*انقلابی شیعت بمقابلہ حسینی ع شیعت۔*پہلی قسط

0
1327

 *انقلابی شیعت بمقابلہ حسینی ع شیعت۔*
امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت اس قدر شدید ہے کہ وہ منتقم کربلا کے آنے تک جاری ہے اس میں اپنوں نے بھی اسی خون سے ہاتھ رنگین کیے ہیں۔ کسی کا مفاد مسجد کے ٹرسٹ سے شروع ہوتا ہے اور نام نمود اور مال کی ہوس اس میں جانیں لینے تک لے جاتی ہے۔ اسی مظلوم امام ع کی قربان گاہ کو کربلا سے تہران منتقل کرنے کی تگ و دو جاری و ساری ہے جو اب سے قریب پینتالیس سالہ کشمکش کی صورت میں نظر آرہی ہے۔ امام مظلوم ع کے فرزند سیدالساجدین ع اور امام کی شریک سیدہ زینب ع نے جس کربلا سے کوی سیاسی اور سماجی کاروای کشید نہیں کی بالکہ امام کی مظلومیٸت کو مقدم رکھ کے مقاصد واضح کیے امام سجاد ع کا امیر مختار کے جہاد میں شامل نہ ہونا بھی واضح ہے کہ جہاد یعنی عام جہاد بھی کوی کربلا کے مماثل نہیں ورنہ امام وقت ہوکر گھر میں بیٹھتے اور کوی کربلا جیسا جہاد ہوتا مگر ہماری گزشتہ صدی کے آخر میں مملکت ایران میں ملایٸت کے سیلاب میں ایک ایسا انقلاب برپا ہوا جس کو سیاسی طور پہ قبول کیا جانا یا پذیرای دینا درست ہوسکتا ہے مگر اس کو شیعت قرار دینا غلط۔ ایران کے اپنے سیاسی اہداف ہیں ان کا شیعت سے کوی تعلق نہیں بس اتنا ہے کہ ایران کے وہ سیاسی انقلابی قطعی بارہ امامی ہیں مگر اس امامت کی چودہ سو سالہ ترویج جس میں عصمت کے علاوہ کسی کی شمولیت کے گمان سے بھی مسلک شیعت پہ حرف آتا ہے بالکہ عقیدہ فسخ ہوجاتا ہے وہاں ایران نے اپنے سیاسی اور انقلابی رہنما کو امام اور ساتھ ایک رہبر کو پوجنا شروع کردیا۔ مسلہ بہت غور طلب ہے ~امام کیوں~ مسلک اہل بیت ع میں یہ حرام ہے اب ایران جو علماء سے لبریز تھا وہاں سےایسا کام ایران نے اپنے انقلاب کو اپنے ملک تک محدود اور نافذ کرنے کی نہیں ٹھانی انہوں نے دنیا بھر میں انقلاب کی برآمد کا سوچا اور اپنی حکومت کو اور طاقت کو ایک عالمی طاقت کا میں بدلنے کا خواب دیکھنا شروع کردیا۔ قوم منظم ہے محنتی ہے ثقافتی طور پہ محکم و مظبوط ہے یکجان ہے مگر اس کا مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اپنے نظریات کو ایکسپورٹ کرنا شروع کردیں *وہ بھی مذہبی نظریات کے* *لیبل کے ساتھ* اس چیز کا سب سے پہلا ہدف ایران نے جو دیکھا وہ مظلوم و منتشر پاکستان تھا جہاں ہر طرح کی جہالت اور عصبیت و فرقہ واریت کا بول بالا تھا شیعہ قوم کے ہاتھ میں مگر اچھا خاصا پیسہ یہاں موجود تھا ایران نے اپنا نظریہ یہاں ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور حسینی ع شیعت کے مقابلے میں انقلابی شیعت کو منظم کرنا شروع کیا پڑھے لکھے لوگ سامراجی طاقتوں یعنی مغرب سے متنفر تو تھے ہی اور انکو ایک یہ رستہ بھی مل گیا اتنے بڑے انقلاب سے متاثر ہونا بعید ازقیاس بھی تھا جس سے سنی بھی متاثر تھے کچھ نفرت سے دیکھ کے اپنا انقلاب تیار کررہے تھے کچھ اس کو تباہ کرنے کا سوچ رہے تھے تو جماعت اسلامی کی طرح کے ذہن اس سے کاپی کرکے فاٸدہ اٹھانے کا خواب بن رہے تھے۔ اب بھی لگے ہوے ہیں۔ اب دیکھیے ایران نے یہاں زمین ہموار کی اور ایکسپورٹ کیسے کیا انقلاب۔
*ایران نے یہاں پہ موجود مارکیٹ قبضہ کی جسے منبر کہا جاتا ہے۔*
ایران سے تربیت یافتہ نظریاتی لوگوں نے آنا شروع کیا آی ایس او طرز کی شیعہ جماعت اسلامی وجود میں آی اور اس کو بھی پاکستانی پس چلمن حلقوں سے مدد ملی جس کے بڑے اسباب ہیں۔ وہ درج ذیل ہیں۔
١۔شیعہ بنیادی نظریات دفن ہوجایں
یعنی معصوم کے بجاے مکمل اختیار ہو کوئی جس سے ثقیفہ مصدقہ ہوجاے گا۔
٢ شیعت میں جو کوئی دو تین شاخیں نہیں ہوتی تھیں دیوبند۔ بریلوی۔ اہل حدیث۔ وہابی۔ سلفی۔
پاکستان میں اس کی بنیاد رکھی گٸ اور وہ کامیاب ترین وہی
٣۔ ایران کی مدد ان کے فوجیوں کی تربیت ۔ امریکہ سے منفی کرنے میں مددگار۔
تین تو یو انتہائی خطرناک پہلو ہیں جس سے پاکستانی اسٹیبلشمینٹ نے فاٸدہ اٹھایا۔
پاکستان کے منبروں سے ولایت فقیہہ**_کی ترویج جو کسی اور ملک میں ممکن نہیں تھی کیونکہ ولایت فقیہ اگر ایک بھی ملک کی شیعت میں قابل انضمام وجاتی ہے تو ایران کی ولایت فقیہہ کو ایک ایسی نوعیت مل جاے گی جیسی کہ عثمانی خلافت کو جبکہ صدیوں سے اصولی اور غیر اصولی دونوں موجود تھے مگر یہ اصرار کے بس مقلد ہونا واجب ورنہ اعمال تباہ یہ ایرانی نعرہ ہے۔ سید رضی شارح مولف نہج البلاغہ۔ شیخ صدوق۔ علامہ مجلسی اور لاتعداد ہمارے بنیادی علمائے دین سب غیر مقلد تھے مگر اب ایرانی انقلاب کے بعد اس کی گجاٸش نیست۔ کیونکہ ایک گورکھ دھندا ہے جو ہے خمس اور خمس کو بھی توڑ مروڑ کے عالم کا حق بنادیا گیا جبکہ وہ سادات کا حق ہے اور رہے گا۔ قصہ یہ تھا کہ اسی خمس سے آپ ہی کے ملک میں نظریہ ایکسپورٹ ہورہا تھا۔ جس ہر منبر سے پگڑی والا خطیب ٹھیکیدار نافذ کردیا گیا جس کو کسی نے کراچی جیسے شہر میں دیکھا نہیں ہوتا وہ آکے مرکزی منبر پہ وارد ہوجاتا ہے اور اس کا پروٹوکول کسی بھی آی جی سے بڑا ہوتا ہے عمومی اندازے کے مطابق بڑا ترین مرکز دو کروڑ کا خرچہ ہے خطیب کی جیبب اس اکا لشکری پروٹوکول اس کی تشہیر سوشل میڈیا پہ قبضہ۔ درمیانے منبر ایک کروڑ کا بجٹ اور چھوٹے نو آموز پگڑی والے کے لیے پچاس لاکھ سے پچھتر لاکھ کا بجٹ یہ کہاں سے آتے ہیں کون ہیں کون ان کو چنتا ہے کون ان کو امام بارگاہ کے ٹرسٹ سے ملواتا ہے اور آپ کے شہروں میں رہنے والے خطیبوں کو ایام عزا میں کیسے غاٸب کرتا ہے اس میں سب پیسہ اور *خفیہ ہاتھ* شامل رہتا ہے۔
مثال کے طور پہ کراچی میں اس سال ستایٸس غیر مقامی پگڑی والے منبروں پہ نافذ تھے سب اہم جگہوں پہ مثلاً عارف کاظمی کو کون جانتا تھا کون لایا تھا۔ نصرت عباس بخاری رہبریت کے ہیرو۔ ہر سال کچھ نۓ چہرے بھی لانچ کیے جاتے ہیں جسے اس سال ایک مولوی یاور عباس زیدی آف قم ۔ مولوی ادریس الحسن آف آسٹریلیا بغل بچہ جان علی شاہ کاظمی اور بہت سے یہاں آکے سیاسی شیعت کو پھیلاتے ہیں آپ کے ہی خمس کا اربوں روپے اس چینل کی ریل پیل میں نکل جاتا ہے اور یہاں سیدانیاں بھیک مانگ رہی ہیں۔ پچیس گاڑیاں جس میں سب چار ہزار سی سی والی گاڑیاں لے کے قلیل الغروی پروٹوکول لے کے آتا ہے اور کہتا ہے کہ سادگی کرو عزاداری میں اور اس میں نذرانہ لینے والے خاٸن ہیں۔ اور یہاں کے بدھو واہ واہ واہ۔ کیونکہ وہ سب بھیڑ چال کا شکار ہیں سو آدمی آگے پیسے لے کے واہ واہ پیچھے والا گھامڑ أن کو دیکھ کے نقل۔ اس سیاسی شیعت نے پاکستان کے منبروں سے آلودگی پھیلا کے یہاں فرقہ واریت کو پھیلایا اور ہزاروں جانیں مستقل اس کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں آج بھی پارہ چنار لہو لہو ہے اور کوی اپنے اہداف متعین کرنے میں لگا ہوا ہے۔

تحریر،محب اہلیبیت

نوٹ، ادارہ عالمی اخبار کا محقق کی آرا سے متفق ہونا ضروری نہیں

SHARE

LEAVE A REPLY