امریکا کی افغان پالیسی میں بڑی تبدیلی، افغان طالبان سے امریکا براہ راست مذاکرات کرے گا، افغانستان کی طویل ترین خانہ جنگی ختم کرانے کے لیےصدر ٹرمپ نے امریکی سفارتی وفود کو احکامات جاری کردیے، افغانستان میں اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے بھی خبر کی تصدیق کردی۔

مغربی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے طالبان سے براہ راست مذاکرات نہ کرنے کا اپنا دیرینہ مؤقف تبدیل کر لیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے سفارتکاروں سے کہا ہے کہ وہ 17 سالہ یہ تنازع ختم کرانے کے لیے طالبان سے براہ راست ابتدائی بات چیت کی کوشش کریں۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پالیسی میں یہ تبدیلی وائٹ ہاؤس میں افغان پالیسی کے حوالے سے پھیلی مایوسی کی عکاس ہے اور طالبان کی جانب سے رویے میں نرمی ظاہر کرتی ہے۔

ادھرافغانستان میں اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے قیامِ امن کا عمل آگے بڑھے گا۔

واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ ماہ امریکا سے براہ راست مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY