کل اُس کی آنکھ نے کیا زندہ گفتگو کی تھی
کسے گماں تھا یہ شخص بچھڑنے والا ہے

بلند و بالا پہاڑی سلسلوں، سنگلاخ چٹانوں، بہتے جھرنوں اور شفاف ساحلوں کی سرزمین ، بلوچستان ،صلاحیت ، ہنر اور فن کے حوالے سے ہر دور میں بہت زرخیز رہی ہے۔ بلوچستان کے شاعروں ، ادیبوں، لکھاریوں، فنکاروں ، اداکاروں ، غرض ہر شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والے نمایاں افراد نے نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا نام عالمی سطح پر بلند کیا۔ اگر ہم فنونِ لطیفہ کی بات کریں تو اس دنیا میں کم کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جو مختلف اصناف میں یکساں میعار کی تخلیقات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایسے ہی چنیدہ لوگوں میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والا ایک معتبر نام’’ آصف غوری‘‘ کا بھی ہے۔ جنہیں اللہ عزوجل نے خوبصورت آواز، نہایت شیریں لہجہ ،پُرکشش شخصیت، اورعمدہ فنکارانہ صلاحیتیں عطا کیں۔ وہ بیک وقت ایک شعلہ بیان مقرر، زیرک سیاست دان، بہترین اسٹیج اداکار و ہدایتکار، ٹی وی کے ورسٹائل فنکار ، عمدہ براڈکاسٹر، ریڈیو پروڈیوسر،رائیٹر، نیوز کاسٹر، کمپیئراور شاعرتھے ،ان کا شمار پاکستان کے صفِ اوّل کے فنکاروں اور براڈکاسٹرز میں ہوتا تھا۔
آصف غوری1954؁ء میں بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی۔ پھر مزید تعلیم کیلئے کوئٹہ آگئے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی انہوں نے ایک بہترین مقرر اور اسٹوڈنٹ لیڈر کے طور پر بہت نام پیدا کیا۔ بعد ازاں عملی سیاست سے بھی وابسطہ رہے ۔ چند دوستوں کے کہنے پرسیاست کو خیرباد کہا اور اسٹیج کا رُخ کیا۔
1976ء میں آصف غوری نے اے ڈی بلوچ، پرویز جیلانی، غلام جان ، انیس تبسم اور دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر’ صدف آرٹس پروڈکشن ‘ کے نام سے اپنی ڈرامیٹک سوسائٹی کی بنیاد رکھی ۔’ قاتل کون ‘ بحیثیت پروڈیوسر ڈائریکٹر انکا پہلا ڈرامہ تھا۔ انہوں نے یہ ڈرامہ کوئٹہ کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے دیگر شہروں میں بھی پیش کیا اور خوب داد سمیٹی۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے ہندو برادری کے رسوم و روج پر مبنی اسٹیج ڈرامہ ’’پریم پجاری ‘‘تخلیق کیا۔ اس ڈرامے میں ان کے ساتھ انیس تبسم، سیمی خان، غلام جان و دیگر نے حصہ لیا۔اس ڈرامے نے شہرت کے نئے ریکارڈ قائم کردئیے ۔یوں اسٹیج پر اپنی سحر انگیز آواز ، جاندار اداکاری اور عمدہ ہدایتکاری کی بنا ء پر خوب شہرت پائی۔

پھراسٹیج سے ریڈیوپر آئے تو بحیثیت صداکارا ور اناؤنسر اپنا منفرد مقام بنایا۔ریڈیو ڈرامے میں انہیں پروڈیوسر عابد حسین خواجہ نے متعارف کروایا۔ان کی لازوال آواز ، خوبصورت لہجے اوربے مثال ریڈیائی خدمات کے صلے میں انہیں ’’آواز کی دنیا کا جنرل بخت خان ‘‘ کے خطاب سے بھی نوازا گیا۔ ریڈیو ڈرامہ بنانے میں انہیں خاص ملکہ حاصل تھا۔ریڈیو میں پروڈیوسر تعیناتی کے بعدٹریننگ کے اختتام پر انہوں نے’’دوسرا قدم‘‘ کے نام سے ایک ڈرامہ پروڈیوس کیا جسے شیراز حیدر نے تحریر کیا جبکہ اس ڈرامے میں مرکزی کردار معروف براڈکاسٹر صفدر علی ہمدانی جو آصف غوری کے استاد بھی ہیں ،نے ادا کیا ۔اچھوتی تحریر ، عمدہ پرفارمنس اور جاندار ہدایت کاری کی وجہ سے اس ڈرامے کو بے حد سراہا گیا ، اسطرح آصف غوری کا یہ ڈرامہ اوّل قرار پایا۔ ملازمت کے ابتدائی سالوں میں جب وہ اسلام آباد میں تھے تو عظیم براڈکاسٹر بشیر بلوچ اور یاور مہدی نے انہیں یہ کہہ کر کوئٹہ بلوایا کہ ’آصف غوری کوئٹہ آجاؤ ریڈیو ڈرامہ مَر رہا ہے‘ ۔پھر وہ کوئٹہ آگئے اور انہوں نے لگاتار 26سال تک اردو اور پشتو زبانوں میں بے شمار لازوال ڈرامے تخلیق کئے۔ جو بلاشبہ اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں۔انہوں نے کوئٹہ سے ریڈیو ڈرامہ سیریل پیش کرنے کی داغ بیل ڈالی۔اُن کی مشہور ترین سیریلز میں ’’ماں‘‘ ، ’’پتّا‘‘ اور دیگر شامل ہیں۔1990ء کی دہائی میں انکے تخلیق کردہ ریڈیو پروگرام ’محفل‘ نے شہرت کے نئے ریکارڈ قائم کر دئیے۔ یہ شہرہ آفاق پروگرام ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے روزانہ صبح نو بجے نشر ہوا کرتا تھا۔اس پروگرام میں میزبانی کے فرائض بھی آصف غوری صاحب خود سرانجام دیتے تھے۔
۔۔ 1994میں بچوں کے عالمی نشریاتی دن کے موقع پر یونیسیف نے دنیا بھر سے منتخب کئے گئے 300 پروڈیوسرز کے درمیان ڈرامائی فیچرز کا مقابلہ کروایا۔جس میں پاکستان کے تمام بڑے ریڈیو اسٹیشنوں سے منتخب پروڈیوسرز نے بھی حصہ لیا اوربچوں کے مسائل پر مبنی تخلیقات پیش کیں۔ اس مقابلے میں بلوچستان کی نمائندگی آصف غوری نے کی۔مقابلے کے منصفین میں بی بی سی کے نامور براڈکاسٹرز کے ساتھ ساتھ عالمی ادارے یونیسیف کے منتخب نمائندے اور نقاد شامل تھے۔ججوں کے متفقہ فیصلے کے مطابق اس مقابلے میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے کا اعزازآصف غوری کو حاصل ہوا۔یوں انکے تخلیق کردہ ڈرامائی فیچر ’’مستقبل‘‘ نے دنیا بھر میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ ریڈیو ڈرامے میں انہوں نے نت نئے تجربات بھی کئے۔ مثلاً انہوں نے ریڈیو کی تاریخ میں پہلی دفعہ ریڈیو ڈرامے کی ریکارڈنگ ٹی وی کی تیکنیک پر آؤٹ ڈور میں کی۔ ’’بوئے وفا‘‘ نامی اس ڈرامے کو عوام و خواص میں بہت پزیرائی ملی۔
ریلوے پُلوں کے نیچے بسنے والے خیمہ نشینوں کی زندگی پر مبنی ڈرامے ’’ہم لوگ‘‘ میں آصف غوری کی خداداد تخلیقی صلاحیتوں اورمحنت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ڈرامہ سننے کے بعد اہلِ ذوق کا کہنا تھاکہ’ ’کافی عرصے بعد ہم نے ریڈیو پر ڈرامہ دیکھا۔۔۔‘‘
اسی طرح انکے تخلیق کردہ فیچرز، ڈاکیو مینٹریز ، اور روڈ شوز اپنی مثال آپ ہیں۔اسکے علاوہ وہ بحیثیت میزبان اور پروڈیوسر مسلسل 26 سال تک ریڈیو کوئٹہ سے سالانہ محافلِ شبینہ کرتے رہے جو ان کیلئے ایک اعزاز ہے۔
ریڈیو کے ساتھ ساتھ آصف غوری نے ٹی وی میں اداکار، نیوز کاسٹر، کمپیئر، کمرشل وائس اور بیک گراؤنڈ وائس کے طور پربے شمار کام کیا۔انہیں اس دور کے باکمال ہدایت کاروں مثلاً محمد نواز مگسی ، کاظم پاشا، غفران امتیازی، طارق معراج، زیب شاہد، سجاد احمد، دوست محمد گشکوری، قاسم جلالی، منظور مگسی، در محمد کاسی، مسرور عالم خان وغیرہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔انہوں نے مجموعی طور پر کم و بیش 200سے زائد ٹی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کے چند مقبول ترین ٹی وی ڈراموں میں کردار سیریز، کوشش، وہ کون ہے، رات کے بعد، پندار، ستون، پکنک، حاصل، الاؤ، درویش ، بھنور، چھتنار، تکون، قصہ سوتے جاگتے کا، آستین اور سانپ ، اپنی گلی میں، نقش ہیں سب ناتمام، وہ دیکھ کہ سورج چمکا ہے ، گل بشرہ اور دیگر شامل ہیں۔ آصف غوری بلاشبہ ایک ورسٹائل اداکار تھے، انہوں نے سنجیدہ کرداروں کے ساتھ ساتھ مزاحیہ کردار بھی خوب اچھی طرح نبھائے ۔ ان کے مزاحیہ ڈراموں میں اب کیا ہوگا، بیوی ٹی وی، بارات ایکسپریس، ڈائمنڈ رنگ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ پی ٹی وی کے ٹیلی تھیٹر ’پندار‘ میں انکی جاندار اداکاری سے اس وقت کے صدرضیاء الحق بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اور انہوں نے تعریفی خط کیساتھ ریوارڈ سے بھی نوازا۔پی ٹی وی پر انکا ڈرامہ ’قصہ سوتے جاگتے کا‘ اس حوالے سے امر ہوگیا کہ اس میں آصف غوری نے بیک وقت 5 مختلف کردار ادا کئے ،اور ہر کردار کو خوب نبھایا. اس کے علاوہ بھی ٹی وی پر انکے کئی ڈراموں نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔
عمدہ اداکار اور کہنہ مشق ہدایتکار ہونے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اسٹیج کمپیئرکے طوربھی اپنے نام کا لوہا منوایا۔ پاک آرمی اورپولیس کی سالانہ پاسنگ آؤٹ پریڈز،جشن آزادی کی تقریبات ،سالانہ سبی میلہ ، مختلف ایوارڈ شوز، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے شوز، آل پاکستان اسپورٹس فیسٹیولز، قومی کھیلوں کی تقریبات، غرض ہر جانب اُنکی مسحور کن آواز گونجتی رہتی تھی۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں بہترین کارکردگی کے صلے میں انہیں ایک پی ٹی وی ایوارڈ،3 پی بی سی ایکسیلنس ایوارڈز، 8گولڈ میڈلز، ایک سونے کا تاج اور مختلف سماجی اور ثقافتی تنظیموں کیجانب سے مجموعی طور پر تقریباً96 ایوارڈزاور بے شمار تعریفی اسناد ملیں۔
دوسری جانب وہ ریڈیو پاکستان میں ترقی کے زینے چڑھتے رہے۔ پروڈیوسر سے سینئر پروڈیوسر اور پھر کوئٹہ کے پروگرام مینیجر ہو گئے۔پھر لورالائی اور ژوب میں بطور اسٹیشن ڈائریکٹر فرائض سر انجام دیتے رہے ۔2012؁ء میں انکا تبادلہ بحیثیت پروگرام مینیجرلاہور ہوگیا۔جہاں انہوں نے اپنی سروس کے آخری دو سال گزارے اور وہیں سے مدت ملاز مت پوری کرنے کے بعد2014 ء میں ریٹائر ہوئے۔
آصف غوری نے ہمیشہ اپنے پیشے کا احترام کیا اور بہتر سے بہتر کام کرنے کیلئے اپنی تمام تر توانیاں صرف کردیں۔ جن کا پھل انہیں بے پناہ عزت، شہرت اورلاکھوں لوگوں کی محبت اور دعاؤں کی صورت میں ملا۔آصف غوری نے نصف صدی تک لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کی۔ یہ انکی انتھک محنت ، پُر خلوص جدوجہد ، اعلیٰ کردار اور اخلاق تھا جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پرپہنچا دیا۔وہ گذشتہ دو دہائیوں سے شوگر ، دل اور گردوں کے امراض میں مبتلا تھے۔ مگر انہوں نے ان بیماریوں کا مقابلہ بڑی ہمت اور جوانمردی سے کیا۔دو دفعہ دل کے دوروں اور فالج کے حملوں کے باوجودآخری عمر تک ان کی آواز میں لغزش نہیں آئی۔
وہ 26جولائی2015؁ء کوانہی بیماریوں کے باعث اپنے خالقِ حقیقی سے جا مِلے۔مرحوم کو لاہور کے مقامی قبرستان میں ہی سپردِ خاک کیا گیا۔انہوں نے پسماندگان میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
آصف غوری کی ہمہ جہت شخصیت اوربے مثال کام بلاشبہ ان شعبوں میں آنیوالے لوگوں کیلئے مشعلِ راہ ہے۔ریڈیو پاکستان ، پی ٹی وی اور اسٹیج پر انکے جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ کبھی پُر نہیں ہوسکتا۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب ﷺ کے صدقے مرحوم آصف غوری کی مغفرت فرمائے، انکی اگلی منزلیں آسان ہوں اورانہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام حاصل ہو۔۔۔ آمین ثم آمین

محمد عمیر

SHARE

LEAVE A REPLY