ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والے عوام کے فیصلے کوتسلیم بھی کریں ۔ نگہت نسیم

0
196

پاکستان کے عام انتخابات یوں توکہنے کو 25 جولائی کو ختم ہو گئے لیکن آثار و قرائن بتاتے ہیں کہ ان انتخابات میں زبردست شکست کھانے والے عناصر اپنی شکست کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور ان کو شاید یہ شکست ایک طویل عرصے تک ہضم بھی نا ہو گی ۔

اس رونے ، چیخنے ،چلانے اور سینہ زنی کرنے والے گروہ کے سرغنہ فضل الرحمن عرف ڈیزل ہیں جن کو میں نے مولانا سوچ سمجھ کر اس لیئے نہیں لکھا کہ ایسے لوگوں کومولانا کہنا ایک طرف علم کی تضحیک ہے اور دوسری طرف لفظ مولانا کی بے عزتی بھی ہے ۔ سیاست میں ایسے عناصر صرف مفاد پرستی کے حدف کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور پھر جب ان کواپنے مفادات زد پہ محسوس ہوں تو یہ ہار ماننے کی بجائے شطرنج کی پوری بساط ہی لپیٹ دیناچاہتے ہیں ۔

پاکستان کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آج تک جتنے بھی ، جیسے بھی انتخابات ہوئے ان میں پاکستانی عوام کی بہت سادہ اکثریت نے بھی ان دایئں بازو کی نام نہاد اسلام پسند جماعتوں کو کبھی بھی اقتدار میں لانے کے لئے خاطر خواہ ووٹ نہیں دیئے اور اس کی بنیادی وجہ میرے خیال میں یہ ہے کہ ہماری  دینی قیادت کی غالب اکثریت قول اور فعل کے اعتبار سے تضاد میں اپنی معراج پر ہے اور عوام کی ایک بڑی اکثریت ان کے کردار کی اس منفی پہلو سے بخوبی آگاہ ہے۔

ان انتخابات میں حیرت اس بات پر ہوئی ہے کہ کے پی کے اور بلوچستان کے علاوہ پنجاب کے ان علاقوں میں جہاں دایئں بازوں کے سیاسی اثر و رسوخ کو نمایاں سمجھا جاتا تھا۔ وہاں کے ووٹروں نے بھی ان مفاد پرستوں کومسترد کر دیا ۔ جماعت اسلامی کے سراج الحق ہوں یا جے یو آئی کے فضل الرحمن یا پھر لیاقت بلوچ ، اکرم درانی ، اور اسی سوچ فکر کے دوسرے لوگ ان کے اپنے ہم خیال لوگوں کے بھی بہت کم لوگوں نے انہیں پزیرائی دی ہے ۔ سچ بات تو یہ ہے کہ عام زندگی میں بھی اپنی شکست کو تسلیم کرنا ہمارے معاشرے کا مزاج نہیں ہے جبکہ انتخابات میں ہار جانا قیامت ٹوٹنے کے برابر ہے ۔۔

میں بار بار اپنی تحریروں میں اور فیس بک کے لایئو پروگراموں میں کہہ چکی ہوں کہ میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔ لیکن جو کوئی بھی اچھا کام کرے گا ، میں اس کی تعریف کرونگی اور جو کام ملکی مفاد میں نہیں ہوگا یا عوام کے حق میں نہیں ہوگا اس کی ہر صورت میں مخالفت ہو گی ۔

مجھے یہاں عمران خان کی پہلی تقریر میں اس ایک نقطے پر عمران کو مبارکباد دینی ہے کہ اس نے یہ کہہ کر اپنی فتح کو یقینی بنا دیا کہ ہارنے والے لوگ جس جس حلقے میں چاہیں اسے تحقیقات کے لئے کھولنے میں پی ٹی آئی ان کے رستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی بلکہ مددگار ہوگی۔ لیکن اس ہارے ہوئے ٹولے نے اس ایک اچھی پیشکش کے باوجود ستایئس جولائی جمعہ کے روز اسلام آباد میں ایک آل پارٹی کانفرنس طلب کی جس کی مشترکہ میزبانی فضل الرحمن اور شہباز شریف نے کی جس میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت کے علاوہ بہت سے دوسرے لوگ شریک نہیں ہوئے ۔ اور جو شریک ہوئے ان کی اکثریت اس زہنی میلان کی ہے جنہیں شاید یہ یقین ہے کہ اللہ نے “ اقتدار“ ان کے لئے اور انکے خاندان کے لئے لکھا ہے اور دوسرے کسی انسان یاپارٹی کو کو اس بات کا حق نہیں ۔

اس پارٹی میں فضل الرحمن کی ایک جانب ایک اور ان جیسا مفاد پرست اچکزئی تھے ، جنہوں نے ن لیگ کی حکومت میں ان کی حمایت کے عوض جو جو کچھ حاصل کیا نیب کو اس کی تحقیقات کرنی چاہیئے ۔ ان کی دوسری جانب سراج الحق تھے جو نا ظاہری طور پر اور نا ہی عملی طور پر کسی رخ سے سیاسی آدمی ثابت ہیں ۔ اس اجلاس نے یہ شرمناک فیصلہ بھی کیا کہ ان کی جماعت کے لوگ قومی اسمبلی کا حلف نہیں اٹھایئں گے ۔ یعنی وہ ووٹ اور ووٹر کی عزت کو خود پائمال کریں گے کہ انہیں ان کے ووٹر نے ووٹ اسمبلی میں جانے کے لئے دیا ۔ اس اجلاس کے شرکاء میں ن لیگ واحد سیاسی جماعت ہے جس کے امیدوار قابل زکر تعداد میں قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے ہیں ۔ اور شہباز شریف نے بطور سیاستداں یہ فیصلہ کر کے وہ اسمبلی میں حلف لیں گے اور حذب مخالف کا کردار ادا کریں گے فضل الرحمن کے اس اجلاس کو ناکام بنا دیا ۔

اس موضوع پر اور بہت کچھ لکھا جائے گا لیکن یہاں یہ کہہ کر بات ختم کرتی ہوں کہ سیاست ملک کے لئے ہوتی ہے اور ملک کے عوام کے لئے ہوتی ہے ۔ اگر آپ کے فیصلے ملک اور عوام دونوں کے خلاف ہیں تو آپ کو اپنے گریبان میں خود جھانکنا ہوگا ۔ ان انتخابات کے نتائج پاکستان کے 1977کے نتائج کی طرح ہیں جن میں ایسے ایسے بڑے برج الٹے کہ ان کے خاندانوں کو آج تک اس شکست کا یقین نہیں ہوتا۔ اور مجھے اس بات کا یقین ہے کہ اے پی سی میں شرکت کرنے والے اکثر شکست خوردہ عناصر کو بھی اپنی شکست کا یقین نہیں ہوگا اور یہ ایسے ہی پانچ سال تک اپنے زخم چاٹتے رہیں گے ۔

ڈاکٹر نگہت نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY