وزیراعظم شہباز شریف سے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس حوالے سے جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے خلیج میں حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فریق ایسے اقدامات سے گریز کریں جو خطے میں مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان ایک دیانتدار اور مخلص ثالث اور سہولت کار کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔
اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان کے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنے مضبوط عزم کا اعادہ کیا جبکہ ایرانی وزیرداخلہ نے ایرانی قیادت کی جانب سے وزیراعظم کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔
ایرانی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سرکاری حکام پر مشتمل وفد کی قیادت کر رہا ہوں۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ ایرانی وزیرِ داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل کی ثالثی کی انتھک کوششوں کو سراہا۔
ایرانی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے پائی۔
ایرانی وزیر داخلہ نے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر کے دورہ پاکستان میں بعض امور پر اتفاق کیا گیا تھا جن پر عملدرآمد ابھی باقی ہے، گزشتہ دورے میں معاہدوں اور فیصلوں پر عملدرآمد اور پیش رفت کو یقینی بنانے پاکستان آئے ہیں۔
پاکستان آمد پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ دورے کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ باہمی تجارتی حجم ابتدائی مرحلے میں 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا، پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔
ایرانی وزیر داخلہ نے کہا کہ تجارتی ہدف کے لیے ضروری ہے دونوں ممالک مناسب سہولیات اور بنیادی ڈھانچہ بنائیں، تجارتی ہدف کےلیے یومیہ دو ہزار ٹرکوں کی آمدورفت یا تجارتی نقل و حرکت درکار ہوگی۔
اسکندر مومنی نے کہا کہ ہدف کے برعکس اس وقت اس کا صرف 20 فیصد تجارتی آمد و رفت ممکن ہو رہی ہے، اقتصادی شعبے سمیت مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کو ضروری اقدامات کرنا ہوں گے، علاقائی تعاون اور خطے کی صورتحال بھی دورے کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔












