کس طرح پولنگ کا وقت بڑھا دیا گیا؟
الیکشن کمیشن حکام کو سینیٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ
سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے الیکشن کمیشن کے حکام کو بریفنگ کے لیے سینیٹ میں طلب کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات میں فوج کی تعیناتی اور انہیں اختیارات دینا ایک اہم معاملہ ہے، تاہم الیکشن کمیشن فوج کو دیے گئے اختیارات سے متعلق ایوانِ بالا کو اعتماد میں لے۔
سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن نے انتخابات میں مداخلت سے متعلق بیان دیا اور پھر اسے واپس لے لیا لہٰذا یہ جاننا ضروری ہے کہ انہوں نے اپنا بیان واپس کیوں لیا۔












