پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر مشرف رسول سیان نے سپریم کورٹ کو ماموں بنا دیا اور ان کی مبینہ غلط بیانی کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز یعنی 12 جولائی کو پی آئی اے کی ایئر سفاری کے بارے میں سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کی سماعت کراچی رجسٹری میں ہوئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار نےپی آئی اے چیف ایگزیکٹو آفیسر مشرف رسول سے ان کی تنخواہ کے بارے میں پوچھا تو ان کا جواب تھا 14 لاکھ روپے صرف جبکہ دستاویزات کے مطابق ان کی بنیادی تنخواہ ہی 15 لاکھ روپے جبکہ ان کی مجموعی تنخواہ 20 لاکھ روپے ماہانہ بنتی ہے۔

دستاویزات میں بیان کی گئی دیگر سہولیات میں ان کے 5 رکنی خاندان کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سفرکے لیے مفت ٹکٹ، میڈیکل، بیرون ملک سرکاری دورے پر ڈالروں میں الائونس اور کار وغیرہ کی سہولت بھی موجود ہے۔

مشرف رسول سے یہ سوال بھی کیا کہ ایئر سفاری کے لیے کتنے مفت ٹکٹ دئیے،تو جواب آیا کہ صرف 42اور اس معاملے میں بھی پی آئی اے کے سی ای او کی غلط بیانی سامنے آئی۔

پی آئی اے ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 72 افراد کے لیے مفت ٹکٹ دیئے گئے، اس میں سے 48 افراد کو کراچی سے، 8 کو لاہور سے اور پی آئی اے کے 14 ملازمین کو مفت ٹکٹ جاری کیے گئے، صرف یہی نہیں بلکہ کراچی اور لاہور سے اسلام آباد کے بھی مفت ٹکٹ جاری کیے گئے اور ان ٹکٹوں پر عائد سرکاری ٹیکس بھی پی آئی اے کے کھاتے سے ادا کیا گیاتھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY