سابق صدر اورپاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جلسے جلوس کرنا ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی پی پی کے مرکزی میڈیا سیل کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ سیاسی سرگرمیاں جمہوریت اور جمہوری عمل کو مضبوط کرتی ہیں۔
ا س کے ساتھ آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کی کوششوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت اس قسم کے اقدامات برداشت نہیں کرے گی۔
پی پی پی کے دور حکومت کی تعریف کرتے ہوئے سابق صدر کا کہنا تھا کہ 2008 سے 2013 تک ہمارے 5 سالہ دورِحکومت میں کسی کو سیاسی قیدی نہیں بنایا گیا۔
خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدرشہباز شریف، ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز، سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور پارٹی کے دیگر 50 رہنماؤں کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی لاہور آمد کے موقع پرعوامی جذبات کو بھڑکا کر مبینہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کرنے پردہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے تھے۔
مقدمات میں مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب، سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایازصادق اور پارٹی کے سیینئر رہنما جاوید ہاشمی کو بھی ملزم ٹھہرایا گیا تھا، جس پر ردعمل دیتے ہوئے پی پی پی کی مرکزی قیادت کا مذمتی بیان جاری کیا گیا۔
لوہاری گیٹ پولیس تھانے می درج کیے گئے مقدمے میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر الزم عائد کیا گیا کہ انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو جان سے مارنے کی نیت سے ان پر پتھر برسائے۔
اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں پر عوامی املاک و عمارات کو نقصان پہنچانے اور سیکیورٹی اہلکاروں کو دھمکیاں دینے اور زخمی کرنے کا الزم بھی ہے۔
درج کی گئی ایف آئی آر میں سرکاری کام میں مداخلت، پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 144 اور انتخابی امیدواروں کے لئے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی جبکہ غیر قانونی طور پر جلسے جلوس کرنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔
لاہور پولیس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر مشتبہ افراد کے خلاف کل 12 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
پی پی پی کے جاری کردہ بیان میں آصف علی زرداری کا مزید کہنا تھا کہ یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو سازگار ماحول فراہم کرے۔
بیان میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا نام لیے بغیر ان کا کہنا تھا کہ گولی اور گالی جمہوریت کے دشمن ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو سیاست میں غیر مہذب زبان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے، جو لوگ ہر قت دوسروں کو گالیاں دیتے ہیں وہ قوم کی خدمت نہیں کرسکتے۔
اس کے علاوہ انہوں نے دادو کے علاقے میں پی پی پی کے امیدوار کی ریلی پر فائرنگ کے واقعے کی بھی مذمت کی، آصف علی زرداری نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔












