چار بڑی جماعتوں کا دھاندلی کے خلاف جدوجہد کا اعلان

0
47

مسلم لیگ ن ، پیپلز پارٹی ، متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی نے حالیہ انتخابات میں دھاندلی کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر مشترکہ جدوجہد کا اعلان کردیا ہے ۔

ایم ایم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو پارلیمنٹ کے بائیکاٹ نہ کرنے پر راضی کرنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور میڈیا پر عائد جبری سنسر شپ کی مذمت کی ۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آج چار جماعتوں نے تاریخ کے دھاندلی زدہ الیکشن کی مذمت کی ہے،ہم نمبرز گیم پر کام کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات میں طے پایا ہے کہ پارلیمنٹ کے اندراور باہر مشترکہ حکمت عملی بنانے پر اتفاق ہوا ہے ،ہم طاقتور اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم میں بہت زیادہ باتوں پر اتفاق کرلیا ہے،جو رہ گیا ہے وہ بھی ہوجائے گا،دنیا ،قوم اور الیکشن کمیشن نوٹ کرلے ،تاریخ میں کبھی اتنی جماعتوں نے الیکشن کو مسترد نہیں کیا ۔

ایم ایم اے سربراہ نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے گی جبکہ راجہ ظفر الحق نے کہا کہ آئین کے تحت الیکشن کرانا چیف الیکشن کمشنر اور 4 ارکان کی ذمہ داری تھی لیکن وہ ناکام رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں شریک چاروں جماعتوں نے وزیراعظم ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کےلئے مشترکہ امیدوار لانے پر اتفاق کیا،اس دوران وفاق میں حکومت سازی کےلئے کوشش کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی جس پر پی پی وفد نے مرکزی قیادت سے مشاورت کی مہلت طلب کرلی ہے ۔

اجلاس میں شریک ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے قومی اسمبلی میں حلف اٹھانے بارے تحفظات ظاہر کئے اور کہا کہ اس صورت میں پارلیمان سے باہر احتجاج کی حکمت عملی کیا ہو گی؟

مولانا فضل الرحمٰن نے اصرار کیا کہ قومی اسمبلی جانے کی صورت میں پارلیمنٹ کے باہر بھی سخت احتجاج کیا جائے جس پہ تمام جماعتوں نے اتفاق رائے کیا۔ یہ بھی طے پایا کہ پارلیمان کے اندر اور باہر سخت احتجاج کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیا رکی جائے گی ،اس دوران احتجاج کے لیے مختلف شہروں کی نشان دہی بھی کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور مسلم لیگ ن کے رہنما اے پی سی میں شامل دیگر جماعتوں سےرابطے کریں گے اور ان امور پہ انہیں اعتماد میں لے کر رواں ہفتے میں ہی اےپی سی کا دوبارہ اجلاس طلب کیا جائے گا،اے پی سی میں رہ جانے والے حل طلب امور پر اتفاق رائے پیدا کیا جائےگا۔

ذرائع نے بتایا کہ مرکزی میں حکومت سازی کے لیے بھرپور کوشش کرنے کی تجویز پہ اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں تمام اپوزیشن جماعتیں قومی اسمبلی میں متفقہ اپوزیشن لیڈر نامزد کریں گی۔

ذرائع نے بتایا کہ تمام متفقہ فیصلوں کا اعلان آل پارٹیز کانفرنس کے پلیٹ فارم سے کیا جائے گا جبکہ اے پی سی انتخابات میں مبینہ دھاندلی بارے مشترکہ وائٹ پیپر بھی شائع کرے گی۔

SHARE

LEAVE A REPLY