مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے پی ٹی آئی پر وارکیے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ دو جنونی ملک پر قبضہ کرنے آئے تھے، لیکن ایک ایک کرکے چلتے بنے۔

ہری پور میں مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ آج میں آپ کے پاس مسلم لیگ ن کا مقدمہ لے کر آیا ہوں، ہمیں اپنا مقدمہ وقت سے پہلے آپ کی عدالت میں کیوں لانا پڑا،یہ مقدمہ اس لیے لائے کہ محسوس کیا کہ صرف الزامات، گالیاں کتنی دیر سنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی و غیر سیاسی اداکاروں نے اس ملک میں جھوٹ بولنے کاٹھیکہ لے لیا ہےاور کوئی دھندا نہیں کرتے، یہ لوگ سارا دن جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتےہیں،ہمارے اقتدار میں آنے سےپہلے خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کا راج تھا، روز بم پھٹتے تھے،کوئی ملک پاکستان کا ہاتھ پکڑنے کو تیار نہیں تھا، اس وقت ہمارے لیڈر نے کہاتھا کہ ہم ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے پر یقین رکھتے ہیں۔

سعد رفیق کا کہنا تھا کہ ہم وہ باتیں نہیں کرتے جو پوری نہ کرسکیں، ہم اوروں کی طرح میٹھی گولیاں نہیں بیچتے، ہم نے وعدہ کیا تھا ملک کا انفرا اسٹرکچر ٹھیک کریں گے، کونسا وعدہ نوازشریف نے پورا نہیں کیا، یا پورا کرنے کی دیانتدارانہ کوشش نہیں کی، پہلے دن سے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، کبھی دھرنا ون، کبھی ڈنڈا بردار شاہراہ دستور پر قبریں کھود رہے ہیں، یہ ملک ڈنڈے کے زور پراور عسکری جدوجہد کے نتیجے میں نہیں بنا، ووٹ کی بنیاد پر بنا ہے،ملک ووٹ کی طاقت سے چلے گا، ووٹ کی طاقت سے لوگ آئیں گے، ووٹ ہی کی طاقت سے جائیں گے، جبر کے فیصلے ہم نہیں مانتے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم سیاست میں نئے نہیں آئے، ساتویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں، عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں، ہم نئے اداکار نہیں، سیاسی کارکن ہیں، بتاؤ تم نے جمہوریت کے لیے کیا کیا، لوگوں کو ووٹ کا حق دلوانے کے لیے تمہاری کیا خدمت ہے، آج حساب مانگتے ہیں، اپنا حساب کبھی نہیں دیا، یہ دنیا کا کونسا فلیٹ ہے لندن میں جسے بیچ کر بنی گالا میں ساڑھے 3 سو کنال کا گھر بن جاتا ہے، یہ ہیرے کا بنا ہوا فلیٹ تھا یا پلاٹینم کا بنا ہوا تھا، لوگوں کے انکم ٹیکس گنتے ہو، خود کتنا انکم ٹیکس دیتے ہو، اپنی آف شور کمپنی پکڑی گئی تو بولتی بند ہوگئی۔

سعد رفیق کا کہنا ہے کہ ہم نے تو پرویز مشرف کی آمریت میں ہر طرح کی مار کھائی ہے، تمہاری تلاشی شروع ہوئی تو تمہارا کیا بنے گا، کے پی کے میں ایک ارب درخت لگائے ہیں، ان درختوں نے سلیمانی ٹوپی پہن لی، نظرہی نہیں آتے، لوگوں کو بے وقوف سمجھتے ہو، لوگ بے وقوف نہیں ہوتے، تھرکنا، ناچنا،مخلوط تقریبات ہمارا کلچر نہیں ہے، ان کو اصل تکلیف ایک ہی ہے، سی پیک آگیا، اربوں ڈالر کی سرمایا کاری آرہی ہے،آج ادارے قدموں پر کھڑے ہورہے ہیں، کراچی کا امن لوٹ رہا ہے، پاکستان کے ریاستی ادارے آئین کے نیچے کام کررہے ہیں، ایک مثالی سول ملٹری اشتراک آج پاکستان میں آگے بڑھ رہا ہے،افواج پاکستان دہشت گردوں کی سرکوبی بھی کررہی ہے قوم کی تعمیر وترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لے رہی ہے، پاکستان کی سیاست کو چلانا بھی ہماری ذمہ داری بچانا بھی ہماری ذمہ داری۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آپ نے ادھار کی حکومت بنائی ہے، اگر ہم فضل الرحمان کی بات مان لیتے تو کے پی کے میں بھی ہمارا وزیراعلیٰ ہوتا، اگر ہمیں پتہ ہوتا یہ کباڑا کردے گا تو کبھی اس کو حکومت نہ بنانے دیتے، تم استعفے دے کر بھاگ جاتے ہو، ہم ان کی مٹی ہٹاکر تمہیں واپس اسمبلی میں لے آتے ہیں، تم کتنے کم ظرف ہو کہ قومی اسمبلی میں آکر گند ڈالتے ہو اور بی جمالو کا کردار ادا کرتے ہو، ان کا کردار بی جمالو والا ہی ہے، ان کا گراف گرتا جارہاہے، پی ایم ایل این کا گراف چڑھتا جارہاہے۔

سعد رفیق نے مزید کہا کہ پاناما کے نام سے یہ مقدمہ کرکے ہمیں داغدار کرنے کے لیے عدالت میں لے گئے ہیں، ان کے ہتھکنڈوں سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہماری قیادت کو داغدار کرنے کی سازش بند کی جائے، 2018ءکے الیکشن کی بات کرکے، یہ کم از کم مان تو گیا ہے کہ الیکشن 2018ءتک جائیں گے، ہمیں مصنوعی طریقے سے نکالنے کی جو بھی کوشش کرتا ہے غلط فہمی کا شکار ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپنی غلط فہمی دور کرلو، ہم لوہے کے چنے ہیں، چبانے کی کوشش کروگے تو دانت ٹوٹ جائیں گے،عوامی عدالت کا فیصلہ نواز شریف کے حق میں ہے، اگر ہمارے مخالف اکٹھے ہورہے ہیں تو ہمیں اعتراض نہیں، لیکن سازش نہیں ہونے دیں گے

SHARE

LEAVE A REPLY