برطانیہ میں کم عمر ترین خاتون صفا بولار کو دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے جرم میں عمر قید کی سزا سنادی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق 18 سالہ صفا بولار کو، جنہوں نے اپنی والدہ اور بڑی بہن کے ساتھ مل کر برطانیہ میں دہشت گرد تنظیم ’داعش‘ سے وابستہ خواتین کا پہلا سیل قائم کیا تھا، کم از کم 13 سال جیل میں گزارنے ہوں گے۔

صفا بولار کو اگست 2016 میں برطانوی انتظامیہ نے داعش کے جنگجو سے شادی کی خواہش میں شام جانے سے روکا تھا، جس کے بعد انہوں نے لندن میں دہشت گرد حملوں کا منصوبہ بنایا تھا۔

لندن کے اولڈ بیلے میں صفا بولار کو سزا سناتے ہوئے جج مارک ڈینس نے کہا کہ ’صفا کو معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہی ہیں اور انہوں نے سب کچھ کھلی آنکھوں سے کیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردی کے حوالے سے صفا کا نقطہ نظر بہت پختہ ہوگیا تھا جس کے زیر اثر آکر انہوں نے حملوں کی منصوبہ بندی کی۔‘

واضح رہے کہ رواں سال جون میں صفا بولار کی 22 سالہ بہن رزلین بولار کو بھی اس منصوبے میں شامل ہونے پر عمر قید کی سزا سنائی جاچکی ہے اور انہیں کم از کم 16 سال کی قید میں گزارنے ہوں گے۔

دونوں کی مراکشی نژاد والدہ مینا ڈِچ کو منصوبے میں معاونت پر 6 سال 9 ماہ کی سزا ہوئی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY