سفارتی تنازع شدت اختیار کرگیا، سعودی عرب نے کینیڈا جانے اور آنے والی اپنی تمام پروازیں معطل کردیں۔

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرتا، سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

سعودی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا کا موقف گمراہ کن معلومات پر مبنی ہے، جن افراد کا ذکر کیا گیا انہیں ملکی قوانین کے تحت گرفتار کیا گیا، ہمارے قوانین گرفتار افراد کے حقوق کا خیال رکھتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب نے کینیڈا میں زیر تعلیم طلبہ کو دوسرے ممالک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر کینیڈین وزیر خا رجہ کرسٹیا فری لینڈ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی رہائی کے مطالبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے حقوق انسانی حقوق ہیں اورکینیڈا انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا، خواہ یہ کینیڈا میں ہو یا دنیا میں کہیں بھی۔

کرسٹیا فری لینڈ نے مزید کہا کہ سعودی طلبہ کو کینیڈا میں تعلیم سے روکنے کا عمل شرمناک ہو گا۔

کینیڈین وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تنازع اتنی تیزی سےکیوں بڑھا، سعودی عرب ہی جواب دے سکتا ہے، آرمرڈ وہیکلز کی ڈیل کا مستقبل کیا ہوگا، ریاض سےتفصیلات کا انتظار ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا نے انسانی حقوق کے کارکنوں کی سزا ختم کر کے رہائی کا مطالبہ کیا تھا جس کے جواب میں سعودی عرب نے کینیڈا سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور کینڈا کے سفیر کو ملک سے بے دخل کر دیا۔

SHARE

LEAVE A REPLY