ہم سب ہی خود کو بیسویں صدی کے باشندے کہتے ہیں یعنی ہر بات میں کہا جاتا ہے یہ دو ہزار انیس ہے لیکن افسوس ہم ان سالوں میں جہاں تھے وہیں کھڑے ہیں ۔۔اسی پتھر کے دور میں یا شاید یا اس سے بھی بدتر دور ہے ۔جہاں دنیا ہر ظلم پر خاموش رہتی ہے ۔ سب ہی اپنا اپنا فائدہ دیکھتے اور پھر مسائل کی بات کرتے ہیں ۔جب کہ تہزیب سکھاتی ہے کہ سب انسانوں کا احترام کیا جائے سب کو جینے کا حق دیا جائے ۔سرحدوں کا احترام کیا جائے ۔اور اپنے ملک میں رہتی اقلیتوں کے ساتھ مساویانہ سلوک کیا جائے تاکہ معاشرہ ظلم اور جبر سے دور رہے ۔لیکن ہم اس کا اُلٹ دیکھ رہے ہیں ۔کوئی کسی کی حیثیت کو تسلیم کرتا ہے نہ اُسے جینے کا حق دینے کو تیار ہے کیونکہ وہ اسے اپنے سے کم گردانتا ہے ۔اور یہ ہی جہالت کی سب سے بڑی مثال ہے جو تہزیب یافتہ لوگوں کے دعوں کی نفی کرتی ہے اور دنیا میں تہزیب کے پرخچے اُڑاتی ہے ۔جس میں ہم سب ہی شامل ہیں لیکن کوئی اس کی طرف توجہ دینے کو تیار نہیں ہے ۔کیونکہ ہم سب ہی تہزیب یافتہ ہونے کے دعویدار ہیں جب کہ یہ دعویٰ اتنا ہی کھوکھلا جیسے صدیوں پرانے درخت کا تنا ۔
کراچی کو کچراچیئ بنانے والے ہر اُس قدم کی نفی کر رہے ہیں جو کراچی کے حق میں اُٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔صفائی کو نصف ایمان کہا جاتا ہے ،لیکن جس طرح پی پی پی نے کراچی کو اس نصف ایمان سے بھی دور کر دیا ہے وہ بھی عجیب و غریب بات ہے ۔کوئی بھی شہر کیسے اتنے بڑے مسئلے کو پیچھے چھوڑ کر سیاست کو اآگے لا سکتا ہے ۔یہ اکسفورڈ کے پڑھے یہ امریکہ سے ڈگریاں لئے ہوئے لوگ جس طرح اس بیچارے ملک کے عوام کو تکلیفوں میں مبتلا کرتے اور مہزب ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں وہ کچھ ان ہی لوگوں کا خاصہ ہے ۔کہ کام کچھ نہ کرو پیسہ کھائو ڈکار نہ لو اور ایسا ہضم کرو کہ سُراغ بھی نہ ملے ۔پھر شور مچائو سب کو غلط کہو اور کمزور زہنوں کو پھر مطیع بنا لو ۔
جب تک ہمارے ملک کے سیاست دانوں کی بھی اچھاڑ پچھاڑ نہیں ہوگی کہ کون کتنا ملک کا وفادار اور اس کے لئے کام کرنے کو تیار ہے جب تک شاید ہم کوئی بھی بہتری ملک میں نہ لا سکیں گے ۔کیونکہ یہ سارے وہ برتن ہیں جو اب قلعئی کے قابل بھی نہیں رہے ۔جو ،جوان ہیں جن سے ہم نے کچھ بہتری کی امیدیں قائم کر لی تھیں اُنکی باتیں سُن کر خوف اآتا ہے کہ کیسے بلاول ملک کے اندر دیش بنانے کی باتیں کر سکتے ہیں ۔اور اُن کے پیچھے کھڑے بڑے بڑے سیاست دان اُن کی بات کو جو اُن کی ہی پارٹی سے ہیں ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ہمیں افسوس ہوتا ہے کہ خود کو بچانے کے لئے کس طرح منہ سے یہ الفاظ ادا کئے جا سکتے ہیں ۔اآپ کا اختلاف ہزار بار برداشت ہے لیکن اآپ اپنے اختلاف پر ملک کو تقسیم کرنے کی بات کس طرح کر سکتے ہیں ۔ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ یہ ملک کے وفادار کس طرح اپنی زہنیت کا اظہار کرتے ہیں لیکن ہمارے وہ ادارے جنہیں ان باتوں کا نوٹس لینا چاہئے خاموش رہپتے ہیں منہ میں کُھنگنیاں ڈالے ۔کہ کہیں کوئی شُنوائی نہیں ہوتی ۔کیونکہ جسٹس صآحب محترم نے کوئی بھی نوٹس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔لیکن بلاول دودھ پیتے بچے نہیں ہیں کہ ان کے منہ سے یہ بات نکل گئی ۔
ہم تو اینکرز اور تجزیہ کاروں پر بھی حیران ہیں کہ اتنی بڑی بات کو وہ بھی شربت سمجھ کر پی گئے ۔ہمیں کسی پارٹی سے کوئی غرض نہیں لیکن ہمیں اپنے ملک سے پیار ہے ہم اُسے اآگے بڑھتا اور ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن جہاں جوان سوچیں اتنی بد تہزیب ہوں کہ انہیں یہ پتہ ہی نہ ہو کہ اُن کی بات کتنی تکلیف دہ اور کتنی بے حسی پر مبنی ہے انہیں کس طرح کوئی کسی پارٹی کا سر براہ سمجھے ۔اگر ایسے لوگون کو رستہ ملتا رہا تو انکی سوچیں کہاں لے جائیں گی یہ سوچنا ارب اختیار کا کام ہے ۔کیونکہ ہم ان ہی بڑی بڑی باتوں کو چھوٹا سمجھ کر پپیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور یہ سوچیں ہی ہمیں پھر بھگتنا بھی پڑتی ہیں ۔اس لئے ایسی سوچوں پر سختی سے ایکشن لینا چاہئے ۔تاکہ پھر کسی کو یہ ہمت نہ ہو کہ وہ کسی بھی دیش کی بات کرے ۔ کیا پیغام دے رہے ہیں دنیا کو جو اپنے ملک کا نہیں وہ کسی کا بھی نہیں ہو سکتا ، یہ ہماری سوچ ہے اختلاف سب کا حق ہے ۔
مولانا پھر متحرک ہیں اور ہم انکی تحریک پر حیران ہیں کہ کس سے اآزادی کی خواہش ہے ۔اور سب سے امید افزا خبر یہ ہے کہ نون لیگ بھی اُن کے اس آزادی مشن میں اُن کے ساتھ کھڑی ہوگی اور مولانا نے یہ بھی کہا ہے کہ پی پی پی لاکھ نہ کہے لیکن ہمارے ساتھ ہے ۔ہمیں یقین ہے کہ یہ سب آپ کے ساتھ ہیں کیونکہ سب ہی مار کھا رہے ہیں کرپشن پر یہ ساتھ نہیں دیں گے تو کون دے گا ِ؟۔لیکن ہمیں دُکھ ہے کہ ایسے موقے پر جب کشمیر کا مسئلہ کھڑ اہے جب دنیا تمام اسلامی ممالک کی طرف گِدھ بن کر نوچنے کو کھڑی ہے ہم کسی صرت ایک نہیں ہورہے کیونکہ ہمیں نہ تو ملک سے کوئی تعلق ہے نہ ہی اپنے عوام سے کوئی مطلب ہے ۔بس جب تک ہماری جھولی بھرتی ہے جب تک ہم ساتھ دیتے ہیں جیسے ہی اسے جھاڑا جاتا ہے ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں ۔مدرسے کے طلبہ کو ایسی باتوں میں شامل کرنا ہمیں تو کسی صورت ٹھیک نہیں لگتا ویسے ہمارے ملک میں جس طرح کا ماحول ان سالوں میں بنا دیا گیا ہے ہمیں کچھ بھی نا ممکن نہیں لگتا ۔جب انصاف صرف اور صرف بڑوں کا غلام بنا دیا جائے جب فیصلوں میں اتنی تاخٰیر ہو کہ مقدمہ کرنے والا دنیا سے چل بسے ۔جب گواہ ہی نہ ملیں ۔جب شھادتیں نہ مانی جائیں ۔جب سب کچھ ٹیکنیکل بنیادوں پر ختم ہو جائے ۔جب ادارے کمزور کر دئے جائیں ۔جب صرف باتیں کی جائیں عمل کہیں نظر نہ آیئے تو پھر یہ ہی سب کچھ ہوتا ہے جو ہم آج بُھگت رہے ہیں لیکن آنکھیں پھر بھی نہیں کُھلتیں ۔ہم اب بھی مولانا جیسے لوگوں کے پہیچھے کھڑے ہیں ۔۔۔۔
ہمیں جماعتِ اسلامی پر بھی افسوس ہوتا ہے یہ وہ جماعت ہے جو سچ اور حق کی دعویدار ہے لیکن یہ بھی مصلحتوں میں گِھر جاتے ہیں تو ہمیں اچھا نہیں لگتا کیونکہ ہم نے مولانا مودودی محترم کے وقت بھی یہ جماعت دیکھی ہے جب ان سے زیادہ اُصولی اور مُنظم جماعت کوئی اور نہیں تھی ۔
سندھ میں جو کوئی بھی کراچی کو ٹھیک کرنے کی بات کر رہا ہے اُسے وہ وہ سننی پڑ رہی ہے کہ بس ۔ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب کچرا اُٹھانا نہ مئیر کا کام ہے نہ کسی ادارے کا تو بھائی پھر کچرا اُٹھانے کی زمے داری کسی کو بھی دے دو ؟ لیکن اُ س پیسے کا حساب تو دو جو تم نے اس مَد میں لیا تھا ۔۔مصطفے کمال نے یہ ہی تو پوچھا تھا کہ کتنے گھوسٹ جمعدار ہیں جن کی تنخواہیں لی جارہی ہیں لیکن وہ موجود نہیں ہیں تو اُن سے صفائی کی زمے داری واپس لے لی ۔÷ہم آپ سب سے شرط لگاتے ہیں جو بھی حساب مانگے گا وہ گھر جائیگا ،کیونکہ ہمارے ملک میں حساب دینے کا اور یہ بتانے کا رواج نہیں ہے کہ کہاں خرچ کیا ؟کسے دیا ؟اور کہاں لگایا کہ یہ بد تہزیبی کی باتیں ہیں ۔تہزیب میرے ملک کی یہ ہے کہ جتنا چاہے کھائو ،جتنا چاہے لوٹو ،جتنا چاہے باہر لے جاؤ جتنا چاہے ملک میں اپنے اوپر خرچ کرو بڑے بڑے گھر بناؤ کہاں سے بنے کوئی نہیں پوچھے گا ۔نہ جواب دو نہ بتاؤ کہ کہاں سے آیا زیادہ مشکل میں پڑ جاؤ تو دارِ فانی سے کوچ کر جانے والے نانا ، دا دا کا نام لے لو ، اللہ اللہ خیر صلیٰ، جتنے بڑے کھانے والے اتنا بڑا عہدہ آپ کا منتظر ۔۔ تہزیب کو رکھو ایک طرف ۔اقدار کو بند کرو مٹکے میں اور کردار کو سلاؤ افیون کھلا کر کہ بس یہ ہی ملک سے محبت ہے اور یہ ہی تہزیب کا سب سے بڑا شاہکار کہ جتنا بڑا کرپٹ اتنا بڑا اعزاز کبھی صدر کبھی وزیرِ اعظم ۔کبھی وزیرِ اعلیٰ اور کبھی کوئی اور بڑا عہدہ آپ کے لئے پلیٹ میں تیار ۔
اب بھی سوتے رہے تو شاید کبھی بھی جاگ نہ سکیں گے کہ وقت غلام نہیں ہے وہ بھاگتا ہے گزرتا ہے بغیر یہ دیکھے کہ اسکی رفتار نے کسے کسے رگید دیا اپنبے بھنور میں ،پلٹ کر دیکھو تو کچھ بھی نہیں بچتا سوائے ناکامی اور نامرادی کے ۔اس لئے وقت کو پکڑو کہ یہ ہی ساتھ دے گا اگر صحیح استعمال کر لیا تو ۔۔۔۔۔
اللہ کشمیر سے ظلم اور ستم کو ختم کرے ۔میرے ملک کو قائم اور دائم رکھے آمین
مہزب دنیا میں تہزیب کے پرخچے,عالم آرا
678
0











