پوری دنیا کی زبانیں کشمیر پر ہوتے ظلم پر خاموش ہیں کوئی نہیں دیکھ رہا کہ مہینہ بھر سے بھی زیادہ کرفیو کیا ظلم ہے ۔لیکن کوئی اس پر نظر نہیں کر رہا کہ یہ مظلوم جب نکلینگےتو کیسا عزاب آئیگا اس حکومت پر جس نے ان مظلوموں کو ظلم اور جبر کے نیچے دبا دیا ہے ۔کوئی خبر ہے نہ کوئی صورت حال سامنے آرہی ہے یہ ہی بات اگر کسی اسلامی ملک میں ہورہی ہوتی تو یہ سارے انسانیت کے علمبر دار نکل پڑتے موم بتیاں لے کر اور چیخ چیخ کر ساری دنیا کو اکھٹا کر لیتے کہ دیکھو کیسا ظلم ہو رہا ہے ۔ لیکن اس مہزب دور میں اس سپر پاورز کے دور میں اس ظلم پر کوئی طاقت بولنے کو تیار نہیں ۔افسوس کہ ہم انسان سے حیوان بن رہے ہیں ایسے معاشرے بنا رہے ہیں جہاں انسانیت پِس رہی ہے ۔لیکن انسانوں کے منہ پر مہر لگی ہے ۔ہم نہیں جانتے کہ یہ ظلم کے بگولے ہمیں اُڑا کر کہاں سے کہاں لے جائیں گے ۔
ہمارے ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے یا کیا جارہا ہے وہ بھی ابھی تک سمجھ سے باہر ہے ۔ نہ ابھی تک پولیس قابو آسکی اور نہ ہی بیورو کریٹس کو کوئی روک سکا من مانیوں سے وہ سب ہی مل کر شاید اس حکومت کو کمزور اور بے وقعت کرنا چاہ رہے ہیں ۔کیونکہ کوئی بھی ایسی حکومت نہیں چاہتا جس میں بے ایمانی کی پکڑ ہو یا کمانے کے بے جا رستے روکے جائیں یہ وہ طاقتیں ہیں جو مدتوں سے ملک میں فائدےے اُٹھا رہی ہیں اور من مانی کر رہی ہیں ۔لیکن دُکھ صرف اتنا ہے کہ ہم اب پھر ان ہی کے شکنجے میں اآگئے ہیں کیونکہ حکومت میں یہ سارے ہی پھر براجمان ہیں ۔ہم اس دن سے خوفزدہ ہیں جب کوئی یہ کہے گا کہ پہلی حکومت اچھی تھی ۔اس لئے کہ تباہی لگانے کے لئے جتنا لمبا عرصہ ہم سب نے ہی اُن حکومتوں کو دیا وہ بھی ہمارے ہی کھاتے میں جائے گا ۔
اپوزیشن کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کر رہی اس حکومت کو گرانے کا ۔اس میں وہ سارے لوگ شامل ہیں جو شاید سچائی اور عوام کی بہتری کے لئے نہ اپنی حکومتوں میں کچھ کر سکے اور نہ ہی اب انہیں عوام کے کسی بھی فائدے سے غرض ہے ۔وہ پہلے بھی عوام کو ہی استعمال کرتے تھے اور اب بھی عوام ہی کو استعمال کر رہے ہیں اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے اور عوام بے بس ہے کیونکہ بگڑے ہوئے اداروں کو ٹھیک کرنا آسان نہیں ہے لیکن جب ٹیم تگڑی نہ ہو تو یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔ہمیں لگتا ہے کہ حکومت بنانے کے لئے خان صاحب کو جن لوگوں کو ساتھ لینا پڑا وہ ان سے مُخلص نظر نہیں آتے چاہے وہ ایم کیو ایم ہو یا پی پی پی کے لوگ اور نون تو ہم سمجھ ہی نہیں پاتے کہ کیسے اس پارٹی کا حصہ بنی ۔کہ ہم بزدار صاحب کے ساتھ جن لوگوں کو دیکھتے ہیں سارے وہ ہی چہرے ہیں جو شھباز صاحب کے پیچھے پیچھے چلتے تھے ۔ہم کبھی کبھی بہت حیران ہوتے ہیں
کہ کس طرح ہمارے لوگ پھنستے ہیں ان ہاتھوں میں جنہیں وہ بہ خوبی جانتے ہیں کہ کچھ نہیں کریں گے کوئی اچھائی اُن کے نامے میں نہیں ہے ۔لیکن کس طرح وہ چھا جاتے ہیں ہر حکومت میں یہ بھی ایک مسئلہ ہی ہے۔ کاش خان صاحب نے نئے لوگوں کو آزمایا ہوتا۔ کم از کم ہم یہ سہولت تو انہیں دے سکتے تھے یہ تو کہہ سکتے تھے کہ نئے ہیں کچھ عرصے میں سیکھ جائیں گے ۔کاش خان صاحب آپ نے واقعئی ایک نئ ٹیم بنائی ہوتی ان تمام پرانے چہروں کو خیر باد کہہ کر ۔
ہمیں افسوس ہے کہ ہم عوام سے محبت کرنے والے ،ہر شخص کے ہاتھ میں تسبیح ہے اور ہر ایک کے سر پر پگڑی ہے ،اب کس سے انصاف مانگیں کہ یہ دھوکہ کھلا ہے ۔کہ یہ دونوں ہی چیزیں ایسی ہیں جو ہمیں ایک انتہائی خوبصورت تصور دیتی ہیں کہ ۔یہ ہمیں دھوکہ دیں گے نہ ہمارے حقوق کو غصب کریں گے لیکن ہے اس کا اُلٹ ۔جو جتنا دینی بنتا ہے اتنا ہی ہمیں دھوکہ بھی دیتا ہے اور رگڑ بھی دیتا ہے ۔سب ایسے نہیں ہیں لیکن ہم زیادہ تر کے ڈسے ہوئے ہیں ۔
آج مولانا فضل نے جو بات کی وہ سُن کر سوائے تکلیف کچھ نہیں ہوا ۔کیونکہ وہ جس طرح ہماری فوج کو بے توقیر کرتے ہیں وہ اُن کا اور نون کا طرہ امتیاز ہے ۔مولانا بھول جاتے ہیں کہ کس طرح ان کے بڑوں نے اُس وقت مجیب کا ساتھ دیا تھا اُسے چھڑا کر، کاش کبھی یہ بھی بتائیں ہم تو نہیں جانتے لیکن اینکرز جو بتاتے ہیں وہ تو یہ ہی ہے، کاش مولانا بھی سچائی کا ساتھ دیں اور اپنی اُس فوج کو طعنے تشنے دینے سے گریز کریں جن کے جوان سرحدوں پر جانیں دے کر ہماری حفاظت کر رہے ہیں ۔ملک کی سرحدوں کو محفوظ بنا رہے ہیں ۔کاش مولانا نے کشمیر کے لئے کچھ کیا ہوتا ۔کاش انہوں نے ان آٹھ سالوں میں جن میں یہ کاز ان کے ہاتھ میں تھا اس مسئلے کو اتنا مضبوط بنا کر پیش کیا ہوتا کہ مودی کی مجال نہ ہوتی انہیں اس طرح قید کرنے کی جس کی مثال دہائیوں میں نہیں ملتی ۔ظلم کہیں بھی ہو کسی پر بھی ہو ظلم ہے انسانیت کی تحقیر ہے انسان کی تزلیل ہے ۔اور یہ کرفیو تو شاید تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب بنے گا جسے کوئی بھی نہ دھو سکے گا ۔یہ ظلم اگر کامیاب ہوگیا تو شاید انسانیت روند دی جائیگی اس مہزب معاشرے میں جس کا حصہ ہیں یہاں کی سپر پاورز ۔مظلوم جب اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو ایسا طوفان آتا ہے جسے کوئی روک نہیں سکتا اور یہ جنگ اگر ہو ئی تو شاید دنیا بھر پر محیط ہو جائیگی اس لئے سب کو ہی سوچنا چاہئے ۔
کہتے ہیں اب ایسے فون لے کر کوئی پنجاب تھانے میں نہیں جا سکے گا جس میں کیمرہ لگا ہوا ہو ۔ اس خبر نے ہمیں چونکا دیا کہ کیا ہم اس قدر بے حس ہو سکتے ہیں کہ پولیس جو کچھ تھانوں میں کر رہی ہے اُ س سے سب کو بے خبر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اُن وحشیوں کے چہرے چھپے رہیں جو معصوم لوگوں کو ظلم کا نشانہ بناتے ہیں ۔ہم کیا کر رہے ہیں کیا جنگل کا قانون لانا چاہتے ہیں ملک میں ۔جس کو جو جی چاہے کرے کوئی دکھا نہیں سکے گا ،کاش کوئی تو ان باتوں پر آواز اُٹھائے ۔پنجاب پولیس کی جو کارکردگی ہے ۔وہ ان باتوں سے چھپی تو نہیں رہے گی ۔جو چُپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا ۔
ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ اس دفعہ اگر آس ٹوٹی تو پھر شاید ہم نہ قوم بن سکیں گے اور نہ ہی ملک میں ترقی ہو سکے گی اُن مسائل کو جو سب سے پہلے حل ہونے چاہئیں انکی طرف توجہ دیں اپنی ٹیم کو دیکھیں کالی بھیڑوں سے جان چھڑائیں ۔یہ جو آپ کے ارد کرد گھیہرا ہے اس کا جائزہ لیں چاہے آپ کا کتنا ہی قریبی ہو ۔آپ نے اپنے مخلص اور اچھے کارکن ان ہی لوگوں کی باتوں میں آکر گنوا دئے ہیں سوچیں نہ یہ پی پی پی والے آپ کے ہمدرد ہیں نہ یہ نان ایلکٹڈ جو آپ کے منظورِ نظر بن گئے ہیں یہ سارے وہ ہی ہیں جو زرداری صاحب کے لئے روتے تھے ،جو نواز کے شانہ بہ شانہ کھڑے تھے جو الطاف کے پیچھے کھڑے تھے ۔ جو مشرف صاحب پر جان دینے کو تیار تھے ،آج یہ ہی سب پھر دُھل پُچھ کر آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اپنی پارٹی کے لوگوں کو آگے لائیے اُن کو موقعہ دیجئے اُن سے کام لیجئے تاکہ نئے لوگ آگے آئیں اور ہم اِن پرانے برتنوں سے نجات پائیں جو اب قلعئی کے قابل بھی نہیں رہے ۔
اللہ میرے ملک کا حامی و ناصر ہو ۔آمین
یہ بگولے کہاں لے جائیں گے,عالم آرا
516
0












