پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شیری رحمان کا کہنا تھا کہ نتائج میں مداخلت نظر آرہی ہے، پورے انتخابات پر سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں جبکہ ایک تنظیم کے علاوہ تمام جماعتوں کو دیوار سے لگایا جارہا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ3،4 گھنٹے میں پورے ملک سے 250 سے زائد شکایات آئیں، الیکشن کمیشن کو شکایات سے آگاہ کر دیا تاہم خواتین کے پولنگ اسٹیشنز سے زیادہ شکایات آئیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ دیہی سندھ میں پیپلزپارٹی کے حامیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور لاڑکانہ سے لیکر لیاری تک ہمیں نتائج نہیں دیے جارہےہیں۔
دوسری جانب پریس کانفرنس میں موجود پی پی پی رہنما رضا ربانی نے کہا کہ انتخابی مہم کیلیےسیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع نہیں دیے گئے، تصدیق شدہ نتائج کا فارم45 نہیں دیاجارہا۔
ان کا کہنا تھا کہ لیاری میں بھی پی پی کےپولنگ ایجنٹس کو نکال کر نتیجہ نہیں دیاجارہا جبکہ جہاں امیدوارجیت رہےہیں فارم 45دستخط کرکےپولنگ ایجنٹس کودیاجائےجبکہ پی ایس56 حیدرآباد میں نتیجے میں تاخیر کی جا رہی ہےاور بدین میں بھی پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا گیا ہے۔













