جرمنی: ملزم کی تلاش جاری، ایک لاکھ یورو کے انعام کا اعلان

0
409

جرمنی کی پولیس پناہ کی درخواست دینے والے ایک تیونسی ٹرک ڈرائیور کو تلاش کررہی ہے جس پر برلن کی ایک کرسمس مارکیٹ میں 12 افراد کو کچل کر ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا تھا۔

خبررساں ادارے روئیٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی پراسیکیورٹرز نے کوئی ایسی اطلاع دینے پر، جس سے اس کی گرفتاری میں مدد مل سکے، ایک لاکھ یورو کا انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 24 سالہ آنس کی جرمنی میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔

ٹرک حملے میں مبینہ طور پر ملوث تیونس کے شخص کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ اٹلی میں غیر قانونی طور پر مقیم رہا اور اس نے وہاں کچھ وقت جیل میں بھی گذارا اور پھر سات سال پہلے اس نے اٹلی چھوڑ دیا۔

خبررساں ادارے ررئیٹرزکے مطابق تیونس کے ریڈیو موزائیک نے مشتبہ شخص کے والد اور سیکیورٹی ذرائع کے حوالے کہا ہے کہ اس کا نام انس عامری ہے اور وہ تیونس کے ایک دیہی علاقے کا رہنے والا ہے۔ وہ ایک اسکول کو آگ لگانے کے الزام پر چار سال تک اٹلی کی جیل میں رہ چکا ہے ۔ اس کے والد نے ریڈیو کو بتایا کہ اس کا بیٹا ایک سال پہلے جرمنی چلا گیا تھا۔

جرمنی کے شہر برلن میں کرسمس مارکیٹ پر ایک بڑے ٹرک کے ذریعے حملے میں ملوث افراد کی تلاش جاری ہے اور جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ اس میں ایک سے زائد افراد شامل ہو سکتے ہیں۔

شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے برلن میں کیے گئے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا، اس ٹرک حملے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

جرمن میڈیا کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والے ٹرک سے ملنے والی دستاویزات کی بنیاد پر پولیس تیونس کے شہری کو تلاش کر رہی ہے۔

برلن پولیس کا کہنا ہے کہ اُنھیں ہیلپ لائن کے ذریعے حملے سے متعلق 500 معلومات پر مشتمل ’لیڈز‘ ملی ہیں۔

SHARE

LEAVE A REPLY