سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو ایک بار پھر توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا۔ نہال ہاشمی نے عدالت سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ میرے نہیں جیل میں بند لوگوں کے ہیں۔
نہال ہاشمی نے عدالت سے رحم کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میں ایکٹینگ کر رہا تھا، عدالت کے سامنے شرمندہ ہوں، ایک موقع دیں ذہنی طور پر پریشان ہوں۔
نہال ہاشمی نے عدالت میں کہا کہ میں نے ساری زندگی اونچی آواز میں بات نہیں کی۔
چیف جسٹس نےریمارکس دیے کہ نہال صاحب یہ دوسرا واقعہ کیسے ہوگیا،آپ کو کالے کوٹ میں دیکھ کر شرمندگی ہے کہ ایک وکیل کو نوٹس کر رہا ہوں، کیا آپ سپریم کورٹ کے وکیل ہیں ؟
نہال ہاشمی نے کہا کہ میں نے لائسنس کے لیے درخواست دے رکھی ہے جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ دیکھنا ہے آپ کا لائسنس رہتا ہے یا نہیں۔
چیف جسٹس نے نہال ہاشمی کی بابا رحمتے والی وڈیو بھی منگوا لی۔
چیف جسٹس نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ تقریریں کرتے ہیں آپ کو کوئی پریشانی نہیں، سوچ لیں اس ادارے کو عزت دینی ہے یا اپنے دوست کو بچانا ہے، آپ کا جیل والا بوجھ ہم کب تک اٹھاتے رہیں گے؟ ۔
نہال ہاشمی کی ایکٹنگ والی بات پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کیا ایکٹر ہیں جو آپ نے ایکٹنگ کرکے دکھائی ہے ؟۔
عدالت نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے نہال ہاشمی کو پیر کو طلب کر لیا۔













