مولوی صاحب آپ کی دال نہیں گلے گی۔انیسہ مسعود

2
159

مولوی فضل الرحمٰن صاحب کو کبھی اتنا پریشان نہیں دیکھا۔ اس وقت بھی نہیں جب پاکستان کی عوام کی جان ومال عزت آبرو کو ہر وقت ہر طرح کا خطرہ رہا۔ اس وقت بھی نہیں جب پشاور سے لے کر، کراچی تک تعلیمی داروں میں چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کو جان اور عزت کا خطرہ رہا۔
پاکستان کو اندرونی بیرونی سنگین مسائل پیش تھے اور حکمرانوں کا ایجنڈا اور تھا۔تب بھی یہ مولانہ اپنے دنیا میں مگن مست تھے۔ پاکستان کے تمام سرکاری ادارے خسارے میں اور ان کے کاروبار منافع کما رہے تھے۔ قومی ائیر لائن اور ریلوے تباہ و برباد ہو رہی تھی۔ یہ خاموش دیکھتے بلکہ فائدے اٹھاتے رہے
پاکستان کے جنگلات تباہ ہوئے۔ مگر یہ ہرے بھرے رہے
دریا سوکھ گئے۔ یہ اپنی دولت کے بہتے چشموں میں سکون سےبیٹھے رہے
کوئی ہنگامی کانفرنس نہ ہوئی ۔ کسی کو “عوام ” کا خیال نہ آیا۔ لیکن اِدھر ان کے وظیفوں اور مراعات کو خطرہ ہوا ہے اُدھر عوام کے حقوق یاد آگئے۔ عوام خطرے میں ہے کا بگل بجایا جانے لگا۔ احتجاج کی ایک آندھی چل پڑی ہے۔ “عوام” یہ لوگ کہتے کس کو ہیں آخر؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عوام ان کے لیے ایسا اپاہج بچہ ہیں جن کو دکھا دکھا کر یہ لوگ امداد اکٹھی کرتے ہیں۔ اپنی جیبیں بھرتے ہیں
یہ لوگ بھول چکے ہیں کہ آج عوام اچھی طرح اپنے دوست دشمن کو پہچان گئے ہیں ، اب ان لوگون کے یہ دعوے یہ ڈھکوسلے یہ مگر مچھ کے آنسوانکے کسی کام نہیں آئیں گے۔ کیونکہ یہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ
پاکستان کی معیشت تباہ ہورہی تھی۔ لیکن ان کو تکلیف نہیں ہوئی
پاکستان میں گلی گلی شہر شہر لوگ مر رہے تھے۔ ان کے ماتھے پر جوں تک نہیں رینگی
پاکستاں میں خانہ جنگی کا عالم رہا۔ اس کی کلیتہً فکر نہ تھی۔ یہ نیرو کی طرح چین کی بانسری بجاتے رہے۔
پاکستان کے عوام ملاوٹ شدہ اشیاء کے استعمال پر مجبور ہیں اس کا کبھی ذکر نہیں فرماتے۔ مومن اور صابر بندے ہیں نا؟ دوسروں کی تکلیف پرصابرو شاکر رہتے ہیں۔اپنی تکلیف پہ قیامت آجاتی ہے۔
عوام کو پینے کا صاف پانی تک میسّر نہیں۔ کوئی بات نہیں
حتیٰ کہ بعض گھروں میں بیماروں کو ضروری ذاتی ہائیجین کے لیے دو چلو پانی نہیں ملتا تو ان کی بلا سے۔عوام کو شدید ترین ہارٹ فیل کرنے والی گرمی میں بجلی نہیں ملتی۔ توکوئی بڑی بات نہیں۔ مہنگائی تنخواہ سے دس گنا زیادہ ہوگئی ہے۔ فَبِھَا۔۔۔ ان کی مراعات جو سلامت تھیں۔
عوام کے لیے علاج کی بنیادی سہولیات نہیں ۔ ان کے ماتھے پر شکن بھی نمودار نہیں ہوئی۔ یہ تندرست اور ہرے رہے
بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں کو ان کے عقیدے کی وجہ سے جو قیامت خیز مظالم سہنے پڑ رہے ہیں اس کا ذکر تک نہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو صرف گزر بسر نہیں بلکہ عیش و عشرت کواپنا حق سمجھتے ہیں۔ صرف اپنا حق۔ عوام کا پیسہ کھا جانا ان کی اتنی عادت بن چکا ہے کہ اب یہ لوگ اس کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔
ان کے پیٹ عوام کی حسرتوں کا مدفن ہیں
غرض ان کی دنیا اور سوچ خود ان سے شروع ہوکر انہی پر ختم ہوجاتی ہے۔ انکی تمام تراہلیّتیں اور فکریں اپنی ذات کے گرد گھومتی ہیں۔
آج جب عوام کی مشکلات حل ہونے کی صورت بن رہی ہے تو ان سے برداشت نہیں ہو رہا؟
قسم کھانےو الی بات کہ کبھی بھی کسی نے ان کو پاکستان کے لیے فکر مند دیکھا ہو؟
اور جو سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستانی کی حکومت میں رہ کر پاکستان کا کچھ سنورا رہے ہیں تو یہ بھی اوّل درجے کی خوش فہمی ہے۔
اگر ان کی کارکردگی ہی دیکھی جائے تو اتنے سالوں میں ان کی اہلیت کی بنا پر ہی ان کو فارغ کردیا جانا چاہئیے۔
اللہ کے فضل سے عوام ستر سال کے ہو گئےہیں۔ ہر کسی کا کچھا چٹھہ جانتے ہیں ۔ میڈیا کے توسط سے ان کی ظاہر ہی نہیں خفیہ “کارکردیاں” اور دیگر مکروہات سب عوام پر کھل چکے ہیں۔ اب ان نام نہاد لیڈران اصللیت طشت ازبام ہو چکی ہے۔اس لیے محترم مولوی صاحب آپ کی دال نہیں گلے گی۔ اب آپ صرف صبر کریں ۔ کاٹھ کی ہنڈیا بار بار چولہے پر نہیں چڑھتی۔ بہتر ہو کہ پہلی کوتاہیوں کی خدا سے معافی مانگیں۔ اور جو آپ کے پا س ہے اس کے مطابق اپنی زندگی پلان کیجیے۔ ۔ ورنہ ا س کا بھی زمین پر ہی احتساب نہ ہوجائے۔
انیسہ مسعود

SHARE

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY