اب تو شاید کسی کو پتہ بھی نہ ہو کہ مُرغِ باد نما کس شے کا نام تھا ۔لیکن ہمیں کبھی کبھی ماضی میں جانا اچھا لگتا ہے۔یہ ایک ہوا کی سمت جاننے کا زریعہ تھا کہ ایک ڈنڈی پر مرغ کی شبیہ بنا کر جو ہوا کے زور سے گھوم سکے ہوا کا رُخ دیکھا جاتا تھا کہ کس طرف چل رہی ہے ۔لیکن ہمارے سیاست دان شاید اس قدر اُتاولے ہو گئے ہیں کہ انہیں یہ سمجھ ہی نہیں اآرہی کہ ہوا کا رُخ کیا ہے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ بیانات کی بو چھار ہے ۔بغیر سوچے سمجھے بغیر ماضی میں جھانکے جو آج کل اتنا آسان کر دیا گیا ہے ،کہ ہر چینل غلط بیانی کا پول منٹوں میں کھول دیتا ہے یہ کہہ کر، کہ دیکھئے آپ نے کیا کہا تھا ۔؟ لیکن اس سے خوفزدہ تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ضمیر کچھ زندہ ہیں سانس لے رہے ہیں لیکن وہ ضمیر جو جاگنا ہی نہیں چاہتے اُنہیں جگانے کے لئے صور ہی پھونکا جائیگا ۔
جو اپنے ہی ملک کی عدلیہ کو نشانہ بنائیں اپنے ہی ملک کی سینٹ کو بے وقار کریں کم حیثیت صوبوں کو بے توقیر کریں ،جو انکی ہی بے توجہی کا شکار ہو کر غربت اور افلاس اور جہالت میں ڈوب گئے وہ ملک کے مفاد کو کیسے سامنے رکھ سکتے ہیں یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے ۔کیونکہ ملک چلانے والے حکومت میں اآکر سارے ملک کو متحد کرتے ہیں ساری عوام کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں ۔صؤبہ صؤبہ نہیں کھیلتے ۔ملک ہمارا ہے یہ سارے صوبے ہمارے ہیں انہیں ہر طرح متحد رکھنا حکومت کا اولین فرض ہے کیونکہ یہ سب مل کر ہی پاکستان بنتا ہے ۔نہ خیبر پختونخواہ کسی دوسرے ملک کا ہے نہ سندھ کہیں اور ہے،نہ بلوچستان کا تعلق کسی اور ملک سے ہے نہ پنجاب کا ۔نہ سرائیکی کہیں اور کے ہیں نہ پختون اور فاٹا کے لوگ یہ سب ہمارے ہیں ۔اور ہم سب مل کر ہی وہ قوت بنتے ہیں جسے پاکستان کہا جاتا ہے آزاد خود مُختار پاکستان ،
ہمارے سیاست دانوں نے کبھی عوامی سیاست نہیں کی انہوں نے پچاس سالوں سے صرف اور صرف اپنی ذاتی اور خاندانی سیاست کی جس کا وبال ہم سب بُھگت رہے ہیں اور اگر اب بھی ڈھیلے رہے تو خدانخواستہ آگے بھی کچھ ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملینگے جہاں ایسا لگتا ہے کہ ،سَگے سوتیلوں کا چکر ہے جبکہ وہ بھی شاید اتنا نہیں ہوتا ۔دنیا میں کہیں بھی لوگ حکمران بن کر کسی ایک طرف نہیں ہوتے بلکہ پورے ملک سارے صوبوں پر توجہ دیتے ہیں لیکن ہمارے یہاں جب بات ہوتی ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم پاکستان کے صوبوں کی بات نہیں کر رہے کسی دوسرے ملک کی بات کر رہے ہیں ۔ہم سب ہی جب تک ایک نہیں ہونگے کچھ بھی نہیں کر سکینگے ۔ہ
مارے حکمران جن ملکوں کے دورے کرتے ہیں صبح شام وہاں کوئی یہ نہیں کہتا کہ میں مانچسٹری ہوں یا میں لوٹن کا ہوں یابرمنگھم کا ہوں یا کسی اور صوبے کا ہوں وہ کہتا ہے میں برٹشر ہوں ۔اسی طرح امریکہ میں کوئی نہیں کہتا کہ میں نیویارکی ہوں ،یا میں ھیوسٹن کا ہوں یا لاس اینجلس کا ہوں وہ کہتا ہے میں امریکی ہوں ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اپنی حیثیت پہلے لاتے ہیں میں سندھی ہوں میں بلوچی ہوں میں پنجابی ہوں یہ نہیں کہتے کہ میں پاکستانی ہوں ۔جس دن ہم سب نے اپنی شناخت پاکستان کو بنا لیا یقین جانیں کہ بدل جائینگی ہماری تقدیریں کیونکہ ہم بن جائینگے پہلے پاکستانی پھر کوئی اور ۔
جب آپ پاکستانی بن کر پاکستان کے بارے میں سوچینگے تو پھر کوئی صوبہ چھوٹا رہے گا نہ بڑا ہم سب ایک ہو جائینگے ۔یہ میں بہت پہلے بھی لکھتی رہی ہوں کہ متحد ہوں اور پاکستانی ہونا ہی ہمارا اعزاز ہے جسے ہمیں اختیار کرنا چاہئے ۔ہمارے یہاں روشن دماغ روشن چہرے اور روشن کردار بہت ہیں لیکن سیاسی لوگوں نے ایسی سیاست کو فروغ دیا کہ کوئی بھی سامنے نہیں اآنا چاہتا ۔
کہتے ہیں جو کچھ ہورہا ہے فراڈ ہے انتقام ہے ۔اب ہماری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ اگر انتقام ہے تو محترم آپ کو پتہ تو ہوگا کہ آپ نے کیا کیا جس کا انتقام لیا جارہا ہے ؟؟ کیونکہ انتقام لینے کی ہمیشہ کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے ۔آپ تو خود اپنے آپ سے اور اپنی پوری قوم سے انتقام لے رہے ہیں یہ نہ بتا کر کہ پیسہ کہاں سے آیا اور جائز آیا تو باہر کیسے چلا گیا کیا پیر لگ گئے تھے یا کوئی بھی جائز طریقہ نہیں تھا پیسہ بھیجنے کا ،آپ سے یہ امید تھی ہی نہیں جو قوم کی کمر میں آپ نے چھرا گھونپا ،ہم تو سمجھتے تھے کہ ہر سال عمرے اور آخری عشرے سعودیہ میں گزارنے والا کچھ چھپا ہی نہیں سکتا آپ نے ہم سے کتنا بڑا انتقام لیا ہم کس کے آگے روئیں اپنا دُکھڑا ،مّعصوم ذہنوں کو آپ آج بھی بیٹی کے ساتھ مل کر یر غمال بنانے پر تُلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سوائے اقتدار کے کچھ نظر نہیں آتی ۔
جس طرف بھی نظر کرتے ہیں اتنی کرپشن کی صدائیں ہیں کہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کیا کسی کو بھی اسلامی تعلیمات سے دور دور کا واسطہ نہیں ہے یا پھر حس ختم ہو گئی ہے کیونکہ جتنے کیس نکل رہے ہیں اُن میں یا تو فراڈ سامنے اآرہا ہے یا بے ایمانی ۔ہم تو ایک تجویز دینا چاہتے ہیں کہ اگر ان تمام برائیوں سے نکلنا ہے تو چین کو مثال بنا لیں حالانکہ ہمارے پاس اتنے مستند اور طاقتور سماجی احکام موجود ہیں کہ ہمیں کسی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ہم اگر اُن پر عمل کر لیتے تو روشنی ہی روشنی ہوتی ملک میں ۔
ہم اب بھی امید کرتے ہیں کہ کچھ لوگ اُٹھینگے اور سچائیاں اور حق سامنے لائینگے بغیر خوفزدہ ہوئے ،کہ موت اور زندگی کسی کے ہاتھ میں نہیں جب اور جس طرح اآنی ہے آئیگی نہ ایک لمحہ ادہر نہ ایک لمحہ اُدہر تو کیوں نہ سچ اور حق پر جان دی جائے ۔ملک اور قوم کو بچانے اور شر اور فساد برپا کرنے والوں سے نجات دلانے کے لئے ۔
ہوگا سب کچھ جب ہی جب سخت سے سخت سزائیں دی جائینگی بغیر عہدہ اور خاندان دیکھے ہوئے ۔کیونکہ مثل مشہور ہے کہ اولیاء کے گھر شیطان پیدا ہوجاتا ہے اور شیطان کے گھر اولیاء، اس لئے اس بات سے قطع نظر کہ بزرگ کیا تھے یا کن کی اولاد ہیں سخت سے سخت سزا لازم ہے تاکہ ملک میں امن اور سکون اور ایمانداری کی فضا پیدا ہو ۔
میاں صاحب باہر نکل کر بیٹی محترمہ کے ساتھ خوشخبریاں سنا رہے ہیں کہ ہم نے نیب کو زِچ کر دیا سوال کر کر کے ؟ انکے پاس جواب نہیں تھا ۔اس طرح اپنی تمام تر کامیابیاں گنوا رہے ہیں ۔ساتھ سونے میں تولے جانے والے لوگ بھی گنوا رہے ہیں ۔شاید میاں صاحب نےمرغ باد نما کا رُخ نہیں دیکھا کہ ہوا کدہر چل رہی ہے ؟؟
اللہ میرے ملک سے جہالت اور بے ایمانی کا خاتمہ فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY