سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ احتساب کے حوالے سے اپوزیشن کی بہت سی شکایات جائز ہیں۔ جب کوئی آدمی پکڑا جاتا ہے تو حکومت شور مچاتی ہے کہ نہیں چھوڑیں گے۔
سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے حکومتی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان قرضوں کے بہت بڑے بحران میں پھنس چکا ہے لیکن حکومت کی ملکی مسائل پر توجہ نہیں ہے۔ موجودہ حکومت نے قرضوں کے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ ہر کوئی اپنے مفاد کے لیے تگ ودو کر رہا ہے۔ حکومت ایک دن کچھ اور اگلے دن کچھ اور کہتی ہے۔
چودھری نثار علی خان نے واہ کینٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قرضوں پر چل رہا ہے، اس اہم معاملے پر سوچنے کی ضرورت ہے لیکن این آر او کون لے رہا ہے اور کون دے رہا ہے، ایسی چیزوں پر بحث کی جا رہی ہے۔ حکومت کی باتوں میں تسلسل نہیں ہے۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ ہم قرضوں کے گرداب میں ہم پھنسے ہوئے ہیں جس سے نکلنے کے لیے ملک کو کئی سال لگیں گے۔ پاکستان کے مسائل پر قومی اسمبلی میں ڈبیٹ ہونی چاہیے۔
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور نواز شریف کی بھارتی پالیسی میں کوئی فرق نہیں، امن کے لیے روز بھیک مانگنا غیرت مند قوم کے لیے مناسب نہیں ہے۔ خدا کے لیے کوئی عمران خان کو سمجھائے حکومتیں ٹویٹ پر نہیں چلتیں۔ انھیں نریندر مودی کی مبارکباد کا ذکر ٹویٹ میں نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وزیراعظم کو بھارت کے حوالے سے فیصلے سوچ سمجھ کر کرنے چاہیں جبکہ افغانستان ایشوز پر بھی ڈبیٹ ہونی چاہیے۔
انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ احتساب کے حوالے سے اپوزیشن کی جائز شکایات کو دور کرتے ہوئے احتساب کے نظام کو شفاف بنایا جائے۔ جب کوئی آدمی پکڑا جاتا ہے تو حکومت شور مچاتی ہے کہ نہیں چھوڑیں گے۔ حکومت نیب کو بطور آزاد ادارہ کام کرنے دے۔ اپوزیشن کی بہت ساری شکایات جائز ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بے انتہا مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک شارٹ کٹ سیاسی استحکام ہے۔ سیاست کو ایک طرف رکھ کر ملکی مسائل پر سب کو اکٹھا کیا جائے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کر کے مسائل کا حل نکالنے کے لیے راستہ نکالنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
مسائل کا حل اتحاد سے کیا جا سکتا ہے۔ حکومت نے اگر عملی طور پر کچھ کرنا ہے تو سب کو یکجا کرنا چاہیے۔












